حکومت کا کام نوکریاں پیدا کرنا ہوتا ہے، وزیراعظم عمران خان نے نوجوانوں کو روزگار دینے کا اعلان کردیا

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وزیرعظم عمران خان نے کہا ہے کہ سب سے زیادہ نوکریاں ٹورازم سیکٹرمیں ملیں گی، حکومت کا کام نوکریاں پیدا کرنا ہوتا ہے، حکومت لوگوں کو روزگار دینے اور کاروبار میں آسانیاں پیدا کرے گی، پاکستان کاروبارمیں سہولت پیدا کرنے والے ممالک میں 25 ویں نمبر پر آگیا،کاروباری میں آسانی پیدا کرنے پر پاکستان 28 پوائنٹ اوپر چلا گیا۔اسلام آباد میں کامیاب جوان پروگرام کے تحت چیک تقسیم کی تقریب میں خطاب شروع کرنے سے قبل وزیراعظم نے کہا کہ ‘نوجوان کہتا ہے کہ سنا ہے، عمران خان کرپٹ لوگوں سے ہاتھ نہیں ملاتا’۔وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ ‘اس پروگرام میں سب سے زیادہ خیال رکھنا

ہے کہ اس پروگرام میں شفافیت ہو اور چیک میرٹ پر تقسیم ہوں کیونکہ لوگوں کو امید ہے کہ حکومت ان کے کاروبار میں تعاون کرے گی’۔ان کا کہنا تھا کہ ’15 یا 20 دنوں میں تقریباً 10 لاکھ لوگوں نے قرضوں کے لیے رجوع کیا اس لیے لوگوں کو امید ہے اور مجھے خوشی ہے کہ خواتین نے اس میں پوری طرح شرکت کی ہے’۔وزیراعظم نے کہا کہ ‘ابھی تک ایک لاکھ 90 ہزار خواتین نے اپنے کاروبار کے منصوبوں کی خاطر قرض کے لیے درخواست دی’۔انہوں نے کہا کہ ‘اس پروگرام کی سب سے بڑی بات یہ ہے کہ حکومت چھوٹے اور درمیانی درجے کے کاروبار کو سہولت دے رہی ہے، حکومت کا کام کاروبار کے راستے میں آنے والی رکاوٹ کو ختم کرنا ہے’۔کامیاب نوجوان کے حوالے سے منعقدہ تقریب میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ‘میں جب پہلی مرتبہ برطانیہ گیا تو مانچسٹر کی ساری ٹیکسٹائل صنعت یہودیوں کے پاس تھیں لیکن یہاں سے لوگ گئے جنہوں نے مزدوری بھی کی اور چھوٹے کاروبار والے بھی گئے اور میرے دیکھتے دیکھتے 10 سال میں مانچسٹر میں ٹیکسٹائل کا کاروبار پاکستانیوں کے ہاتھ میں آگیا’۔ان کا کہنا تھا کہ ‘کپاس خود پاکستان کی پیداوار ہے اس کے باوجود کیا وجہ ہے کہ وہ پاکستان میں اپنا کاروبار کیوں نہیں شروع کرسکے، حالانکہ ہمیں زیادہ آسان ہونا چاہیے تھا’۔عمران خان نے کہا کہ ‘کامیاب معاشروں اور جو پیچھے رہ جاتے ہیں ان معاشروں میں فرق ہی یہ ہے کہ کامیاب معاشروں میں میرٹ ہوتا ہے اور کاروبار شروع کرنے کے لیے مواقع اور سہولتیں دیتے ہیں پھر جس نوجوان کے اندر جنون اور محنت کرنے کا جذبہ ہوتا ہے وہ اس معاشرے میں اوپر آجاتا ہے’۔انہوں نے کہا کہ ہر کوئی معاشرے میں کامیاب نہیں ہوسکتا لیکن جس میں محنت کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے وہ کامیاب ہوتا ہے اور اسی کو میرٹ کہتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ‘ہمیشہ وہ ملک آگے بڑھتا ہے جس کا میرٹ کا نظام بہتر ہوتا ہے جہاں نظام اور ادارے ایسا بناتے ہیں جو اس ملک کی میرٹ کو آگے لے آتی ہے’۔