چوہدری برادران کی درخواست آرمی ایکٹ میں ترمیم کی مخالفت نہ کی جائےپرفضل الرحمان کا ایسا جواب کہ سب منہ دیکھتے رہ گئے

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) آرمی ایکٹ ترمیمی بل پر چوہدری برادران نے مولانا فضل الرحمان سے حمایت مانگ لی ہے۔ ذرائع کے مطابق چوہدری برادران نے اسلام آباد میں سربراہ جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ فضل الرحمان سے ملاقات کی جس میں انہوں نے آرمی ایکٹ ترمیمی بل پر حمایت مانگی ۔چوہدری برادران سے ملاقات کے بعد مولانا فضل الرحمان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہماری جماعت کا موقف وضاحت کے ساتھ آچکا ہے، ہم نے پہلے بھی کہا تھا ہم فوج کو سیاست کے میدان میں نہیں گھسیٹنا چاہتے، حکومت نے فوج اور جنرل باجوہ کو متنازع بنانے کی کوشش کی، فوج کو عدالتی محاذ پر گھسیٹنے سے صورتحال مشکل بنی۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ عدالت کے فیصلے سے آشکار ہوا کہ قانونی سقم میں حکومتی نااہلی سامنے آئی، حکومت معاملے کو بلڈوز کرنے کی کوشش کررہی ہے، وقتی طور پر

ایمرجنسی نافذ کرکے فیصلوں سے جمہوریت پر اچھے اثرات مرتب نہیں ہوں گے، 6 ماہ کا وقت ہے اسمبلی تحلیل کرکے نئی اور جائز اسمبلی سے قانون پاس کرایا جائے۔سربراہ جے یو آئی (ف) نے کہا کہ شہباز شریف سے رابطہ کرکے کہا ہے کہ آپ کی جماعت کا فرض تھا اپوزیشن کو اکٹھا کرتے، کسی پارٹی کا موقف سخت ہوتا ہے کسی کا نرم ہوتا ہے، درمیانی راستہ نکالا جا سکتا ہے، اپوزیشن لیڈر کو اپوزیشن کے مشترکہ موقف کی ذمہ داری پوری کرناچاہیے تھی۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ جعلی اسمبلی کو انتہائی حساس معاملے پر قانون سازی کی اجازت نہیں دے سکتے، حکومت کی جانب سے ترمیمی بل کے مسودے پر اپوزیشن کو اعتماد میں نہیں لیا گیا، پارٹی نے بل کی حمایت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے البتہ مخالفت میں ووٹ دینے یا غیر جانبدار رہنے پر غور کررہے ہیں تاہم حتمی فیصلہ پارلیمانی پارٹی کریگی۔