فاطمہ سہیل کے نام سے منسوب سوشل میڈیاپر وائرل ویڈیو کی حقیقت سامنے آگئی

لاہور (نیوز ڈیسک) ماڈل فاطمہ سہیل کا نام اس وقت خبروں کی زینت بنا جب انہوں نے کچھ عرصہ قبل اپنے شوہر اور مشہور گلوکار محسن عباس حیدر پر تشدد کرنے کا الزام لگایا اور کچھ تصاویر بطور ثبوت پیش کیں۔اگرچہ ماڈل فاطمہ سہیل اور اداکار و گلوکار محسن عباس حیدر کا ازدواجی سفر اختتام پذیر ہو گیا ہے،تاہم گذشتہ کچھ روز سےا یک نازیبا ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی جسے فاطمہ سہیل سے منسوب کیاجا رہا ہے تاہم ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ وائرل ہونے والی نازیبا ویڈیو فاطمہ سہیل کی نہیں ہے۔تفصیلات کے مطابق سوشل میڈیا پر نازیبا ویڈیوز وائرل ہونا اب معمول بن گیا ہے۔جس کی زد میں زیادہ تر سوشل میڈیا

سٹارز آتے ہیں۔کچھ عرصہ قبل گلوکارہ رابی پیرزادہ کی نازیبا ویڈیوز وائرل ہوئیں جس کے بعد چند ہفتے قبل ماڈل ثمرہ چوہدری کی بھی نازیبا ویڈیوز وائرل ہوئیں۔بات یہیں پر ختم نہ ہوئی گذشتہ کچھ روز سے ایک اور ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے جسے صارفین کی جانب سے سوشل میڈیا پر بھی شئیر کیا جا رہا ہے۔ویڈیو میں دیکھے جانے والی خاتون کے بارے میں کہا گیا کہ یہ نیوز میڈیا سے تعلق رکھنے والی فاطمہ سہیل ہیں۔فاطمہ سہیل کی بہن کا اس حوالے سے انڈیپنڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ویڈیو میں موجود لڑکی فاطمہ نہیں ہے۔انہوں نے اس ویڈیو کی تشہیر کا الزام فاطمہ سہیل کے سابق شوہر پر عائد کیا۔اینکر پرسن عائشہ سہیل کا مزید کہنا ہے کہ انہوں نے اس حوالے سے ایف آئی اے کو درخواست دی ہے کہ وائرل ہونے والی ویڈیو میں دیکھے جانے والی لڑکی فاطمہ سہیل نہیں ہے اور اُن کا نام غلط استعمال ہو رہا ہے۔درخواست میں یہ بھی کہا گیا کہ یہ سب ان کے کرئیر اور خاندان کے لیے ٹھیک نہیں ہے۔ویڈیو کو شئیر کرنے والے تمام لنکس کو بند کیا جائے اور انہیں سوشل میڈیا سے ہٹایا جائے۔جب کہ ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ سائبر ونگ کی فارنزک ڈپارٹمنٹ نے اس ویڈیو کا فرانزک ٹیسٹ کیا ہے،ویڈیو میں دیکھی جانے والی خاتون فاطمہ سہیل نہیں ہیں بلکہ ان سے ملتی جلتی خاتون ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ یہ جانچ انہوں نے چہرے کے نقوش کے ذریعے کی ہے جیسے ناک اور بھنوؤں کے درمیان کا فاصلہ ہے۔