مشرف کا فیصلہ عدالت کا فیصلہ ہے، کسی سیاسی جماعت یا پنچائت کا فیصلہ نہیں ، اس کو فوج نے اپنا مسئلہ کیوں سمجھ لیا، مولانا فضل الرحمان

پشاور(نیوز ڈیسک) جمیعت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ مشرف رجسٹرڈجماعت کا سربراہ ہے، فوج نے اپنا مسئلہ کیوں سمجھ لیا؟ یہ عدالت کا فیصلہ ہے، کسی سیاسی جماعت یا پنچائت کا فیصلہ نہیں، جنرل باجوہ کی ایکسٹینشن کیلئے قانون سازی کی ذمہ داری موجودہ اسمبلی کونہیں دے سکتے۔ انہوں نے پشاور میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مشرف کے حوالے سے فیصلہ آگیا تو ایک نیا ہنگامہ کھڑا ہوگیا، یہ عدالت کا فیصلہ ہے، کسی سیاسی جماعت یا پنچائت کا فیصلہ نہیں ہے۔ایک عدالت کا فیصلہ ہے۔اگر یہی فیصلہ ذوالفقاربھٹو ، یوسف رضا گیلانی، اور نوازشریف کیخلاف آتا ہے تو ہماری فوج کہے

گی کہ ہم تو عدلیہ کے ساتھ کھڑے ہیں۔ لیکن جب یہی فیصلہ ایک سابق جنرل کے خلاف آتا ہے تو اس کو عزت نفس اور اپنا ذاتی مسئلہ بنا لیتے ہیں۔آپ توخود کہتے تھے کہ مشرف ریٹائرڈ ہوگیا ہے جو بھی فوجی ریٹائرڈ ہوجاتا ہے وہ سول بن جاتا ہے۔مشرف ایک سیاسی جماعت آل پاکستان مسلم لیگ کا صدر ہے، ایک رجسٹرڈ سیاسی جماعت کا صدر ہے، اس کو آرمی نے اپنا فیصلہ کیوں سمجھ لیا ہے۔میں آج تک خاموش ا س لیے رہا کہ میں اداروں کے درمیان باہمی لڑائی اور سیاسی متنازعہ بنانے کی روش کے خلاف ہوں۔ لیکن کیا احتیاط کے رویہ ہم نے ہی قائم رکھنا ہے۔فضل الرحمان نے بات نہیں کرنی؟ کیا اداروں کو اپنے بیانات میں احتیاط نہیں برتنی چاہیے، اب آخر میں جاکرکہتے ہیں ہم قانونی جنگ لڑیں گے، یہی پہلے بھی کہہ سکتے تھے۔سیاستدانوں نے پھانسیاں ، نااہلی بھی قبول کی ہے، ہمارے خلاف نیب میں کیس ہوں، عدالت کا فیصلہ ہو، وہ انصاف ہوتا ہے۔اس طریقے سے بالادستی کا جبری اظہار پاکستان کے کسی شہری کیلئے قابل قبول نہیں۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ جنرل باجوہ کی ایکسٹینشن کے حوالے سے قانون سازی کی ذمہ داری جو اس اسمبلی کو دی گئی ہے۔اس اسمبلی کو ہم اتنے حساس مسئلے پر قانون سازی کا حق نہیں دے سکتے۔اگر ایسا قانون بنایا گیا تو قانون بھی متنازعہ ہوگا اور جو فائدہ اٹھایا گیا وہ بھی متنازعہ ہوجائے گا۔کشمیر کا مسئلہ، توسیع کامسئلہ ہے، عدالت اور فوج کا مسئلہ ہے، ملکی معیشت تباہ ہوگئی ہے، اگر جمہوریت پر یقین رکھتے ہو، آؤ فوج کے بغیر انتخابات کروائیں،پاکستان تمام بحرانوں سے نکل جائے گالیکن اگر عالمی دباؤ کے تحت دھاندلی والے الیکشن کروائیں گے ، ان کے ایجنڈے کو قوم پرمسلط کریں گے تو پھر پاکستان کی معیشت کو بحال نہیں کرسکیں گے ، آئین کو تقویت نہیں دے سکیں گے۔اداروں کو اپنی حدود میں رہ کرآگے بڑھنا ہوگا۔لیکن جب اداروں اور شخصیات،جنرل اور ججز کو متنازعہ بنادیا گیا ہے، یہ کونسی سیاست ہے؟