بیرون ملک سے موبائل فونز لانے والوں کیلئے خوشخبری، سیلز ٹیکس میں زبردست کمی کردی گئی

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) ایف بی آر نے موبائل فون کی درآمد پرسیلز ٹیکس کم کردیا، 100 ڈالر کے موبائل فون پر سیلزٹیکس1320 روپے سے کم کرکے200 روپے کردیا گیا، 16 فیصد یا زائد سیلز ٹیکس ادائیگی سے درآمد اشیاء پر ویلیوایڈیشن ٹیکس لگا دیا گیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ایف بی آر نے سال 2020ء کیلئے سیلز ٹیکس سرکلر نمبر1 جاری کردیا ہے۔جس کے تحت ایک سو ڈالر تک کے موبائل فون پر سیلزٹیکس 1320 روپے سے کم کرکے 200 روپے کردیا گیا ہے، اسی طرح 16 فیصد یا زائد سیلز ٹیکس ادائیگی سے درآمد کی گئی اشیاء پر اضافی3 فیصد ویلیوایڈیشن ٹیکس لگایا گیا ہے۔ مزید برآں آئندہ8 سے 10 سال کے

دوران انجینئرنگ سیکٹرکی برآمدات کو 12 ارب ڈالر تک بڑھایا جا سکتا ہے، انجینئرنگ مصنوعات کی برآمدات میں موبائل فون کی صعنت کی برآمدات کو ایک ارب ڈالر تک توسیع دی جاسکتی ہے۔انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ (ای ڈی بی) کے چیئرمین الماس حیدر نے کہا ہے کہ موبائل فونز مینوفیچکرنگ کی پالیسی کو حتمی شکل دی جا رہی ہے جس کا اعلان ایک ماہ تک کر دیا جائے گا۔ اپنے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ اندرون ملک موبائل فون سیٹس کی تیاری کے لئے نہ صرف مقامی بلکہ غیر ملکی کمپنیوں کی حوصلہ افزائی کی جائے گی جس کے لئے پالیسی کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس وقت پاکستان میں 10 اسمبلرز ٹو جی موبائل فونز تیار کر رہے ہیں تاہم موبائل فونز اسمبلرز حکومت کی پالیسی کے منتظر ہیں تاکہ اندرون ملک فور جی فون سیٹس کی تیاری کا عمل شروع کیا جائے۔ الماس حیدر نے کہا کہ پاک چین مشترکہ منصوبہ سے کراچی میں جدید ترین سمارٹ فونز کی تیاری پر ابتدائی طورپر 160 ملین روپے کی سرمایہ کاری کی گئی ہے تاہم نئی پالیسی کے اجراء سے موبائل فون سیٹس کی تیاری کے فروغ سے صرف تین سال کے دوران ایک لاکھ 20 ہزار روزگار کے نئے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ انجینئرنگ سیکٹر کی ترقی سے آئندہ 8 سے 10 سال کے دوران شعبہ کی برآمدات کو 12 ارب تک توسیع دی جا سکتی ہے اور اس طرح شعبہ کی برآمدات میں موبائل فونز کی صنعت کی برآمدات کو بھی ایک ارب ڈالر تک بڑھایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان موبائل فونز مینوفیکچرنگ کی پالیسی کے اجراء سے مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا اور اس سے نہ صرف روزگار کے لاکھوں نئے مواقع پیدا کرنے میں مدد ملے گی بلکہ برآمدات کے فروغ سے قیمتی زرمبادلہ کے حصول سے تجارتی خسارہ کو بھی کم کیا جا سکے گا۔