مسئلہ کشمیر اور امریکہ کی ثالثی۔۔۔ تحریر: عبدالوارث ساجد

کارگل کی جنگ نے مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کیا اس جنگ میں مجاہدین نے بھارت پر فیصلہ کن برتری حاصل کر لی تھی۔ مجاہدین کی یہ شاندار فتح ان کی دس سالہ قربانیوں اور جہاد کا ثمر تھا… اس کے نتیجے میں بھارت کی ایک لاکھ فوج محصور ہو کر رہ گئی تھی۔ یہی نہیں بلکہ اس سے پاکستانی عوام میں بے پناہ جذبہ جہاد پیدا ہو گیا تھا فرقہ واریت ختم ہو گئی تھی اور امن و امان کی صورت حال میں بہتری رونما ہو رہی تھی… ملی یکجہتی کی ایسی فضا پیدا ہو گئی تھی کہ پوری قوم متحد ہو کر یہ پکار رہی تھی کہ ’’بڑھتے ہوئے قدم پیچھے نہ ہٹیں‘‘ لیکن ہمارے وزیراعظم نواز شریف کے اعصاب جواب دے گئے اور قوم کا منتخب وزیراعظم شب کی تاریکی میں اسلام آبادسے واشنگٹن جا پہنچا

اور اپنی قوم اور ملک سے رشتہ توڑ کر مفاد پرست طبقے کا ترجمان بن کر قوم کو یہ سبق پڑھنا شروع کر دیا کہ ’’جنگ کشمیر کا حل نہیں۔ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے صدر کلنٹن نے ذاتی دلچسپی لینے کا وعدہ کیا ہے لہٰذا اب بھارت زیادہ دیر تک کشمیر پر قابض نہیں رہ سکتا۔‘‘ اس وقت عوام کو دھوکا دینے والے مفاد پرست حکمران آج بھی اس قسم کے راگ الاپ رہے ہیں کہ ’’مسئلہ کشمیر امریکہ کی ثالثی سے ہی حل ہو گا۔‘‘ وہ یہ بیان دیتے ہوئے بڑی خوشی اور مسرت کا اظہار کرتے ہیں مگر اس میں خوشی اور مسرت و شادمانی کا کوئی پہلو نہیں نکلتا بلکہ ایسی صورت میں تو معاملات مزید خراب ہونے کا خطرہ ہے کیونکہ جس امریکہ کو ہمارے حکمران ثالثی بنانے پر تلے ہوئے ہیں وہاں اصل حکمرانی یہودی شخصیات کی ہوتی ہے اور یہودی جنہوں نے 25 اہم ممالک میں یہودیوں کو بطور سفیر تعینات کیا ہوا ہے وہ پاکستان کے مفاد میں کوئی فیصلہ نہی ہونے دیں گے اورامریکی صدر جن کے ملک کی معیشت کا تمام تر دارومدار 70 فیصد یہودی سرمائے پر ہے وہ اگر ذاتی دلچسپی کا وعدہ کر بھی لیں تو اس ذاتی دلچسپی کا جھکائو بھارت کی طرف تو ہو سکتا ہے مگر پاکستان کی طرف نہیں… لہٰذا امریکہ کی ذاتی دلچسپی کی نوید سنا کر قوم کو مطمئن کرنے کی کوشش کرنے والے لوگ احمقوں کی جنت سے نکل آئیں تو اچھا ہو گا۔ کیونکہ ہمارے لوگ جس امریکہ کی ثالثی پر راضی ہیں وہ ثالثی کے کسی ایک معیار پر بھی پورا نہی اترتا… ثالث کو غیر جانبدار ہونا چاہیے جبکہ ہماری ستر سالہ تاریخ اس بات پر شاہد ہے کہ امریکہ کا واضح جھکائو ہر مرتبہ بھارت کی طرف رہا ہے اور پاکستان کو اس نے ہمیشہ ایک ٹشو پیپر کی طرح استعمال کر کے پھینک دیا۔

