میں ایک کاروباری شخصیت ہوں اور، فیاض الحسن چوہان کے ساتھ لڑائی کرنے والا رہنما کون نکلا، جانئے تفصیلات

لاہور(ویب ڈیسک) ن لیگ سے وابستہ اسد مصطفٰی نے ویڈیو پیغام میں فیاض الحسن چوہان کے الزام کی تردید کردی۔تفصیلات کے مطابق وکلاء کی جانب سے بدھ کے روز پنجاب کے سب سے بڑے امراض قلب کے ہسپتال پی آئی سی لاہور پر حملہ کیا گیا تھا جس کے باعث آخری اطلاعات تک 9 مریض جان کی بازی ہار گئے تھے۔جبکہ اس تمام واقعے میں صوبائی وزیر فیاض الحسن چوہان کو بھی وکلاء نے تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔بعد ازاں فیاض الحسن چوہان نے الزام عائد کیا تھا کہ ان پر حملہ کرنے والے وکیل کا تعلق ن لیگ سے ہے۔بعدازاں مذکورہ شخص کی ن لیگ کے رہنماؤں کے ساتھ تصاویر بھی سامنے آ ئیں۔تاہم اب ن لیگ سے

وابستہ اسد مصطفٰی نے ویڈیو پیغام میں فیاض الحسن چوہان کے الزام کی تردید کردی ہے۔اپنے ویڈیو پیغام میں اسد مصطفٰی کا کہنا ہے کہ میں ایک کاروباری شخص ہوں، میرا تعلق ن لیگ سے ہے،میری والدہ کینسر کی مریض ہیں۔میں خود بھی بیمار ہوں اسی وجہ سےگھر سے باہر نہیں نکلا۔فیاض الحسن چوہان نے بغیر تصدیق کے میرا نام لے کر غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کیا،اس وجہ سے میری اور میرے گھر والوں کی جان کو خطرہ ہے۔میں آرمی چیف اور چیف جسٹس سے مطالبہ کرتا ہوں کہ اگر مجھے یا میری فیملی کو کچھ ہوا تو اس کی ذمہ دار حکومت ہو گی۔انہوں نے مزید کہا کہ میں ایک بار پھر وضاحت کر دوں کہ پی آئی سی میں وکلاء گردی سے میرا کوئی تعلق نہیں۔واضح رہے کہ گذشتہ روز اسد مصطفیٰ کی ن لیگی رہنماؤں کے ساتھ تصاویر سامنے آئی تھیں۔ فیاض الحسن چوہان کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر وکلا کے ایک ایکٹیویسٹ کی نشاندہی ہو چکی ہے، وہ شہباز شریف سے تعلق رکھتے ہیں، اس حملے میں ن لیگ کے محرکات بھی شامل تھے۔ بتایا گیا ہے کہ اسد نقوی نامی وکیل مسلم لیگ ن کا کارکن ہے اور حمزہ شہباز کا قریبی ساتھی تصور کیا جاتا ہے۔ جبکہ اس پارٹی اجلاسوں بھی باقاعدگی سے شرکت بھی کرتا ہے۔ اسد کو جلد گرفتار کر لیے جانے کا امکان ہے۔