پی آئی سی واقعے میں ملوث وکلاء کیخلاف کریک ڈائون شروع

لاہور( نیوز ڈیسک)پنجاب پولیس نے انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی پر دھاوا بولنے والے وکلا کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کردیا ہے اور اطلاعات کے مطابق پولیس نے لاہور بار ایسوسی ایشن کے صدر عاصم چیمہ سمیت 15وکلاءکو گرفتار کرلیا ہے. دوسری جانب پنجاب بارکونسل نے وکلا کی گرفتاریوں کے کل کل صوبے بھرمیں ہڑتال کااعلان کردیا۔پنجاب بار کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ صوبے بھر میں وکلا عدالتوں کا بائیکاٹ کریں گے اور احتجاجی ریلیاں نکالی جائیں گی.واضح رہے کہ آج پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں وکلا نے ہنگامہ آرائی کر کے ہسپتال کے اندر اور باہر توڑ پھوڑ کی جس کے باعث طبی

امداد نہ ملنے سے 8 مریض جاں بحق اور متعدد افراد زخمی ہوگئے ‘گرینڈ ہیلتھ الائنس کے چیئرمین ڈاکٹر سلمان حسیب کے مطابق اس پرتشدد مظاہرے کے دوران8 مریض اپنی زندگی کی بازی ہار گئے، رپورٹس کے مطابق کئی مریض تشویش ناک حالت میں تھے اور وکلا کی جانب سے ایمرجنسی وارڈز میں گھسنے کے بعد انہیں طبی امداد نہ مل سکی کئی مریضوں کے لواحقین نے الزام عائد کیا کہ حملہ آور وکلاءنے مریضوں کو لگے آکسیجن ماسک بھی اتارپھینکے جبکہ آپریشن تھیڑاور آئی سی یو کو بھی نشانہ بنایا گیا.واضح رہے کہ مذکورہ معاملہ اس وقت شروع ہوا جب وکلا نے الزام عائد کیا کہ وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں ینگ ڈاکٹرز وکلا کا مذاق اڑا رہے تھے جس پر انہوں نے سوشل میڈیا پر مہم چلائی‘تاہم ڈاکٹر کے مطابق وکلا کا ایک گروپ انسپکٹر جنرل کے پاس گیا تھا اور انہیں کہا تھا کہ دو ڈاکٹرزکے خلاف اے ٹی اے کی دفعہ 7 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا، تاہم ان کا کہنا ہے کہ آئی جی نے اس معاملے پرمددکرنے سے انکار کردیا.بعد ازاں آج وکلا کی بڑی تعداد مبینہ ویڈیو کے خلاف مظاہرہ کرنے کے لیے پی آئی سی کے باہر جمع ہوئی، تاہم یہ احتجاج پرتشدد ہوگیا اور وکلا نے پہلے ہسپتال کے داخلی و خارجی راستے بند کردیے. وکلاءہسپتال کے گیٹ توڑتے ہوئے ہسپتال میں داخل ہوگئے، وکلا نے نہ صرف ہسپتال پر پتھر برسائے بلکہ ہسپتال کی ایمرجنسی کے شیشے توڑے اس کے ساتھ ڈنڈوں اور لاتوں سے باہر کھڑی گاڑیوں کو توڑ پھوڑ کا نشانہ بنایا‘ہنگامہ آرائی کے باعث کئی مریض ہسپتال نہیں پہنچ سکے جبکہ ہسپتال میں زیر علاج مریضوں کے ساتھ

ڈاکٹروں کو دکھانے کے لیے آنے والے مریضوں اور ان کے اہلِ خانہ کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور کئی کو تشددکا نشانہ بنایا گیا.وکلا کی جانب سے ہسپتال کے آئی سی یو، سی سی یو اور آپریشن تھیٹر کی جانب بھی پیش قدمی کی گئی جبکہ ہسپتال کے کچھ عملے کی جانب سے بھی وکلا پر تشدد کیا گیا‘ہسپتال پر دھاوے، توڑ پھوڑ کے باعث اپنی جان بچانے لیے عملہ فوری طور پر باہر نکل گیا. یہی نہیں بلکہ مشتعل وکلا نے میڈیا کے نمائندوں پر بھی پتھراؤ کیا جس سے نجی ٹی وی کی خاتون رپورٹر زخمی ہوگئیں جبکہ ان کا موبائل بھی چھین لیا گیا بگڑتی صورتحال کے پیش نظر پولیس کی اضافی نفری موقع پر پہنچی اور حالات

پر قابو پانے کی کوشش کی، تاہم اس دوران مشتعل افراد نے ایک پولیس موبائل کو بھی آگ لگادی.پولیس نے مشتعل وکلا کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا اور لاٹھی چارج بھی کیا پولیس نے کچھ وکلا کی کو گرفتار کرلیا، جس پر وکلا نے سول سیکریٹریٹ کے اطراف کی سڑک کو بند کردیا جائے وقوع پر صورتحال کے پیش نظر پنجاب کی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد بھی پی آئی سی پہنچی جبکہ ڈی آئی جی آپریشن ہسپتال پہنچے. ڈی آئی جی آپریشن کا کہنا تھا کہ جن لوگوں نے قانون کو ہاتھ میں لیا ان سے سختی سے نمٹا جائے گاعلاوہ ازیں مذکورہ واقعے کے بعد لاہور ہائی کورٹ بار کے صدر اور سیکریٹری پی آئی

سی ہسپتال پہنچے اور وکلا کے ساتھ مذاکرات کرنے کی کوشش کی.یہ معاملہ اس وقت شروع ہوا جب چند روز قبل کچھ وکلا پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیولوجی میں ایک وکیل کی والدہ کے ٹیسٹ کے لیے گئے، جہاں مبینہ طور پر قطار میں کھڑے ہونے پر وکلا کی جانب سے اعتراض کیا گیااسی دوران وکلا اور ہسپتال کے عملے دوران تلخ کلامی ہوئی اور معاملہ ہاتھا پائی تک پہنچ گیا اور مبینہ طور پر وہاں موجود وکلا پر تشدد کیا گیا.مذکورہ واقعے کے بعد دونوں فریقین یعنی وکلا اور ڈاکٹرز کی جانب سے احتجاج کیا گیا اور ایک دوسرے پر مقدمات درج کرنے کا مطالبہ کیا گیا، تاہم بعد ازاں ڈاکٹرز کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا‘اس مقدمے کے اندراج کے بعد وکلا کی جانب سے کہا گیا کہ ایف آئی آر میں انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعات شامل کریں، تاہم پہلے ان دفعات کو شامل کیا گیا بعد ازاں انہیں ختم کردیا گیا جس کے بعد ینگ ڈاکٹرز کی جانب سے ایک پریس کانفرنس میں مذکورہ واقعے پر معافی مانگ لی گئی اور معاملہ تھم گیا.