اسلام آباد میں لیاری اور بنگلہ دیش کالونیاں ۔۔۔؟؟ تحریر: انجینئر اصغر حیات

شہری زندگی ہو یا دیہی دونوں کے الگ الگ مسائل ہیں، دیہاتوں میں بنیادی سہولیات کا فقدان، تعلیم کے ناکافی مواقع، صحت کی ناکافی سہولیات، ملازمتوں کے مسائل ہیں تو شہروں میں تعلیم، صحت کی بہترین سہولیات میسر ہیں اور ملازمتوں کے مواقع بھی، تبھی لوگ دیہاتوں کو چھوڑ کر شہر کا رخ کرتے ہیں، بڑی تعداد میں لوگوں کے شہروں کا رخ کرنے اور شہروں کے پھیلنے کے عمل کو اربن آئزیشن کہتے ہیں، اربن آئزیشن کی وجہ سے ہمارے تقریبا تمام شہروں کا نقشہ بگڑنے لگا ہے،والد صاحب بتاتے تھے کے جب انہوں نے اسلام آباد میں ملازمت اختیار کی تو پشاور موڑ سے لیکر آبپارہ تک جنگل ہی جنگل ہوتا تھا،

آج اسلام آباد روات ، نیلور، بنی گالہ، بارہ کہو اور ٹیکسلا تک پھیل چکا ہے اور مزید پھیلتا ہی جارہا ہے، سی ڈٰی اے کا ماسٹر پلان 1960 میں بنا ہر بیس سال بعد اس پر نظرثانی ہونی تھی لیکن 58 سال گزرنے کے باوجود ایسا نہ ہو سکا، 110 ہاوسنگ سوسائٹیاں تو ایسی ہیں کہ جو غیر قانونی ہیں، سی ڈٰی کی طرف سے غیر قانونی قرار دیے جانے کے باوجود یہ سوسائٹیاں تعمیرات جاری رکھے ہوئے ہیں، نہ ہی پینے کا پانی ہے اور نہ ہی سیوریج کا نظام، اکثر و بیشر سوسائٹیوں میں تو مارکیٹس، گرین ایریا ، کھیلوں کے میدانوں اور مساجد کی جگہ تک نہیں رکھی گئی، آڈیٹر جنرل کی رپورٹ میں ان سوسائٹیوں کے نام سنہری حروف میں موجود لیکن کاروائی کون کرے؟ جدھر دیکھو بے ہنگم تعمیرات چاہے وہ سوسائٹیاں ہوں، مارکیاں یا شادی ہالز ہوں، یا فارم ہاوسز ہوں، کمرشل ایریاز ہوں یا رہائشی سیکٹرز ان کو روکنے والا کوئی نہیں، جب شہر بنانے والے ہی بک جائیں تو شہر کی دیکھ بحال کون کرے گا؟ ایسا ہی کچھ شہر اقتدار کے ساتھ ہورہا ہے، گزشتہ دنوں انسٹیوٹ آف اربن ازم کی طرف سے صحافیوں کیلئے ٹریننگ کا اہتمام کیا گیا،ادارہ تحفظ ماحولیات کی ڈی جی فرزانہ الطاف نے ایک تشویشناک بات کی، فرزانہ الطاف شہر کی آب و ہوا اور ماحول کو بہتر بنانے کیلئے کوشاں ہیں، انہوں نے تاجروں سے لڑ کر اسلام آباد میں شاپنگ بیگز پر پابندی پر عمل درآمد کروایا، ٹریننگ کے دوران ان کا کہنا تھا کہ اگر اسلام آباد میں ہونے والی اس بے ہنگم تعمیرات کو نہ روکا گیا تو اسلام آباد کا حال بھی کراچی سے مختلف نہیں ہوگا، یہاں بھی لیاری اور بنگلہ دیش کالونیاں بنیں گی، اب ایک خوبصورت شہر جسے مارگلہ کی پہاڑیوں کی وجہ سے یہاں آباد کیا گیا، آج اس شہر نے

