وکلاء نے اپنے کالے کرتوں سے اپنا ہی منہ کالاکر لیا ، پی آئی سی واقعے پر شدید ردعمل آگیا

لاہور ( نیوز ڈیسک) پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کاڑڈیالوجی پر وکلاء کے حملے پر سینئر تجزیہ کاروں کی جناب سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر وکلاء کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ سینئر تجزیہ کار حامد میر نے کہا ہے کہ لاہور پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی پر وکلا ء کے حملے سے پتا چلتا ہے کہ ہشت گردی ابھی ختم نہیں ہوئی۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹویٹ کرتے ہوئے حامد میں نے کہا کہ آج پتا چلا کچھ دہشت گرد کالا کوٹ بھی پہنتے ہیں۔سینئر صحافی عاصمہ شیرازی نے ردعمل دیتے ہوئے ٹویٹ کیا کہ حیرانگی ہے کہ پنجاب حکومت حالات کو کنٹرول کرنے میں بلکل نام نظر آرہی ہے۔وکلاء کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اینکر پرسن ماریہ میمن نے کہاکہ تعلیم بھی وکلاء کا کچھ نہیں بگاڑ سکی۔سینئر صحافی عمران

یعقوب نے کہا کہ وکلاء نے اپنے کالے کرتوں سے اپنا ہی منہ کالا کر لیا ہے۔سینئرصحافی محمد مالک نے کشدہ صورتحال ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ وکلا ء کے حملے کہ وقت ایک خاتون تب جاں بحق ہو گئی جب ڈاکٹر اپنی جان بچا کر بھاگا۔جس انتہائی افسوس ناک ہے۔ تاہم یاد رہے دم توڑ نے والے افراد کی تعداد 12 تک بتائی جا رہی ہے۔وزیراعظم عمران خان نے پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں گھس کر توڑ پھوڑ اور ڈاکٹروں کو تشدد کا نشانہ بنانے کا نوٹس لیتے ہوئے چیف سیکرٹری پنجاب اورآئی جی پنجاب سے رپورٹ طلب کرلی۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم کو اجلاس کے دوران واقعے سے متعلق آگاہ کیا گیا جس پر انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار سے رابطہ کرکے 48 گھنٹوں میں واقعے کی رپورٹ طلب کرلی۔