سقوطِ ڈھاکہ۔۔۔ تحریر: عمر منہاس

بہت کم لوگ اس تلخ حقیقت سے آگاہ ہوں گے کہ پاکستان کا پہلا صدر مملکت سکندر مرزا اسی میر جعفر کا پڑپوتا تھا جس نے شیرِ بنگال نواب سراج الدولہ سے غداری کر کے انگریز آقائوں کی جیت کا راستہ ہموار کیا تھا۔گورے آقائوں نے چن چن کر ایسے کرداروں کو اہم عہدو ں پر فائز کروایا جن میں ان کی فرمانبرداری اور ملک وملت سے غداری کے سارے جراثیم موجود ہوں۔ ان گورے آقائوں نے پاکستان کا پہلا وزیر خارجہ بھی ان سے ’سرکا خطاب‘ پانے والے چوہدری ظفراللہ جیسے اس شخص کو بنوایا جس نے قائد اعظم کا جنازہ پڑھنے سے بھی صاف انکار کر دیا تھا۔ سامراج اور مغربی طاقتوں کے پروردہ ان سب غداروں کی کالی کرتوتوں کے بدولت تاریخ میں 16دسمبر 1971کا دن ہماری ذلت و رسوائی کی شرمناک داستان بن کر آج

بھی ہمارے کلیجوں کو سلگا رہا ہے۔ ۔۔۔دھرتی سے کی گئی غداریوں کے صلے میں انگریزوں کی عطا کردہ جاگیروں کو بچانے اور کسی بھی صورت حصول اقتدار کے لئے سر گرم سیاستدانوں کی مشرقی بنگال میں لگائی آگ ایک شرابی جنرل جنرل یحییٰ خان اور اس کے نا عاقبت اندیش ٹولے نے پٹرول سے بجھانے کی کوشش میں بھڑکتا ہوا تندور بنا دی۔ جنرل رانی جیسی فحشائیںملک دشمن عناصر کی آلہ کار بن کر ایوان اقتدار پر قابض مدہوش عاشقوں کے فیصلے خود لکھتی رہیںاور پاک دھرتی کا مقدس بدن دو لخت ہو کر قوم کا کلیجہ چاک چاک کر گیا۔ ہمارے نوے ہزار فوجی اپنے بد ترین اور ازلی دشمن بھارت کی قید میں چلے گئے۔تاریخ بار بار یاد دلاتی ہے کہ بزدلانہ شکست کی ذلت سے عزت و غیرت کی موت کہیں بہتر ہے۔ اسپین میں اسلام دشمن عیسائی حکومت کے خاتمے کے بعد مغرب کی سرزمین پر مسلم اقتدار کا آغاز کرنے والے طارق بن زیاد نے ساحل پر کشتیاں جلا کر یہ ایمان افروز درس جہاد دیا تھا کہ جنگ کا انجام صرف فتح یا موت ہے۔ حق و باطل کے معرکہ میں کسی کلمہ گو کے پاس ان دو آپشن کے سوا کوئی تیسرا آپشن موجود نہیں ہے۔۔باب اندلس کی شکست کی مثال لے لیںجس کے بعد مغرب میں سپین، پرتگال اور فرانس کے خطوں پر مشتمل عظیم الشان مسلم سلطنت الاندلس کے آٹھ سو سالہ سنہری اقتدار کا سورج ہمیشہ کے لئے غروب ہو گیا۔ غرناطہ کا بے غیرت حکمران ابو عبداللہ باب دل معاہدے کے تحت ملکہ ازابیلا اور شہنشاہ فرڈننڈس کو شہر غرناطہ کی چابیاں پیش کرنے کی تیاریوں میں مصروف تھا۔شہر خونِ مسلم سے رنگین تھامگر اندلس کی شکست خوردہ فوج کے سپہ سالاروں کے زرہ بکترسونے چاندی اور جواہرات کی رنگین لڑیوں سے چمک دمک رہے تھے۔ ۔۔ایک بار پھر سقوط مشرقی پاکستان کے موقع پر ہمارے عیاش جنرل امیر عبداللہ خان نیازی

نے اسلامی تاریخ کو داغدار کرتے ہوئے اندلس کے شکست خوردہ حکمران ابو عبداللہ کی طرح نوے ہزار فوجی دستیاب ہونے کے باوجود دنیا کی سب سے بڑی اسلامی ریاست کا آدھا حصہ ’’با عزت انداز‘‘ میں اپنے بدترین دشمن بھارت کے حوالے کر ڈالا۔ صد افسو س کہ جنرل امیر عبداللہ خان نیازی ملی بے حمیتی اوراخلاقی پستی میں غرناطہ کے حکمران ابو عبداللہ سے بھی چند قدم آگے نکل گیا۔ نگاہ ِ فلک نے یہ تماشہ بھی دیکھا کہ کلف لگی وردی اور سبز ہلالی ٹوپی کی کلغی میں جنرل نیازی نے خود ائیر پورٹ جا کر فاتح بھارتی جنرل اروڑہ کا استقبال کیا۔جنرل نیازی اور جنرل اروڑہ وہاں سے سیدھا رمنا ریس گرائونڈ گئے جہاں نیازی سے سر عام ہتھیار ڈالنے کی تقریب منعقد ہوئی۔اس موقع پر جنرل اروڑہ کو گارڈ آف آنر بھی پیش