ثالث کے لیے دوسری شرط یہ ہوتی ہے کہ اس کا ماضی اجلا صاف اور بے داغ ہو جبکہ امریکہ اس معیار پر بھی پورا نہیں اترتا۔ یہ وہ واحد ملک ہے جس نے جاپان کے دو ہنستے بستے شہروں کو ایٹم بم مار کر پل بھر میں تباہ و برباد کر دیا۔ 1945ء میں جارج مارشل نے اپنا بدنام زمانہ پلان ظاہر کیا جس کے تحت امریکہ نے اپنے مفادات کی تکمیل کے لیے دہشت گردی کی منظم انداز میں سرپرستی کی اور 1948ء سے 1952ء تک 17 ممالک میں 13 بلین ڈالر تقسیم کیے جون 1950ء میں امریکہ کی آشیر باد پر شمالی کوریا نے جنوی کوریا پر حملہ کر دیا۔ شمالی کوریا کے حملے کے ساتھ ہی امریکہ نے نام نہاد مصلح اور امن پسند منصف کے روپ میں امن و سلامتی کے نام پر خطے میں اپنی فوجیں اتار کر مذموم مقاصد کی تکمیل

کے لیے راہیں ہموار کر لیں… امریکی C-I-A نے شہنشاہ ایران کے اقتدار کی راہیں ہموار کرنے کے لیے ایران کے اندرونی معاملات میں کھلم کھلا مداخلت کی یہ C-I-A کی کوششوں کا نتیجہ یہ تھا کہ 1953ء میں وزیراعظم محمد مصدق کا تختہ الٹ دیا گیا اور شہنشاہ ایران نے وطن واپس آ کر اقتدار سنبھال لیا۔1990ء کی دہائی کے اوائل میں امریکہ نے تمام بین الاقوامی اصولوں کی دھجیاں اڑاتے ہوئے ویت نام میں اپنی فوجیں داخل کر دیں… یہ الگ بات ہے کہ المناک انجام سے دوچار ہونے کے بعد 1992ء میں اس نے ذلت آمیز پسپائی اختیار کر لی… اس طرح لیبیا نے امریکی ڈکٹیشن قبول کرنے سے انکار کر دیا تو 1986ء میں امریکہ نے یہ الزام لگا دیا کہ لیبیا دہشت گردوں کی سرپرستی کر رہا ہے اور پھر خود ہی منصف بن کر وحشیانہ

قدم بھی اٹھا لیا۔ 1992ء میں امریکہ صومالیہ میں جا گھسا اس نے آپریشن ’’ریسٹورہوپ‘‘ کے تحت وہاں 26 ہزار فوجی اتار دیے بعد ازاں جب 30 لاشیں موصول ہوئیں تو دم دبا کر بھاگ کھڑا ہوا۔21 اگست 1998ء کو اس نے بغیر کسی جواز کے افغانستان پر میزائلوں سے حملہ کر دیا۔ حالانکہ طالبان حکومت بار بار اسے دعوت دے چکی تھی کہ وہ اسامہ کے مجرم ہونے کا کوئی ثبوت پیش تو کرے۔ لیکن امریکہ خود ہی مدعی تھا اور خود ہی منصف کا کردار بھی ادا کرنے پر بضد تھا… خلیج میں بھی امریکی افواج کی موجودگی کا کوئی اخلاقی جواز نہیں امن کے نام پر اس کی غاصب افواج وہاں غیر اعلانیہ قبضہ کیے ہوئے ہیں اور اس نے وہاں خلیج کی کل فضائی قوت سے 4 گنا زیادہ طاقت اکھٹی کی ہوئی ہے جب اسامہ بن لادن

نے اس کے خلاف آواز اٹھائی تو اسے دہشت گرد قرار دیا گیا یعنی امریکہ ایک ایسا شیطان بن چکا ہے جو اپنے مفادات کے لیے قوموں کی زندگیوں میں زہر گھول رہا ہے… یہ ثالثی کے دوسرے معیار پر بھی پورا نہیں اترتا۔ثالثی کے لیے تیسری شرط یہ ہوتی ہے کہ متعلقہ مسئلہ سے اس کا مفادنہ وابستہ ہو، ہم دیکھتے ہیں کہ مسئلہ کشمیر کے ساتھ امریکہ کا براہ راست مفاد وابستہ ہے امریکی خود اس بات کا اظہار کر چکے ہیں کہ ان کی آئندہ حکمت عملی کا پورا ارتکاز ایشیاء پر ہو گا۔ چنانچہ کشمیر میں امریکہ کی دلچسپی کی تین وجوہات ہیں۔1۔ کشمیر کا محل وقوع ایسا ہے کہ اس میں بیٹھ کر چین کے دو خطوں تبت اور سنکیانگ کو چین کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے۔چین کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ 2060 تک عالمی قوت کا روپ دھار لے گا امریکہ اس قوت کے آگے بند باندھنا چاہتا ہے۔ امریکہ اس حقیقت سے بخوبی واقف ہے کہ وہ براہ راست چین پر حملہ نہیں کر سکتا اس لیے امریکہ چین کو کسی اور طریقے سے الجھانا چاہتا ہے اسے چین کی اقتصادی ترقی، سیاسی اثرورسوخ، ادائیگیوں کا توازن ہانگ کانگ پر دبائو کنٹرول اور طویل المعیاد پالیسیاں ایک آنکھ نہیں بھاتیں اب دنیا میں صرف کشمیر ہی ایسا ایک مقام ہے جہاں سے چین پر نظر رکھی جا سکتی ہے صحرائے گوبی کے جنوب میں Lopnor کا مقام چین کے ایٹمی تجربات کرنے کی جگہ ہے یہیںاس کا خلائی سٹیشن بھی واقع ہے اس مقام کو زد میں لانے اور پیس لانچنگ پروگرام کی مانیٹرنگ کے لیے لداخ سب سے آئیڈیل جگہ ہے امریکہ اس کمزور پہلو سے چین پر وار کرنا چاہتا ہے۔2۔ کشمیر میں مریکی دلچسپی کی ایک اور وجہ بھی ہے اور یہ ہے بھارت کی Cohgumer Market پر اجارہ داری کی خواہش امریکہ نے بڑا عرصہ اسلحہ کی منڈی پر اجارہ داری قائم رکھی مگر اس اسلحے کی صنعت مندی جا رہی ہے اسلحہ کی کھپت میں کمی واقع ہوئی ہے، اس کے پالیسی ساز یہ جان چکے ہیں کہ مستقبل میں کاٹھ کی یہ ہنڈیا کسی چولہے پر نہیں چڑھ سکے گی چنانچہ اب وہ اسلحے سے معیشت کی طرف لوٹنا چاہتا ہے وہ بھارت کی Market Consumer پر کنٹرول کرنے کی خواہش دل میں لیے ہوئے ہے اس نے بھارت میں 25 ملین ڈالرز کی انوسٹمینٹ کی ہوئی ہے بھارت میں لیبر بہت سستی ہے۔ یہاں سرمایہ کاری کے لیے امریکہ کو آئیڈیل ماحول میسر ہو گا کیونکہ بھارت کی مارکیٹ کے کریڈٹ پر 3000 ملین کی مڈل کلاس موجود ہے جس میں ابھی قوت خرید کی استطاعت باقی ہے ایک سستی لیبر اور کنزیو مارکیٹ میں امریکی معیشت کو بہت بڑا سہارا ملے گا یہی وجہ ہے کہ امریکہ کشمیر کے مسئلہ میں اتنی پھرتی دکھا رہا تھا وہ کسی خرمست اونٹ کی خیمے میں گردن گھسیڑنے کا منتظر ہے یہ موقع اگر اسے فراہم کر دیا گیا تو پھر خیمے میں صرف اونٹ ہی سما سکے گا۔3۔ کشمیر میں امریکہ کی دلچسپی کی تیسری وجہ پاکستان، افغانستان اور ایران کسی بھی متوقع اسلامی بلاک کی تشکیل سے روکنا ہے۔ پاکستان ایک ایٹمی قوت ہے اگرچہ فی الوقت یہ امریکہ کے حصار سے نہیں نکل سکا تاہم اس کی صورت میں امریکہ کو ہر حال میں ایک خطرہ نظر آ رہا ہے وہ پاکستان پر اپنی گرفت ڈھیلی نہیں ہونے دینا چاہتا ہے اسے پاکستان کی جغرافیائی اہمیت کا بخوبی علم ہے پاکستان اہم سمندری شاہراہ پر واقع ہے اور مڈل ایسٹ کی ریاستوں کے لیے گیٹ وے کی حیثیت رکھتا ہے یہ دنیا کا واحد اسلامی ملک ہے جسے نظریاتی قیادت میسر آ گئی تو یہ عالم اسلام کے تن مردہ میں نئی روح پھونک سکتا ہے لہٰذا وہ کشمیر میں بیٹھ کر پاکستان پر براہ راست نظر رکھنا چاہتا ہے… اس خطے میں دوسرا اسلامی ملک افغانستان ہے افغانستان میں اسلامی نظام کا نفاذ امریکہ کو ایک آنکھ نہیں بھا یا تھااور اس نے وہاں جنگ مسلط کر کے سب کچھ ختم کر دیا ۔ افغانستان کو بھی کشمیر سے کنٹرول نہیں کیا جا سکتا تو کم از کم آسانی سے مداخلت ضرور کی جا سکتی ہے کشمیر سے ایران کو بھی قابو کیا جا سکتا ہے… امریکہ کو خطرہ ہے کہ اس علاقے میں پاکستان ایران اور افغانستان کی صورت میں کوئی بلاک بن گیا بالخصوص اس تناظر میں کہ اس کو بھرپور تعاون دینے کے لے چین موجود ہو تو خطے سے اس کے مفادات کی چھٹی ہو جائے گی چنانچہ وہ ان متوقع خطرات کے تدراک کے لیے کشمیر میں گھسنا چاہتا ہے تاکہ اس خطے میں ہونے والی معمولی معمولی تبدیلی پر اس کی نظر ہو، اور وہ موثر طور پر اپنے ایجنٹوں کو فعال کر کے اسلام کی نشاۃ ثانیہ کی راہ میں رکاوٹ ڈال سکے۔ مذکورہ یہ وہ تین مفادات ہیں جن کے حصول کے لیے کشمیر امریکہ کے لیے ایک ناگزیر شے کی صورت اختیار کر چکا ہے… امریکہ کے کشمیر میں وسیع المدتی مفادات ہیں جن کی روشنی میں ہم پوری ذمہ داری سے کہہ رہے ہیں کہ مسئلہ کشمیر میں امریکہ بذات خود ایک فریق ہے جو ثالثی کر ہی نہیں سکتا اور ستم ظریفی حالات نے اگر ہمیں کبھی اس موڑ پر لا کھڑا کیا ہے کہ ہمیں اس کی ثالثی منظور کرنا پڑی تو یہ ثالثی نہیں بندر بانٹ ہو گی جس میں سب سے پہلے امریکہ کا مفادات ملحوظ خاطر رکھا جائے گا۔ امریکی مفادات کے تحفظ کی خاطر بھارت کو تھوڑا سا ریلیف ملے گا اور رہ گئے ہم… تو ہمارے ساتھ وہی ہو گا جو دنیا کمزوروں کے ساتھ کرتی آئی ہے……امریکہ کشمیر میں گھسنا چاہتا ہے وہ حالات کو اپنی مرضی کے مطابق ڈھال رہا ہے وہ پاکستان اور کشمیریوں کے درمیان بداعتمادی اور بے زاری کا رویہ پروان چڑھانا چاہتا ہے۔ 1965 میں آپریشن جبرالڑ کے بعد کشمیریوں میں غصے کے تھوڑے بہت احساسات پیدا ہوئے جولائی 1965ء میں پاکستانی کمانڈوز نے راجوڑی اور پونچھ پر قبضہ کیا تو مقامی آبادی نے اپنے گھروں پر پاکستانی پرچم لہرا دیے کمانڈوز کے لیے بکریاں اور مرغیاں ذبح کی جانے لگیں مساجد میں کمانڈوز کے شانہ بشانہ لڑنے کی قسمیں کھائی گئیں… لیکن پھر امریکی دبائو پر سیزفائر ہوا تو کمانڈوز واپس چلے گئے کمانڈوز کی واپسی کے بعد بھارتی فوج نے راجوڑی شہر سے 140 مسلمان لڑکیاں اغوا کیں اور ان سے زبردستی کی ایک باوفا شہر کو پاکستان سے بے وفائی کا اتنا بڑا تاوان دینا پڑا… یہ لڑکیاں ہماری بہنیں تھیں ہماری بیٹیاں تھیں…… انہیں اپنی بیٹیاں تسلیم کریں یا نہ کریں لیکن واللہ یہ ہماری بیٹیاں تھیں، آج یہ بہنیں بوڑھی ہو چکی ہیں کبھی کبھار جب وہ اپنے رشتہ داروں سے ملنے آتی ہیں تو پورا شہر سسکیوں میں ڈوب جاتا ہے… آہیں بھرتا ہے، لٹی عزتوں پر دوآنسو بہاتا ہے اور پاکستانی کمانڈوز کی بے وفائی کو یاد کرتا ہے…پاکستانی کمانڈوز بے وفا نہیں تھے۔ یہ تو وہ جھرنے تھے جہاں سے وفائوں کے چشمے پھوٹتے ہیں ہمارے حکمران بے وفا تھے… لیکن یہ عالمی تعلقات کی نزاکتیں، یہ سفارتی مجبوریاں، یہ بدبختیاں اور یہ کمزوریاں ان کو نہیں بتلائی جا سکتیں جنہوں نے آزادی کے خواب دیکھے ہوں اور جن کو لٹتی عزتوں کی صورت میں تعبیریں ملی ہوں۔