نواز شریف کیخلاف پریس کانفرنس کرنے کی پیشکش کس نے کی، سابق گورنر سندھ محمد زبیر کا بڑا انکشاف

کراچی(نیوز ڈیسک) پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما محمد زبیر کا کہنا ہے کہ میری بیوی نے کہاکہ اگر پارٹی چھوڑی تو میں آپکو چھوڑ کر چلی جاؤں گی۔انہوں نے ایک انٹرویو کے دوران بتایا کہ نواز شریف کے خلاف پریس کانفرنس کے عوض گورنر شپ کی آفر ہوئی تھی،میرے بیوی نے مجھے کہا کہ اگر پارٹی چھوڑی تو میں آپ کو چھوڑ کر چلی جاؤں گی۔زبیر عمر نے بتایا کہ آفر دینے والے لوگ سول کپڑوں میں تھے میں نے اپنی بیوی کو بلا کر بتایا اس نے کہا کہ جیل چلے جانا یہ حرکت نہ کرنا۔ان کا کہنا تھا کہ مجھے کئی آفرز ہوئیں مگر میں نے اپنی جماعت نہیں چھوڑی۔انہوں نے کہا کہ اسد عمر کے بیٹے کی شادی

میں پیپلز پارٹی کی سینئیر رہنما میرا ہاتھ پکڑ کر بار بار مجھے سے کہتی رہی کہ آپ پارٹی چھوڑ دیں تو میں نے مذاق میں بول دیا کہ آفر کیا ہے۔زبیر عمر نے کہا کہ جب میں سندھ کا گورنر تھا تب ہی مجھ پر دباؤ بڑھ گیا،یہ بھی کہا کہ ن لیگ کی حکومت اگلے پانچ سال نہیں آنی تاہم میں پارٹی کے ساتھ وفادار رہا۔واضح رہے سیاست کی دنیا میں دو بڑے نام اسد عمر اور محمد زبیر سگے بھائی ہیں تاہم دونوں کا تعلق مختلف سیاسی جماعتوں سے ہے۔اسد عمر پاکستان تحریک انصاف کے رہنما ہیں تو محمد زبیر ن لیگ کے رہنما ہیں۔ن لیگ کے دور حکومت میں محمد زبیر گورنر سندھ تعینات رہے۔ 2018ء کے الیکشن میں تحریک انصاف نے بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی تو نئی حکومت میں وزارت خزانہ اسد عمر کے حصے میں آئی۔اسد عمر نے وزیر خزانہ بننے کے بعد بھائی کے لیے اختیارات کا ناجائز استعمال نہیں کیا۔وزیر خزانہ اسد عمرنے اپنے بھائی محمد زبیرکو قوانین ریلکس کر کے گورنر کے طور پرپینشن دینے کی سمری مسترد کر دی تھی ۔ گورنر کو پنشن لینے کے لیے 2 سال تک گورنرکے طور پر کام کرنا لازمی ہوتا ہے۔ محمد زبیر نے18 ماہ بطور گورنر کام کیا ۔ وزیر خزانہ کے پاس اختیار ہے مگر اسد عمر نے قانون پر عمل کیا۔