وزیر اطلاعات مشتاق منہاس کی نااہلی؟ سیاحت کی بہتری کے لیے اقدامات نہ اٹھائے جا سکے،فیسٹیولز کے نام پر قومی خزانے کو ٹیکے

وزیر سیاحت مشتاق احمد منہاس کی نااہلی یا عدم دلچسپی، حکومت آزاد کشمیر کی جانب سے سال 2019 کو سیاحت کا سال قرار دئیے جانے کے باوجود کوئی خاطر خواہ اقدامات نہ اٹھائے جا سکے۔من پسند شخصیات کو نوازنے کیلئے فیسٹیول کے نام پر تصویری سیشن کئے گئے.آزاد کشمیر کے متعدد خوبصورت مقامات تاحال محکمہ سیاحت کی عدم دلچسپی کا شکار ہیں، حکومت آزاد کشمیر کی جانب سے سال 2019 کو سیاحت کا سال قرار دیا گیا تھاجس میں سیاحت کی ترقی کے حوالہ سے اقدامات اٹھا کر نئے مواقع پیدا کئے جانے تھے تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ محکمہ سیاحت افسران اور حکومتی شخصیات کی اندرونی چپقلش کے باعث کسی بھی نئے سیاحتی پلان پر عملدرآمد نہیں ہو سکا ہے۔صرف چند ایک

فیسٹیول کروائے گئے ہیں جہاں مبینہ طور پر من پسند شخصیات کو نوازنے کیلئے ٹھیکے الاٹ کئے گئے اور فوٹو سیشن کر کے سیاحتی سال گزار دیا گیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ 2019 میں نئی سیاحتی پالیسی کی منظوری بھی ہوئی تھی جس سے متعلق مبینہ اطلاعات ہیں کہ ابھی تک محکمہ کے متعدد افسران اور اہم حکومتی شخصیات اس سے مکمل طور پر ہی لاعلم ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ نئی سیاحتی پالیسی کے تحت پرائیویٹ سیکٹر کو فعال بناتے ہوئے نئے مواقع فراہم کرنا تھا جس سے سیاحت کا شعبہ اس وقت ایک بڑا منافع بخش بن سکتا تھا۔واضح رہے کہ 2019 صرف رپورٹس اور فوٹو سیشن تک سیاحت کا سال رہا مگر عملی اقدامات کے لحاظ سے مبینہ طور پر کارکردگی صفر رہی ہے۔