پاکستانی ٹیکسی ڈرائیور کی مہربانی نے بھارتی لڑکی کو بہت بڑی پریشانی سے بچا لیا

دُبئی(نیوز ڈیسک) پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات اس وقت تلخی کی انتہا کو چھو رہے ہیں۔ دونوں ممالک کے عوام میں بھی ایک دوسرے کے خلاف مخالفانہ جذبات پُورے زور پر نظر آ رہے ہیں۔ تاہم جب بات متحدہ عرب امارات کی ہو تو وہاں پر ایسا کچھ بھی دکھائی نہیں دیتا، قطعاً ایسا محسوس نہیں ہوتا کہ بھارتی اور پاکستانی افراد میں دُشمنی کا ذرہ برابر بھی مادہ پایا جاتا ہے بلکہ اکثر موقعوں پر وہ ایک دوسرے کی بھرپور مدد کرتے نظر آتے ہیں۔ایسا ہی ایک مدد بھرا کارنامہ پاکستانی نوجوان ٹیکسی ڈرائیور مدثر کریم نے کر دکھایا ہے، جس نے بھارتی لڑکی کو اُس کا کئی روز سے گمشدہ پرس لوٹا دیا، جس میں اُس کا

برطانوی سٹوڈنٹ ویزہ اور دیگر دستاویزات بھی تھیں۔راکیل روز نامی اس بھارتی لڑکی کو اگلے تین روز میں دُبئی سے واپس جانا تھا، تاہم اپنا پرس گنوا بیٹھے کے باعث وہ شدید مشکلات کا شکار ہو گئی تھی۔تفصیلات کے مطابق بھارتی لڑکی روز کو 8 جنوری کو واپس مانچسٹر جانا تھا، مگر 4 جنوری کی شام کو وہ اپنا پرس خادم کی ٹیکسی میں ہی بھُول گئی تھی۔ روز برطانیہ کی لنکاسٹر یونیورسٹی میں کارپوریٹ لاء کی سٹوڈنٹ ہے جو تعطیلات کے دوران ایک دوست کی برتھ ڈے پارٹی میں شرکت کی خاطر دُبئی آئی تھی۔ کیونکہ روز نے اعلیٰ تعلیم کے لیے برطانیہ جانے سے قبل کچھ عرصہ دُبئی میں بھی گزارا تھا، اور یہیں سے اُس نے اپنی گریجوایشن کی تعلیم مکمل کی تھی۔روز کی والدہ سِندھو بِجو نے بتایا کہ اُن کی بیٹی 4 جنوری کو شام ساڑھے سات بجے ایک ٹیکسی میں سوار ہوئی۔ اچانک انہوں نے اپنی چند مشترکہ سہیلیوں کو ایک اور کار میں سفر کرتے دیکھا تو فوراً ہی ٹیکسی سے اُتر کر اُن کی گاڑی میں چلی گئیں۔ اس افراتفری میں روز کو یہ خیال بھی نہ رہا کہ اُس کا بیگ ٹیکسی میں ہی رہ گیا ہے۔ کچھ دیر بعد روز کو احساس ہوا کہ وہ اپنا پرس ٹیکسی میں ہی بھُول گئی ہے جس میں اُس کا یُو کے سٹوڈنٹ ویزہ، اُس کی اماراتی آئی ڈی، اماراتی ڈرائیونگ لائسنس، ہیلتھ انشورنس کارڈ، کریڈٹ کارڈ اور ایک ہزار درہم کی نقد رقم بھی تھی۔اور یہی وہ لمحہ تھا جب روز کی کیفیت پاگلوں والی ہو گئی، کیونکہ اُسے اگلے تین روز میں واپس مانچسٹر جانا تھا، کیونکہ 13 جنوری کو اُس کے یونیوسٹی کے امتحانات شروع ہو رہے تھے۔ حتیٰ کہ اُس کے پاس اپنے سٹوڈنٹ ویزہ کی کاپی بھی نہیں تھی۔گھبرائی ہوئی روز نے یونیورسٹی کو کال کی تو وہاں اُسے بتایا گیا کہ

اُسے واپس آنے کے لیے دوبارہ سے ویزہ کے لیے اپلائی کرنا پڑے گا۔اسی پریشانی میں اُس نے اپنے والد کے ساتھ پولیس اسٹیشن کا رُخ کیا۔ انہوں نے اس شاپنگ مال کی ویڈیو فوٹیج بھی چیک کیں جہاں سے اُنہوں نے ٹیکسی لی تھی۔ تاہم وہاں پر بھی نمبر پلیٹ صاف دکھائی نہ دے سکی۔ چونکہ ابھی اُن کا سفر شروع بھی نہیں ہوا تھا جب وہ ٹیکسی سے باہر آ گئی تھیں، اسی وجہ سے روڈز ٹرانسپورٹ اتھارٹی سے بھی انہیں مدد نہ مِل سکی۔اگلے چند گھنٹوں میں خادم مزید دو سواریوں کو اُن کی منزل پر پہنچا چکا تھا جب اُس کا دھیان اپنی ساتھ والی سیٹ پر پڑے ایک پرس پر گیا۔ خادم نے فوری طور پر پرس کھول کر چیک کیا کہ وہاں

سے کوئی رابطہ نمبر مِل جائے مگر اُس کے اندر دستاویزات اور کیش رقم کے سوا اور کچھ نہ تھا۔ خادم نے بتایا کہ میں نے روڈز اتھارٹی سے رابطہ کر کے اُنہیں گمشدہ پرس کے بارے میں بتایا۔جس کے بعد میں نے پولیس کو بھی اطلاع کر دی۔ میری چھٹی حِس کہہ رہی تھی کہ جس کا بھی یہ پرس ہے وہ بہت پریشانی میں ہو گی۔ اسی وجہ سے میں نے پرس میں موجود ہیلتھ کارڈ نمبر کی مدد سے اتصالات کے ذریعے متعلقہ شخص کی تلاش شروع کر دی۔ تاہم پرائیویسی کی پابندی کی وجہ سے میں کامیاب نہ ہو سکا۔ آخر کار رات ساڑھے تین بجے جب میری ڈیوٹی ختم ہوئی تو مجھے روڈز اینڈ ٹرانسپورٹ اتھارٹی کی جانب

سے کال آئی اور پرس میں موجود دستاویزات کے بارے میں پُوچھا گیا ۔جب اُن کی تصدیق ہو گئی تو انہوں نے مجھے ایک نمبر فراہم کیا کہ میں متعلقہ فیملی سے رابطہ کر کے اُن سے ایڈریس پوچھ لوں۔ جس کے بعد میں اُن کے گھر پہنچ گیا۔ بھارتی لڑکی کا والد اتنا خوش تھا کہ کہ اس نے مجھے انعام کے طور پر 600درہم دینے چاہے تاہم میں نے یہ کہہ کر لینے سے انکار کر دیا کہ روز میری چھوٹی بہنوں کی طرح ہے۔ اس لیے میں یہ رقم قبول نہیں کر سکتا۔خادم نے بتایا کہ وہ بھی چار بہنوں کا اکلوتا بھائی ہے۔ اور انہیں دُبئی میں آ کر بہت یاد کرتا ہے۔ اُسے روز کی مدد کر کے ایسا ہی لگا جیسے اُس نے اپنی بہن کا ہی کوئی کام کیا ہے۔ مدثر خادم کے اس شاندار جذبہ ایثار پراس بھارتی فیملی نے روڈز اینڈ ٹرانسپورٹ اتھارٹی کو ایک خط لکھا جس میں خادم کو اس کی انسانیت پرستی پر بہت شاندار لفظوں میں خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