طلباء تنظیموں پر پابندی ختم،حکومت نے اعلان کردیا

لاہور (نیوز ڈیسک)گزشتہ ہفتے اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کے جھنڈے تلے ہونے والے ملک گیر مظاہروں کے بعد سندھ حکومت نے طلبہ یونینز پر سے پابندی ہٹانے کا اعلان کردیا ہے۔ذرائع کے مطابق وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے صوبے بھر میں طلبہ یونینز پر سے پابندی ہٹانے کی باقاعدہ منظوری دیدی ہے۔ذرائع کے مطابق طلبہ یونیز کی بحالی سے متعلق سمری جلد سندھ کابینہ میں پیش کی جائیگی۔ صوبائی کابینہ سے منظوری کے بعد اسے سندھ اسمبلی سے منظور کرایا جائیگا۔ذرائع کے مچابق اس حوالے سے وزیراعلیٰ سندھ نے حال ہی میں مختلف طلباء تنظیموں کے نمائندوں سے ملاقات بی کی ہے اور انہیں طلبہ یونینز جلد بحال

کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔خیال رہے کہ 29 نومبر کو اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کے جھنڈے تلے سینکڑوں نوجوانوں نے طلبہ ہونینز کی بحالی، کیمپس میں ہراسگی، طبقاتی نظام تعلیم، قومی، صنفی و مذہبی تعصب کے خاتمے، ہاسٹل اور ٹرانسپورٹ کی فراہمی کے لیے ملک بھر میں مظاہرے کیے تھے۔حکومتی وزراء اور حزب اختلاف کے رہنماؤں بشمول چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری اور وفاقی وزیر فواد چودھری نے طلبہ مارچ کا خیر مقدم کرتے ہوئے یونینز پر پابندی ہٹانے کی حمایت کی تھی۔طلبا یونینز پر پابندی فوجی آمر جنرل ضیاء الحق کے دور میں عائد کی گئی، ملک میں جمہوریت کی بحالی کے بعد 1988 میں محترمہ بےنظیر بھٹو نے طلبہ یونین سے پابندی ہٹانے کا اعلان کیا لیکن تین سال کے اندر یونین سازی کو اس بنیاد پر عدالت میں چیلنج کر دیا گیا کہ یہ تشدد کو فروغ دیتی ہیں۔2008 میں پیپلز پارٹی کی حکومت کے برسراقتدار آنے کے بعد اس وقت کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے اپنے پہلے خطاب میں طلبہ یونین کی بحالی کا اعلان کیا لیکن پیپلزپارٹی پانچ سال اقتدار میں رہنے کے باوجود اس پر عمل درآمد نہ کرا سکی۔اگست 2017 میں سینیٹ نے اتفاق رائے سے ایک قرارداد منظور کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ ملک کی یونیورسٹیوں میں طلبہ تنظیموں کو پوری طرح سے بحال کرنے کی ضرورت ہے۔