وکلاء نے صوبائی وزیر فیاض الحسن چوہان کی پٹائی لگا دی،بالوں سے پکڑ کر نوچتے رہے

لاہور(نیوز ڈیسک)وکلاء نے صوبائی وزیر فیاض الحسن چوہان پرکو تشدد کا نشانہ بنادیا۔ تفصیل کے مطابق صوبائی وزیر اطلاعات پنجاب فیاض الحسن چوہان پر پی آئی سی کے باہر صوبائی وزیر فیاض الحسن چوہان پر تشدد کیاگیا ہے۔ وکلاء نے فیاض الحسن چوہان کو بالوں سے پکڑ لیا اور نوچنے کی کوشش کی۔ فیاض الحسن چوہان نے کہا ہے کہ مجھے اغواء کرنے کی کوشش کی گئی۔فیاض الحسن چوہان نے بتایا کہ جن لوگوں نے ظلم کیا ہے ان کیخلاف کارروائی ہوگی۔یاد رہے وکلاء نے پی آئی سی پر حملہ کیا تھا، جس پر فیاض الحسن چوہان وزیراعلیٰ پنجاب کے حکم پر کشیدگی کم کرنے کیلئے موقع پر پہنچے تھے۔ پنجاب

انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں حالات کشیدہ ہو گئے ہیں۔پی آئی سی میں وکلاء کی جانب سے فائرنگ کی اطلاعات بھی موصول ہو رہی ہیں جب کہ یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ وکلاء کی فائرنگ کے بعد پولیس پیچھے ہٹنے لگی۔وکلاء نے پولیس کی گاڑی کوبھی آگ لگا دی ہے۔بظاہر لگتا ہے کہ پولیس حالات کو کنٹرول کرنے میں ناکام ہو گئی ہے۔جب کہ رینجرز کی ٹیمیں بھی پی آئی سہ پہنچ گئی ہیں۔ڈاکٹرز اور نرسز نے کام کرنا چھوڑ دیا ہے۔علاج رکنے کے باعث ایک خاتون بھی دم توڑ گئی ہے جب کہ مزید اموات کا بھی خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔گزرت وقت کے ساتھ ساتھ پی آئی سی میں ہنگامہ آرائی بھی بڑھ رہی ہے۔ذرائع کے مطابق وکلاء نے صوبائی وزیر فیاض الحسن چوہان پر بھی تشدد کیا ہے۔جب کہ صوبائی وزیر صحت بھی پی آئی سی پہنچ گئی ہیں۔واضح رہے کہ وکلاء پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں زبردستی داخل ہو گئے تھے،پولیس کی بھاری نفری بھی پہنچ گئی۔ پی آئی سے کے باہر وکلاء کا ڈاکٹرز کے خلاف احتجاج جاری ہے۔ذرائع کے مطابق وکلاء نے پی آئی سی میں توڑ پھوڑ شروع کر دی ہے۔وکلاء ایم ایس آفس کے باہر پتھراؤ کرتے رہے۔ جب کہ پولیس خاموش تماشائی بنی رہی۔ وکلاء نے صحافیوں سے بھی بدتمیزی کی،موبائل فونز اور کیمرے بھی چھین لیے۔پولیس کی بھاری نفری بھی پی آئی سی میں موجود ہے۔