متحدہ جہاد کونسل کے چیئرمین اور حزب المجاہدین کے سپریم کمانڈر سید صلاح الدین بتاتے ہیں کہ ’’1989ء میں جب ہم نے مسلم تحریک شروع کی تو راجوڑی اور پونچھ کے لوگوں نے کہا کہ پاکستانی پر کبھی اعتماد نہ کرنا لیکن ہم انہیں قائل کرتے رہے۔کئی سال کی محنت اور کوشش کے بعد چند جوانوں نے جہاد میں شمولیت اختیار کی… سید صاحب کا کہنا تھا کہ کارگل نوتک اور شکوکی مقامی آبادی مجاہدین کی اسی طرح مدد کر رہی ہے جیسے کبھی پونچھ اور راجوڑی والوں نے کی تھی اور اگر اب کارگل سے واپسی ہوئی تو پورے کشمیر کے جذبات وہی ہوں گے جو پونچھ اور راجوڑی والوں کے تھے… لیکن ہوا وہی… پھر امریکی دبائو اور پھر وہی پسائی اور بے وفائی… بار بار کی یہ بے وفائیاں ہمارے حکمران امریکی خاکے میں رنگ بھر رہے ہیں۔ ہمارے حکمران لاکھ جھوٹ بول کر قوم کو گمراہ رکھتے ہیں لیکن حقیقت یہی ہے کہ یہ حکمران مقبوضہ کشمیر کے عوام کوپاکستان سے بدظن کرنے کے امریکی ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں۔ امریکہ حالات کو اس نہج پر لے جانا چاہتا ہے جب کشمیر پاکستان کی طرف سے زخم کھا کر مایوس ہو جائیں اور آخر کار وہ الحاق پاکستان کا مطالبہ کرتے ہوئے محض آزادی پر مطالبہ کرنے لگیں یہ جو حکومتی اہلکاروں کے اس قسم کے بیان آئے کہ کارگل کی خاطر پاکستان دائو پر نہیں لگا سکتے یہ اسی ایجنڈے کی تکمیل کا مذموم حصہ ہیں جب حالات یہاں تک آ جائیں گے کہ اور کشمیریوں کو حق الیقین ہو جائے گا کہ پاکستان ان کے ساتھ مخلص نہیں تو پھر وہ محض غیر جانبدار ہو کر الحاق پاکستان کا مطالبہ ترک کرتے ہوئے صرف آزادی مانگیں گے بلکہ پاکستان مخالف جذبات بھی پیدا ہوں گے جب یہ صورتحال ہو جائے گی تو امریکہ درمیان میں کھودے گا جذبات کو مزید بھڑکاتے ہوئے وہ اپنے ایجنڈے کے آخری حصے پر عمل پیرا ہو جائے گا اور وہ ہو گا…… خود مختار کشمیر کا قیام، خود مختار کشمیر سے امریکی مقاصد تو پورے ہوں گے ہی پاکستان کے لیے دوہری مصیبت بھی کھڑی ہو جائے گی وہ یہ کہ خود مختار کشمیر اور ہمارے تعلقات برادرانہ نہیں مخاصمانہ ہوں گے… ماضی کی بے وفائیاں گلے پڑ جائیں گی اس وقت نہ جانے کتنی آنے والی نسلوں کو عذاب سہنے کو ملیں گے یہ امریکی منصوبہ ہر پہلو سے آگے جارہا ہے، امریکہ کی طرف سے U-N-O کی قراردادوں کو ڈی ویلیو کرنے کے لیے اس نے اعلان لاہور کو بہترین فورم قرار دلوایا کیونکہ اعلان لاہور ایک بانجھ معاہدہ تھا جس کے بطن سے کچھ برآمد نہیں ہوا دو طرفہ مذاکرات مسئلہ کو حل نہ کرانے کی سازش تھے، مسئلہ کے حل کے لیے تمام تجویزیں عوام میں پہنچائی جا سکتی ہیں اور پاک بھارت تجارت بس سروس اور سابق وزیراعظم کا بیان کا کہ ’’مجھے بھارت سے دوستی کا مینڈیٹ ملا ہے۔‘‘ ان تجاویز کے لیے گرائونڈ بنانے کی امریکی سازش کا منہ بولتا ثبوت ہے چونکہ مغرب امریکہ کی مکمل پشت پناہی کرنے اس کے ایجنڈے کی تکمیل کے لیے کوشاں ہے اور ہمارے حکمران مٹی کے مادھو بنے بیٹھے ہیں۔ اس لیے ہمیں اب اٹھنا ہو گا، ہر محاذ پر فکری نظریاتی عسکری ہر محاذ پر ہمیں امریکی تجاویز کو سمجھنا ہو گا اور اس کے مضمرات پر بحث کر کے کسی نتیجے پر پہنچنا ہو گا… تو اب ہم ان امریکی تجاویز پر ایک نظر ڈالتے ہیں جو اس نے اپنے منصوبے کی تکمیل کے لیے مشرف دور سے پیش کر رکھی ہے۔1۔ کشمیر کو سوئٹزرلینڈ کی طرز پر خود مختار حیثیت دے دی جائے۔قارئین کرام! سوئٹزرلینڈ ایک طویل جنگ کے بعد معرض وجود میں آیا، اور اس خطے کی تمام طاقتوں نے اس کی غیر جانبداری کی گارنٹی دی تھی تب جا کر وہاں طاقت کا توازن پیدا ہوا، کشمیر میں صورت حال یکسر مختلف ہے، اس کے ایک طرف چین ہے جو مستقبل کی عالمی طاقت بھی ہے دوسری طرف بھارت ہے جو ہر کمزور کو کھا جانا اپنا ازلی حق سمجھتا ہے اور تیسری طرف پاکستان ہے جو کشمیر کے بغیر کچھ بھی نہیں، بانی پاکستان ’’اسے پاکستان کی شہ رگ قرار دے چکے ہیں کشمیر کو اگر سوئٹزرلینڈ کی طرز پر خود مختاری دینا ہے تو ان تینوں ریاستوں کی منظوری لینا پڑے گی، چین اس پر رضا مند نہیں ہو گا اب کشمیر کو دفاع کی ضرورت پڑی تو یہ کون فراہم کرے گا۔ چین کو کون روک سکے گا……؟ صرف امریکہ اور اس کا یہاں آنا خطے میں ایک نئے اسرائیل کا قیام ہو گا۔2۔ دوسری تجویز یہ ہے کہ کشمیر کو پندرہ برس کے لیے اقوام متحدہ کی ٹرسٹی شپ میں دے دیا جائے کشمیر کا نظام اقوام متحدہ چلائے اور 15 برس بعد کشمیریوں کو اظہار رائے کا حق دے کر کشمیر کی قسمت کا فیصلہ کر دیا جائے… سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ U-N-O پندرہ برس کشمیر چلا سکتی ہے تو اپنی قراردادوں پر عمل کیوں نہیں کرا سکتی……؟پھر یہ کہ کیا کشمیریوں کی ذہنی سطح آج اتنی پست ہو چکی ہے کہ انہیں محض اظہار رائے کے لیے پندرہ برس انتظار کرایا جائے……؟نیز اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ اقوام متحدہ کی آڑ میں امریکہ وہاں نہیں گھسے گا اور 15 برس بعد U-N-O کشمیر ی چھوڑ دے گی……؟3۔ یہ تو واضح طور بدنیتی پر مبنی تجویز ہے کثیر قطعاً یہ صلاحیت نہیں رکھتا کہ وہ پاکستان، بھارت اور چین کے درمیان بضر ریاست بنے اور پھر باقی بھی رہے۔ ہم افغانستان کا حشر دیکھ چکے ہیں اگر کشمیر کو بفر ریاست بنا دیا جاتا ہے تو چین اس کو آنکھیں دکھانا شروع کر دیتا ہے پھر کیا ہو گا…؟ بھارت اس پر چڑھ دوڑا تب کون جواب دہ ہو گا…؟ اور یہ کہ امریکہ اسلامی بنیاد پرستوں کے حملوں کا ڈھونگ رچا کر وہاں دفاع کے لیے گھس گیا تو اس کو کون نکالے گا…؟یہ سارے منصوبے اصل میں امریکی مفادات کے گرد گھومتے ہیں ہمیں اپنی پالیسیوں کا ازسرنو جائزہ لے کر اپنے اہداف متعین کرنا ہو گے عالمی فورم پر ہم کو چاہیے یہ بات نہ کریں لیکن ہماری پالیسیاں بناتے وقت یہ امر ضرور ملحوظ رکھا جائے کہ امریکہ بذات خود مسئلہ کشمیر کا ایک فریق ہے۔
…ژ…