شہباز شریف نے وزیراعظم بنائے جانے کے سوال پر خاموشی توڑ دی

لندن(نیوز ڈیسک) مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کا نام بطور وزیراعظم کافی عرصے سے گونج رہا ہے۔کہا جا رہا ہے کہ شہباز شریف خاص حلقوں کے فیورٹ ہوتے جا رہے ہیں۔اسی متعلق جب شہباز شریف سے سوال کیا گیا تو انہوں نے دلچسپ جواب دیا۔لندن میں جب ایک صحافی نے شہباز شریف سے سوال کیا کہ آپ کا نام بطور وزیراعظم آ رہا ہے تو انہوں نے ہنستے ہوئے کہا کہ یہ کام بیس سال سے ہو رہا ہے۔شہباز شریف سے مزید پوچھا گیا کہ کیا رواں سال الیکشن کا سال ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ ابھی آئیں ٹوئنٹی ٹوئنٹی میچ اکٹھے دیکھتے ہیں۔قبل ازیں انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عدالتی فیصلے

کی روشنی میں آرمی ایکٹ میں ترمیم کی حمایت کی، سپریم کورٹ نےہدایت کی تھی کہ حکومت آرمی ایکٹ میں قانون سازی کرے، ماضی میں حمایت کی اس طرح کی مثالیں موجود ہیں۔انہوں نے پارک لین اپارٹمنٹس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عوام کے اصل ایشوزسے پیچھے ہٹنا مناسب نہیں، اصل مسائل پاکستان کے عوام کی غربت ، بیروزگاری اور صحت کی فراہمی ہے۔ ہم نے بجلی کا بحران حل کرکے ملک کی خدمت کی ہے۔ ملک میں بجلی بحران تھا لیکن نوازشریف نے 4 سال میں بجلی بحران حل کرکے تاریخی کام کیا۔ آج بھی نوازشریف کے منصوبوں کو یاد کرتے ہیں۔شہبازشریف نے کہا کہ ملک قرضوں میں جکڑا ہوا ہے۔ اس حکومت نے ڈیڑھ سالوں میں اتنے قرضے لیے کہ ریکارڈ توڑ دیا۔ پاکستان میں لاکھوں افراد بے روزگار ہوچکے ہیں۔ ملک میں زراعت اور صنعت تباہ ہوچکی ہے۔ انہوں نے 50 لاکھ گھر اور ایک کروڑ نوکریاں دینا تھیں وہ کہاں ہیں؟ انہوں نے کہا کہ ملک اس سے زیادہ جھوٹا اور یوٹرن لینے والا وزیراعظم نہیں آیا۔عمران خان نے پاکستان کی معیشت تباہ کردی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئیے پاکستان کی زراعت کو ٹھیک کریں اور اپنی مصنوعات کی ایکسپورٹ کو بڑھائیں۔ شہبازشریف نے کہا کہ نوٹیفکیشن کے معاملے پر عمران خان نے بدنیتی کے تحت غلطی کی۔عدالتی فیصلے کی روشنی میں ترمیمی بل کی حمایت کی۔ سپریم کورٹ نے ہدایت کی تھی کہ حکومت آرمی ایکٹ میں قانون سازی کرے، ماضی میں مدت ملازمت میں توسیع کی مثالیں موجود ہیں۔