مارگلہ پہاڑیوں کا کیا حال کردیا ہے؟ سید پور ویلج سے اوپر جائیں تو احساس ہوگا کہ مارگلہ کی پہاڑیوں پر نیا شہر آباد ہو چکا ہے، پہاڑیاں کھود کر دھڑلے سے نئی تعمیرات بھی جاری ہیں، میں نے چند ماہ قبل رپورٹ کیا، چیئرمین سی ڈی اے نے نوٹس لیا، انفورسمنٹ کی ٹیمز نے بھی سید پور کا وزٹ کیا لیکن کوئی ایکشن نہیں ہوا، مارگلہ کی خوبصورت پہاڑیوں سے صاف پانی کے چشمے پھوٹتے ہیں، ٹریل فائیو اور ٹریل سکس پر جاکر ان چشموں کا نظارہ کیا جاسکتاہے، یہ چشمے شہر میں داخل ہوتے ہی گندے پانی کے نالوں میں تبدیل ہوجاتے ہیں، ان نالوں کے ارد گرد واقع آبادی اور ڈھابے تمام گند اور کوڑا کرکٹ ان نالوں میں

پھینک دیتے ہیں لیکن شہر کے نگہبان جانے کہاں سو رہے ہیں، راول ڈٰیم کو ہی دیکھ لیں، بظاہر صاف نظرآنے والے راول ڈیم کے پانی میں ہر طرح کا گند شامل ہوتا ہے، بری امام اور قائد اعظم یونیورسٹی کی طرف سے راول ڈیم کے راستے میں قائم آبادیوں کے باتھ رومز کا فضلہ بھی اسی ڈیم کے پانی میں شامل ہوتا ہے، راول ڈیم میں 9 چھوٹے نالے آکر ملتے ہیں سب کا یہی حال ہے، سالڈ ویسٹ کی مقدار زیادہ ہونے سے اس پانی میں آکسجن کی مقدار انتہائی کم ہوجاتی ہے، اور یہ مچھلیوں اور دیگر آبی حیات کیلئے جان لیوا ہے، اسی لیے ہر سال ہزاروں مچھلیاں راول ڈیم میں مر جاتی ہیں، راولپنڈی کے شہری اسی گندے پانی کی

وجہ سے پیٹ، معدے اوردیگر امراض کا شکار ہوتے ہیں، لیکن ادارے ٹس سے مس نہیں ہوتے، بلیو ایریا پھیل کر ایف ٹین تک چلا گیا، جی الیون میں بڑی تعداد میں کثٰر المنزلہ عمارتیں بغیر این او سی کے بن گئیں، بنی گالہ میں بے ہنگم تعمیرات کی وجہ سے ایک الگ شہر آباد ہو گیا، 58 سال بعد ماسٹر پلان پر نظرثانی ہو رہی ہے، ہمیں دیکھنا ہوگا کہ کہیں یہ نظرثانی تمام غیر قانونی تعمیرات کو قانونی شکل دینے کیلئے تو نہیں ہورہی، ماسٹر پلان کی نظرثانی کیلئے شہریوں کو مشاورتی عمل میں شامل کرنا ہوگا، ان بے ہنگم تعمیرات کو نہ روکا گیا تو آنے والے چند سالوں میں اس شہر میں سنجیدہ نوعیت کے مسائل پیدا ہونگے جن کا حل آنے والے کئی دہائیوں تک ممکن نہیں، ماسٹر پلان پر نظرثانی کے ساتھ ساتھ متبادل پر بھی سوچنا ہوگا، سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے شہروں کو اسی رفتار سے پھیلانا ہے اور اسلام آباد میں بھی لیاری اور بنگلہ دیش کالونیاں بنانی ہیں یا چھوٹے چھوٹے شہر آباد کرکے صحت ، تعلیم اور ملازمتوں کے مواقع وہاں فراہم کرنے ہیں۔