کیاگیا جو اس بات کی علامت تھی کہ وہی ’گارڈز‘ ہیں اور وہی ’آنر ‘ کے مستحق۔۔۔ احباب ۔۔۔تاریخ ِ مسلم گواہ ہے کہ ابو عبداللہ اندلسی نے سقوط غرناطہ کے بعد ندامت یا سلطنت چھن جانے کے غم میں چند آنسو ضرور بہائے تھے مگر غیرت سے عاری اس جنرل نیازی کو ساری زندگی امت کی عزت وآبرواپنے مکار دشمن کے سامنے گروی رکھنے کا کچھ افسوس نہ ہوا۔بے شرمی اور بے غیرتی کی انتہا یہ تھی کہ وہ مرتے دم تک بڑے فخر سے کہتا رہا کہ نوے ہزار فوجیوں کو زندہ و سلامت نکال لانا میرا ہی کارنامہ ہے اور انتہائی ڈھٹائی سے ہتھیار ڈالنے کے جواز میں’’حاکم وقت کا حکم تھا‘‘کے بزدلانہ کلمات ادا کرتا رہا۔دراصل بات اس ملی و قومی غیرت کی ہے جو جنرل نیازی میں نہ تھی۔جنرل انامی کورے چیکا دوسری جنگ عظیم

میں شکست خوردہ جاپان کا وزیر جنگ تھا جس نے امریکہ ک سامنے سرنڈر کی بھرپور مخالفت کی۔جاپانی شہنشاہ نے اس وزیر کی طرف سے جنگ جاری رکھنے کی تجویز سے اتفاق نہ کیااور ذاتی فیصلے کے تحت ہتھیار ڈالنے کا اعلان کر دیا۔ اس موقع پر اس نے یہ کہتے ہوئے کہ ’’ایک جاپانی سپاہی ہونے کے ناطے شہنشاہ کی اطاعت مجھ پر واجب ہے‘‘کابینہ کے اجلاس میں ہتھیار ڈالنے کی دستاویز پر دستخط کر دئے۔۔ سرنڈر کی دستاویز ات پر دستخط کرنے کے اگلے روز ہی اس نے اپنے پستول سے خود کشی کر لی۔فیلڈ مارشل رومیل جرمن فوج کے چند نامور جرنیلوں میں سے ہیں۔ اس نے اپنی بہترین ٹینکوں کی جنگ لڑنے کی حکمت عملی سے اتحادی فوجوں کو ناکوں چنے چبوا دیے تھے، کسی وجہ سے جرمن چانسلر نے فیلڈ

مارشل رومیل کو مصر کے جنگی محاذ سے جرمنی واپس بلا لیا۔ہٹلر کی اس سلسلے میں پرانی روایت اچھی نہیں تھی۔ غیرت مند فیلڈ مارشل نے بے عزتی کی جگہ موت کو ترجیح دی اور برلن واپس لوٹتے ہوئے راستے میں ہی زہر کی گولی کھا کر اپنی زندگی ختم کر لی۔ رومیل کے اس اقدام سے گاڑی چلاتا ہوا ڈرائیور بھی بے خبر رہا۔برلن کی طرف چڑھ دوڑتی اتحادی افواج جرمن دارالحکومت پر قبضہ کرنے کے ساتھ ساتھ جرمن حکمران ایڈولف ہٹلر کو بھی گرفتار کرنے کی دھن میں تھیں۔ ہٹلر کہاں گیا یہ بات آج تک معمہ بنی ہوئی ہے۔ ہٹلر ایک غیر ت مند مگر شکست خوردہ جرمن قوم کا حکمران تھا ۔ دشمن اسے زندہ گرفتار کرنا چاہتے تھے مگر اس کی لاش کی بھی بھنک نہ پا سکے۔ان تمام لوگوں نے اپنے لیے باوقارموت کا انتخاب کیا۔ایسا موقع جنرل نیازی پر بھی آیا لیکن وہ ایسا کچھ نہ کر سکا۔ حکومت وقت نے اسے باعزت ریٹائر کیا کیوں کہ اس کے کورٹ مارشل کی صورت میں سانحہ مشرقی پاکستان کے کچھ اصلی کردار بھی واضح ہونے کی توقع تھی جس سے تب کے ارباب اختیار گھبراتے تھے۔ ماناکہ جنگ میں فتح و شکست تو ہوتی ہی ہے مگر شکست خوردہ جرنل اپنا ہتھیار دشمن کو دینے سے پہلے ہی اسی ہتھیار سے اپنے آپ کو ختم کرلینے میں عزت سمجھتا ہے۔ دنیا کے غیرت مند سپاہیوں کی یہی روایت رہی ہے ۔ مسلمان ملٹری ہسٹری تو اس سلسلے میں لاکھوں مثالوں سے پر ہے۔ اگر یہی نیازی میدان جنگ میں اپنی جان دے دیتا تو خود بھی شہادت پاتا اور قوم کی عزت بھی محفوظ رہتی۔ اور مسلمانان پاکستان کی نسلیں سرنڈر کی اس رسوائی سے بچ جاتیںجو یقینا ایک مہنگا سودا نہ ہوتا۔۔بلاشبہ اس دن کا سورج ہمیں پچھتاوے اور شرمندی کا احساس دلاتے اور تاریخ سے سبق حاصل کرنے کی تلقین کرتے ہوئے نمودار ہوتے نظر آتا ہے۔۔!