ہم وکیلوں کا علاج نہیں کریں گے، ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کا زخمی وکیلوں کا علاج کرنے سے صاف انکار

لاہور(نیوز ڈیسک)گذشتہ روز پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں پیش آئے واقعے کے بعد بعض اسپتالوں نے زخمی وکلاء کا علاج کرنے سے انکار کر دیا۔قومی اخبار کی ایک رپورٹ کے مطابق پی آئی سی پر حملہ کرنے والے وکلاء پولیس کے تشدد کی وجہ سے زخمی ہونے کے باعث اُن کو سروسز اسپتال اور پی آئی سی میں فوری طبی امداد دی گئی۔زخمی حالت میں کچھ وکلاء کو پی آئی سی ہی میں آپریشن تھیٹر میں طبی امداد دی گئی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ بعض اسپتالوں میں زخمی وکلیوں کا علاج کرنے سے انکار کیا گیا جس پر حکومت ان کا علاج پرائیویٹ اسپتالوں سے کرانے کے لیے کوشاں رہی۔واضح رہے کہ گزشتہ روز پی آئی سی

میں وکلاءکے حملے کے باعث طبی امداد نہ ملنے کی وجہ سے 6 مریض جاں بحق ہوگئے تھے‘اس سے قبل ڈاکٹرز کی نمائندہ انجمن جنرل ہیلتھ الائنس نے دعویٰ کیا تھا کہ جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 12 ہے تاہم صوبائی وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان اور وزیر صحت یاسمین راشد نے ایک پریس کانفرنس کے دوران جاں بحق ہونے والے مریضوں کی تعداد 3 بتائی تھی جبکہ آج ہسپتال ذرائع نے بتایا ہے کہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد7ہوگئی ہے۔جب کہ پی آئی سی پر حملہ آور 250 وکلا کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے، دو الگ الگ مقدمات ڈاکٹر ثاقب شیخ اور ایس ایچ او شادمان انتخاب شاہ کی مدعیت میں تھانہ شادمان درج کیے گئے ہیں‘وکیلوں کے خلاف مقدمات میں دہشت گردی کی دفعہ 7 اے ٹی اے سمیت سرکاری املاک کی توڑ پھوڑ، فائرنگ، پولیس وین جلانے، قتل، اقدام قتل، بلوہ، ہنگامہ آرائی اور کارِ سرکار میں مداخلت کی دفعات شامل کیے گئے ہیں، ایک مقدمے میں ڈاکٹرز، دوسرے میں پولیس مدعی ہے. ایف آئی آر کے مطابق ڈاکٹروں اور ہسپتال عملے کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا، سرکاری کام میں مداخلت سے مریضوں کی جانیں ضائع ہوئیں، وکلا نے ہسپتال میں کروڑوں روپے کی مشینری اور املاک کو نقصان پہنچایا، پولیس اہل کاروں پر تشدد کیا گیا، ہوائی فائرنگ کی گئی اور پولیس وین کو جلایا گیا‘دوسری طرف پنجاب میں دل کے سب سے بڑے ہسپتال پر وکیلوں کے حملے کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے مریضوں کی تعداد 7 ہوگئی ہے، وکیلوں کی پی آئی سی پر یلغار کے سبب ایک گھنٹے تک ایمرجنسی میں ہنگامہ آرائی ہوتی رہی، وکلا نے آپریشن تھیٹر میں بھی گھس کر سامان اور آلات تباہ کر دیے.