پاکستان میں 446 جان لیواء جعلی ادویات بنائے جانے کا انکشاف، محکمہ صحت نے فہرست جاری کردی

اسلام آباد (آن لائن ) پاکستان میں 446 جان لیوا جعلی ادویات تیار کئے جانے کا انکشاف۔ وزارت صحت نے جعلی ادویات بنانے والی کمپنیوں کی فہرست جاری کردی ہے وزارت صحت کی جانب سے گزشتہ پانچ سالوں کے دوران ملک میں مختلف اقسام کی جان لیوا اور جعلی ادویات کی تفصیلات جاری کردی ۔ گزشتہ پانچ والوں کے دوران وفاقی اور صوبائی ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹریزکی جانب سے ادویات کی رپورٹس ملنے کے بعد جعلی قرار دیا ۔وزارت صحت کے مطابق سال 2015 میں 202، سال 2016 میں 96، سال 2017میں 86، سال 2018 میں41 اور سال 2019 میں 24 جعلی ادویات جعلی تیار کی گئیں۔2015 میں ماروی فارما سوٹیکلز کراچی نے ایمکوف نامی کھانسی کا جعلی شربت تیار کیا، جبکہ 2018 میں کے او ایچ ایس فارماسوٹیکلز حیدرآباد نے سیمو ڈرل ایکسپیکٹورنٹ جعلی تیار کیا گیا سال 2018 ہی میں ایورسٹ فارما سوٹیکلز اسلام آباد

نے زیرو ڈول ٹیبلٹس جعلی تیار کیں۔امروز فارما سوٹیکلز کراچی نے امرو پائیرون انجیکشن جعلی اور غیر معیاری تیار کئے جبکہ2018 میں ایس۔جے اینڈ جی۔ فضل الہی کراچی نامی کمپنی نے میگنیٹ سسپنشن جعلی تیار کیا۔2018 میں امروز فارما اسلام آباد نے کوئینوزیف 250 ملی گرام گولیاں جعلی تیار کیں جب کہ 2018 میں ہی ایورسٹ فارما سوٹیکلز اسلام آباد نے کارڈول گولیاں جعلی تیار کیں۔2019 میں کراچی کی گابا فارماسیوٹیکلز لیبارٹریز نے جعلی اور غیر معیاری گلتران ٹیبلٹس بنائی جبکہ گابافارماسیٹوٹیکلز نے جعلی کلورفینی مریم سیرپ بھی تیار کیا۔سینٹرل ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری کراچی سے ادویات کی جعلی رپورٹس سامنے آنے کے بعد ادویات کو جعلی قرار دیا گیا ۔وزات صحت کے حکام کے مطابق سینٹرل ڈرگز ٹیسٹنگ لیبارٹری سے ادویات کے جعلی ہونے کی تصدیق کے بعد عوام کو بھی ممکنہ خطرے سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