بیرسٹر سلطان 30سال سے تقسیم کشمیر کے ایجنڈے پر کاربند؟ تحریر: بابر انور عباسی

نوے کی دہائی میں پیپلز پارٹی اور ن لیگ ایک دوسرے کے سخت مخالف تھے، ن لیگ کو پیپلز پارٹی پر تنقید کے لیے بہانے کی تلاش ہوتی تھی،ایسے میں آزاد کشمیر کے نوجوان سیاستدان بیرسٹر سلطان محمود چوہدری مسلم لیگ ن کے رہنما راجہ ظفر الحق سے ملاقات کرتے ہیں، راجہ ظفر الحق اور بیرسٹر کے درمیان جو گفتگو ہوتی ہے وہ پیپلزپارٹی پر تنقید کے لیے مسلم لیگ ن کے پاس کسی نعمت سے کم نہ تھی کیونکہ کہ اس میں تقسیم کشمیر کا عنصر موجود تھا، اس دور میں تقسیم کشمیر کی بات ان ہونی سمجھی جاتی تھی اور ایسے لوگ غدار وطن سمجھے جاتے تھے، راجہ ظفر الحق نے موقعے کا فائدہ اٹھایا اور سینٹ

میں جاندار تقریر کرتے ہوے کہا کہ آزاد کشمیر کے ایک چٹے گورے لڑکے جس کا نام بیرسٹر سلطان ہے نے انسے ملاقات کی اور بتایا کہ اسکی بیظیر بھٹو سے ملاقات ہوئی ہے اور بیظیر نے پیپلزپارٹی میں شامل ہونے کا کہا اور ساتھ شرط بھی عائد کی کہ آپکو وزیر اعظم بنایا جائے گا لیکن سیز فائر لائن کو مستقل سرحد قرار دینے کے لیے کردار ادا کرنا پڑے گا، انیس سو نوے کی ہی بات ہے مجاہد اول سردار عبدالقیوم خان بیرسٹر سلطان محمود چوہدری سے صدارتی الیکشن جیت چکے تھے، سردار صاحب کو پہلی دفعہ دل کا دورہ پڑا تھا؛ اور وہ ایم ایچ میں زیر علاج تھے، اس وقت کے آرمی چیف، قائم مقام وزیر اعظم سمیت کئی لوگ انکی عیادت کے لیے تشریف لائے۔اسی اثناء میں اس وقت کے ڈی جی آئی ایس آئی جنرل حمید گل بھی مجاہد اول سردار عبدالقیوم خان سے ملاقات کے لیے آئے وہاں اس وقت مسلم کانفرنس کے سربراہ سردار عتیق احمد خان کے علاوہ اور بھی اہم شخصیات موجود تھیں، جنرل حمید گل نے مجاہد اول کی عیادت کے دوران جہاں دیگر امور پر گفتگو کی وہیں انہیں بتایا کہ ہمیں خفیہ اطلاع ملی تھی کہ آپکے الیکشن کے دنوں میں باہر ملک سے 50 کروڑ روپے کراچی منتقل ہوئے ہیں اور وہ پیسہ بھارت سے آیا ہے، کراچی منتقل ہونے والی رقم آزاد کشمیر میں آپکو بدترین شکست دلانے کے لیے استعمال ہونی تھی، جنرل حمید گل نے کہا کہ ان پیسوں میں سے کچھ پیسوں پر پیپلز پارٹی کے لوگوں نے ہاتھ صاف کیا جسکی وجہ سے پیسہ مقررہ وقت پر آزاد کشمیر پہنچنے میں تاخیر ہوئی تو کچھ ہم نے رکاوٹ ڈالی۔ یہ سلسلہ ابھی روکا نہیں بلکہ تیس سال بعد بھی جاری ہے،ہندوستان کے مقبوضہ کشمیر کو اپنا حصہ بنانے کے بعد آزاد کشمیر کو پاکستان کا صوبہ بنانے

کی افواہیں پھیلائی جاتی ہیں اور خود کو ہر آمر کے دور میں بر سر اقتدار رکھنے کے باوجود سالار جمہوریت کہنے والے سابق وزیر سردار سکندر حیات خان کا بیان سامنے آتا ہے کہ اگر پاکستان آزاد کشمیر کو پاکستان کا صوبہ بنانا چاہتا ہے تو میں اسکی حمایت کروں گا۔آزاد کشمیر کو پاکستان کا صوبہ بنانے کی خبروں میں کتنی صداقت ہے یہ تو وقت بتائے گا لیکن فی الحال بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کی حرکتیں ان خبروں پر تحقیق کرنے پر مجبور کر رہی ہیں کیونکہ کہ سکندر حیات کے بیان جاری کرتے ہی بیرسٹر سلطان محمود چوہدری جو کشمیر سے متعلق کسی آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت نہیں کرتے وہ سکندر حیات

سے ملتے ہیں، ذرائع کے مطابق ملاقات کے دوران ان سے آزاد کشمیر کو پاکستان کا صوبہ بنانے کی صورت میں حمایت کرنے کے موقف سے پیچھے نہ ہٹنے کی یقین دہانی لیتے ہیں،وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات کو پہنچ جاتے ہیں، عمران خان سے ملاقات کے دوران جہاں آزاد کشمیر کے مستقبل بارے گفتگو ہوتی وہیں شاہ سے زیادہ شاہ کی وفاداری ظاہر کرنے کے لیے بیرسٹر سلطان محمود چوہدری سکندر حیات کے اس موقف بارے عمر ان خان کو آگاہ کرتے ہیں اور وہیں طے ہوتا ہے کہ اگلے ہفتے سکندر حیات کو ملاقات کے لئے بلایا جائے، ملاقات میں پارٹی میں شمولیت کے علاوہ سکندر حیات پاکستان بارے اپنا نقطہ نظر

سامنے رکھتے ہوے اپنے اس موقف کو بھی دہراتے ہیں جو انہوں آزاد کشمیر کے صوبہ بننے کے حوالے سے صحافیوں سے گفتگو میں اپنایا تھا، ذرائع کے مطابق عمران خان سکندر حیات کے اس موقف کو سن کر خوش ہوے اور بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کی صلاحیتوں کو سراہا۔قارئین 5 اگست 2019 ء کے بعد کی مقبوضہ وادی کی صورت حال اور مسئلہ کشمیر پر عمران خان کے متزلزل موقف، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی زبان کی پھسلن اور گورنر سندھ عمران اسماعیل کی ٹویٹ میں آزادکشمیر کو پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر قرار دینے کے بعد اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ کتنی تیزی کے ساتھ آزادکشمیر کے متنازع حصہ کو پاکستان میں ضم کرنے کی کاوش ہو رہی ہے اور خصوصی سٹیٹس کی حامل آزاد ریاست کی بساط لپیٹنے کے لیے سیاسی مہروں کو کیسے حرکت میں لایا جار ہا ہے۔