حکومت کا سرکاری ملازمین کی ریٹائرمنٹ کی عمر میں اضافے کا اعلان

پشاور(نیوز ڈیسک)خیبرپختونخوا حکومت نے سرکاری ملازمین کیلئے ریٹائرمنٹ کی حد عمر 60 سال سے بڑھا کر 63 سال کر دی ہے۔تفصیلات کے مطابق خیبرپختونخوا میں ہر سال ریٹائرڈ ملازمین کو پینشن کی مد میں 70ارب روپے ادا کیے جاتے ہیں تاہم مدت ملازمت میں اضافے سے حکومت نے تین سالوں میں 54 ارب کی بچت کا منصوبہ بنا لیا ہے۔سرکاری اعداد وشمار کے مطابق خیبرپختونخوا میں ہر سال 5 ہزار کے قریب ملازمین ریٹائرڈ ہوکر پیشن وصول کرتے ہیں، جس کے لیے گزشتہ سال 50 ارب جبکہ رواں سال اخراجات 70 ارب پر پہنچ گئے ہیں جبکہ ترقیاتی بجٹ 30 فیصد سے کم ہوکر 15 فیصد کی خطرناک شرح پر پہنچ گیا ہے۔اس ضمن میں گفتگو کرتے ہوئے صوبائی وزیر خزانہ تیمور سلیم جھگڑا نے کہا ہے

کہ اس نئی قانون سازی سے ہر سال نئی ملازمتیں پیدا کی جائیں گی جبکہ موجودہ ملازمین کی ترقی کو نہیں روکا جائے گا۔انہوں نے بتایا کہ حکومت رواں سال 30 ہزار سے زائد نئی بھرتیاں کرنے جا رہی ہے جس میں سے 17 ہزار نوکریاں قبائلی اضلاع میں رکھی جائیں گی۔ان کا کہنا تھا کہ اس نئی قانون سازی سے قومی خزانے میں اربوں روپے کی بچت کی جائے گی ۔حکومت کا نئی پالیسی پر دعوی ہے کہ عوام کے یہ تحفظات غیر حقیقی ہیں کیونکہ حکومت صرف محکمہ تعلیم میں ہی مزید 25 ہزار اساتذہ کی بھرتی کی منصوبہ بندی کررہی ہے۔اس وقت صرف 8 فیصد افراد سرکاری نوکری کرتے ہیں لہذا حکومت نئی پالیسی سے بچنے والی رقم باقی 92 فیصد عوام کی ترقی کے لیے موجود بجٹ میں شامل کرنا چاہتی ہے۔