میں اپنی وزارت سے بہت تنگ آگیا ہوں، وہ حکومت وزیر جو وزارت ملنے پر بھی خوش نہیں

شاور(نیوز ڈیسک) خیبرپختونخوا کے وزیر اطلاعات شوکر یوسفزئی اکثرو اوقات اپنے بیانات کی وجہ سے لطیفوں اور میمز کا مرکز بنے رہتے ہیں۔ماضی میں انہوں نے کئی ایسے بیانات دئیے جو ایک طرف خبروں کی زینت بنے تو دوسری طرف سوشل میڈیا پر مذاق بن گئے۔حال ہی میں انڈیپنڈنٹ اردو کو انٹریو دیتے ہوئے شوکت یوسف زئی نے کہا کہ میرے خیال میں وزارت وہ ہونی چاہئیے جس میں آپ ڈیلیور کر سکیں اور عوام کو فائدہ پہنچے۔میری موجودہ وزارت سے براہ راست عوام کو کوئی فائدہ نہیں ہو رہا۔انہوں نے کہا میں اس وزات سے بڑا تنگ ہوں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ اس میں صرف تنقید کا جواب دینا پڑتا ہے لیکن اگر آپ کے

پاس ایسا کوئی محکمہ ہو جس سے عوام کے ساتھ رابطہ رہتا ہو تو اس سے عوام کو بھی فائدہ ہوتا ہے اور ایک وزیر کی کارگردگی بھی سامنے آتی ہے۔انہوں نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمود خان کے بارے میں بتایا کہ وہ روزانہ کی بنیاد پر ملاقاتیں کر رہے ہوتے ہیں۔اس کے علاوہ ان کے پاس جتنے بھی محکمے ہیں ان کی نگرانی اور کارگردگی دیکھ رہے ہوتے ہیں۔یہ بات درست ہے کہ وہ میڈیا پر کم آتے ہیں لیکن وہ بہت کام کر رہے ہیں۔ان کے بارے میں جوتاثر پھیلایا جاتا ہے کہ وہ میڈیا پر بات نہیں کر سکتے یہ غلط ہے۔بس وہ سکرین پر اپنی پروموشن نہیں کر سکتے۔واضح رہے اس سے قبل بھی یوسفزئی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے منفرد بیان دیئے تھے ۔ڈالر کی قیمت بڑھنے کے حوالے سے سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ ڈالر کی قیمت میں اضافے سے ہمیں 3ارب روپے کا فائدہ ہوا ہے۔ انہوں نے عجیب منطق پیش کرتے ہوئے مزید کہا کہ اگر ڈالر 1ہزارروپے کا ہوجائے تو شاید اس سے بھی زیادہ فائدہ ہوگا۔یاد رہے کہ اس سے قبل حکومتی وزاراء اور مشیران مٹر 5 روپے فی کلو اور ،ٹماٹر 17روپے فی کلو ہونے کا دعویٰ بھی کر چکے ہیں۔دوسری جانب بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے ترسیلات زر میں مزید اضافہ کا امکان ہے، سٹیٹ بینک نے فری لانسرز کو پانچ ہزار ڈالر ماہانہ منگوانے کی اجازت دے دی، ماہرین کے مطابق ترسیلات زر کا حجم رواں مالی سال 22 ارب ڈالر سے زائد ہو جانے کا امکان ہے۔ تاہم وزیراطلاعات کے مہنگے آٹے کے بیان کو سوشل میڈیا پر صارفین کی جانب سے بھی تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ کچھ صارفین نے تنقید کرتے ہوئے وزیراطلاعات شوکت یوسفزئی کے ماضی کے کچھ بیانات کا حوالہ بھی دیا۔