میر پور میں سرکاری پلاٹوں کی بندر بانٹ کا بڑا سکینڈل، اعجاز رضا نے بد عنوانی کے سارے ریکارڈ توڑ دیئے

اسلام آباد(آن لائن) آزاد کشمیر ادارہ ترقیات میرپور میں متبادل پلاٹس الاٹمنٹ کا دھندہ عروج پر،راتوں رات کروڑوں روپے مالیت کے پلاٹس منسوخ کر کے منظور نظر عناصر کو الاٹ ہونے لگے ، وزیر اعظم آزادکشمیر اور چیف سیکرٹری آزادکشمیر ادارہ ترقیات میں بدعنوانیوں اور بے ضابطگیوں کا فوری نوٹس لیں ۔تفصیلات کے مطابق آزادکشمیر حکومت کا گڈ گورننس دعویٰ بیانات تک محدود لیکن عملی طور پر قواعد وضوابط کی پامالی معمول کا حصہ ہے ،وزیر اعظم آزادکشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان کا ادارہ ترقیات میرپورکیلئے عزم تھا کہ وہ ادارہ کو مافیا سے پاک کرنے کیلئے پلاٹوں کی بندر بانٹ کی دوکان بند کر کے

عام لوگوں کا اعتماد بحال کروں گا لیکن ادارہ ترقیات کے ڈائریکٹر جنرل اعجاز رضا نے اس کے برعکس اقدام اٹھا کر ماضی کی بدعنوانیوں کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے اور عام آدمی کو ریلیف دینے کی بجائے پلاٹ مافیا گروہ کی ملی بھگت سے الاٹیوں و مشتریوں کے بیش قیمت پلاٹس کو پہلے منسوخ اور اس کے بعد یہ گروہ خود گہری کھائیوں میں لگے پلاٹ کی فائل اونے پونے دام خرید کر اس پلاٹ کے ناقابل تعمیر ہونے کی درخواست پر متبادل پلاٹ الاٹ کر کے صرف اس مد میں کروڑوں روپے ماہانہ لوٹ رہا ہے ۔اس لوٹ مار کا واضح ثبوت پلاٹ نمبر 2L/6A سیکٹر ڈی تھری ویسٹ تعدادی کنال محکمہ مال کے ملازم اور متاثرہ منگلا ڈیم چوہدری الطاف کو الاٹ تھا جبکہ ایک پانچ مرلہ کا پلاٹ بھی چوہدری الطاف کو الاٹ تھا جس کو جواز بنا کر اعجاز رضا نے کنال کا پلاٹ منسوخ کرکے آزادکشمیر کے ایک سینئربیوروکریٹ چوہدری لیاقت علی ولد فضل حسین کو متبادل الاٹ کیا لیکن چوہدری الطاف کے احتجاج پر سنیئر آفیسر پلاٹ لینے سے پیچھے ہٹ گیا جس کے بعد ڈائریکٹر جنرل نے8 مارچ 2019 کو مذکورہ پلاٹ چوہدری الطاف اور چوہدری لیاقت کے نام سے منسوخ کرکے زیر نمبریDDEM1712-16 ادارہ کو عود کرلیا حالانکہ اعلیٰ عدلیہ کے فیصلہ جات کے مطابق اگر کسی شخص کو پانچ مرلہ کا پلاٹ الاٹ ہے تو وہ ایک کنال پلاٹ کا مزید استحقاق رکھتا ہے ، پلاٹ عود کرنے کے بعد 11 مارچ 2019 کوایک الاٹی کی جانب سے ڈائریکٹر جنرل کو درخواست دلائی جاتی ہے کہ مجھے پلاٹ نمبر33 تعدادی کنال گلشن کشمیر الاٹ ہے لیکن ابھی تک قبضہ نہیں مل پا رہا لہذا مجھے ترقی یافتہ سیکٹر میں پلاٹ الاٹ کیا جائے تاکہ مکان تعمیر کر کے رہائش رکھ سکوں جس پر

11 مارچ کو DG ٹاؤن پلانر اور ڈائریکٹر اسٹیٹ کو متبادل پلاٹ الاٹمنٹ کارروائی کا لکھتا ہے اوراسی روز11 مارچ کو ہی الاٹمنٹ کی تمام کارروائی مکمل کرکے پلاٹ نمبر 2L/6A سیکٹر ڈی تھری ویسٹ تعدادی کنال کی الاٹمنٹ کا نوٹس بھی جاری ہوجاتا ہے حالانکہ ایک ہی دن میں ہونے والا پراسس روٹین میں کئی ماہ کا ہے۔ ایک ہی دن میں الاٹمنٹ پراسس کے بعد اگلے روز سرکاری خزانے میں صرف ایک لاکھ 42 ہزار روپے جمع کرا کے 14 مارچ کو مافیا اپنے ہی کار خاص محلے دار محمد اقبال ولد دل محمد کے نام 35 لاکھ روپے کے عوض منتقل کیا جسکے بعد ایک پراپرٹی ڈیلر کو 55 لاکھ روپے میں یہ پلاٹ فروخت کیا گیا

جس پر اس وقت دو منزلہ مکان بھی تعمیر جاری ہے، اس پلاٹ پراسس میں انتہائی برق رفتاری اور صرف 3 روز میں 35 لاکھ میں فروخت ہی بہت سے پس پردہ گھنائونے کرداروں کو بے نقاب کر رہی ہے۔عوامی سماجی حلقوں نے وزیر اعظم آزادکشمیر ، چیف سیکرٹری آزادکشمیرسے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ادارہ ترقیات میں بدعنوان عناصر کی لوٹ مار کو روکنے کیلئے متبادل الاٹمنٹ / ایڈجسٹ منٹ پر فوری پابندی لگا ئیں اور پسند ناپسند کی بنیاد پر متبادل الاٹمنٹ کو فوری منسوخ کرتے ہوئے اس دھندے میں ملوث ڈائریکٹر جنرل ، ڈائریکٹر اسٹیٹ اور ٹاؤن پلانر کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جائے ۔