ایران اور سعودی عرب کے درمیان فوجی تصادم کے پاکستان پر کیا تباہ کن اثرات مرتب ہونگے، وزیراعظم عمران خان نےآگاہ کردیا

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ ایران اور سعودی عرب کے درمیان فوجی تصادم پاکستان کے لیے تباہ کن ثابت ہوگا اور اسلام آباد کوشش کر رہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات خراب نہ ہوں۔جرمن نشریاتی ادارے ‘ڈوئچے ویلے’ کو انٹرویو کے دوران وزیر اعظم نے سعودی عرب اور ایران کے درمیان کشیدگی کے حوالے سے کہا کہ ‘یہ درست ہے کہ ہم مشکل ہمسائیوں میں گھرے ہوئے ہیں اور ہمیں اپنے اقدامات کو متوازن رکھنا ہے، اس لیے ایران اور سعودی عرب کے درمیان فوجی تصادم پاکستان کے لیے تباہ کن ہو گا۔’انہوں نے کہا کہ ‘ہم پوری کوشش کر رہے ہیں کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات خراب نہ ہوں،

یہ ایک ایسا خطہ ہے جو ایک اور تنازع کا متحمل نہیں ہو سکتا۔’افغانستان میں قیام امن سے متعلق انہوں نے کہا کہ ‘پاکستان، افغانستان میں قیام امن کے لیے اپنی بہترین کوششیں کر رہا ہے اور ہماری دعا ہے کہ طالبان، امریکا اور افغان حکومت مل کر قیام امن کی منازل طے کریں۔’بھارتی حکومت کے مسلمان مخالف اقدامات کے حوالے سے وزیر اعظم نے کہا کہ ‘بھارت میں ایک ایسی خاص انتہا پسندانہ نظریاتی سوچ غالب آ چکی ہے جو ‘ہندوتوا‘ کہلاتی ہے، یہ راشٹریہ سویم سویک سنگھ (آر ایس ایس) کی نظریاتی سوچ ہے جو جرمن نازیوں سے متاثر ہو کر قائم ہوئی اور جس طرح نازی نظریے کی بنیاد اقلیتوں سے نفرت پر رکھی گئی تھی، آر ایس ایس کی بنیاد بھی مسلمانوں اور مسیحیوں سمیت دیگر اقلیتوں سے نفرت ہی ہے۔’ان کا کہنا تھا کہ ‘یہ بھارت اور اس کے ہمسایوں کے لیے ایک المیہ ہے کہ اس ملک پر آر ایس ایس نے قبضہ کر لیا ہے، وہی آر ایس ایس جس نے عظیم مہاتما گاندھی کو قتل کروایا تھا، بھارت ایٹمی ہتھیاروں کا حامل ایک ایسا ملک ہے جسے انتہا پسند چلا رہے ہیں۔’انہوں نے کہا کہ ‘بھارت میں آر ایس ایس کے نظریات پوری طرح غالب آنے کی بات اس وقت بھی پوری طرح ظاہر ہو گئی تھی جب بھارت نے یکطرفہ طور پر کشمیر کو اپنے ریاستی علاقے میں ضم کر لیا، حالانکہ اقوام متحدہ کی کئی قراردادوں کے مطابق بھی یہ خطہ پاکستان اور بھارت کے مابین ایک متنازع علاقہ ہے۔آزاد کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے متعلق سوال کے جواب میں وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ‘اس کا پتہ چلانا بہت ہی آسان ہے، ہم دنیا کے کسی بھی حصے سے کسی کو بھی پاکستان آنے کی دعوت دیتے ہیں آئیے، پہلے اس طرف کے کشمیر کا دورہ کیجیے

اور پھر بھارت کے زیر انتظام حصے کا اور خود ہی فیصلہ کر لیجیے، تاہم مجھے یقین ہے کہ یہ مبصرین آزاد کشمیر میں جا سکتے ہیں مگر انہیں مقبوضہ کشمیر میں جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔’مسئلہ کشمیر پر عالمی برادری کی جانب سے بھرپور آواز نہ اٹھائے جانے کے حوالے سے عمران خان نے کہا کہ ‘ بدقسمتی سے مغربی ممالک کے لیے ان کے تجارتی مفادات زیادہ اہم ہیں، بھارت ایک بڑی منڈی ہے اور یہی وجہ ہے کہ 80 لاکھ کشمیریوں اور بھارت میں مجموعی طور پر اقلیتوں کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے، اس پر عالمی برادری کے رویے میں قدرے سرد مہری پائی جاتی ہے۔’انہوں نے کہا کہ ‘بھارت کا متنازع

شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) واضح طور پر اقلیتوں کے خلاف ہے، خاص طور پر بھارت کے 20 کروڑ مسلمانوں کے خلاف لیکن ان تمام امور پر دنیا کے خاموش رہنے کی وجہ زیادہ تر تجارتی مفادات ہیں۔چین کے ایغور مسلمانوں کے لیے زیادہ آواز نہ اٹھائے جانے سے متعلق سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ‘پہلی بات یہ ہے کہ جو کچھ بھارت میں ہو رہا ہے، اس کا موازنہ چین کے ایغور باشندوں سے نہیں کیا جا سکتا، دوسری بات یہ کہ چین ہمیشہ ہی ہمارا بہت قریبی دوست رہا ہے، اس نے انتہائی مشکل حالات میں ہماری بہت مدد کی، اس لیے ہم چین کے ساتھ مختلف امور پر نجی سطح پر تو بات کرتے ہیں لیکن عوامی سطح پر نہیں کیونکہ یہ حساس معاملات ہیں۔