افشاں لطیف کے شوہر کے تانے بانے شہباز شریف سے ملنے لگے

لاہور(نیوز ڈیسک) صوبائی وزیر اطلاعات پنجاب فیاض الحسن چوہان نے کہا ہے کہ سابق سپریٹنڈنٹ کاشانہ نے صوبائی وزیر پر گندا الزام لگایا۔ افشاں لطیف کے خلاف محکمانہ تحقیقات کی گئی،قصور وار ٹھہرنے پر ٹرانسفر کردیاگیا۔یہ ڈراما ہے کیس میں کچھ نہیں عدالت جائیں گے تو وہاں بھی کچھ نہیں نکلے گا۔افشاں لطیف کےشوہر نوشاد لطیف شہبازشریف کے ذاتی عملے میں رہے ہیں۔افشاں لطیف نے الزام لگایا کہ مجھے اور میرے میاں کو گرفتار کیاجا رہا ہے۔خیال رہے کاشانہ لاہور کی سابق سپرنٹنڈنٹ افشاں لطیف نے اپنی برطرفی کی وجہ بتاتے ہوئے الزام عائد کیا تھا کہ کاشانہ میں زیر پرورش کم عمر بچیوں کی شادیاں نہ کروانا میرا جرم بن گیا ۔ سرکاری ادارے سوشل ویلفیئر اینڈ بیت المال کی سابق سپرنٹنڈنٹ افشاں لطیف نے اردوپوائنٹ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ’میری

جاب اچھی جارہی تھی،انہوں نے سابق وزیر اجمل چیمہ پر الزام لگایا تھا کہ لڑکیوں کی عمر پندرہ سے لے کر سترہ سال تھی۔جن حضرات کے ساتھ شادیاں کروانی تھیں وہ افشان کرن کے خاص تھے ۔ اس ساری کارروائی میں صوبائی سابق وزیر اجمل چیمہ بھی ملوث تھے۔تاہم اب کاشانہ لاہور کی سابق انچارج افشاں لطیف نے نجی ٹی وی کے شو میں گفتگو کرتے ہوئے کہاہے کہ ہمیں کاشانہ ہاوٴس میں بچیوں کے لئے ایک مسجد کی ضرورت تھی تو اشرف نامی شہری نے مسجد بنواکر دی اور مسجد بننے کے بعد رہنما تحریک انصاف و صوبائی وزیر اجمل چیمہ نے راتوں رات اپنے نام کی تختی لگوا دی۔واضح افشاں لطیف صوبائی وزیر اجمل چیمہ پر بازو پکڑاپنے جانب کھینچنے کا الزام بھی لگاتے ہوئے کہا تھا کہ اجمل چیمہ مجھے منسٹر بلاک کے چھوٹ کمرے میں لے گئے۔