خواتین مخالف بیانات،کنیئرڈ کالج نے خلیل الرحمان قمرسے تقریب کادعوت نامہ واپس لےلیا

لاہور(نیوزڈیسک) کنیئرڈکالج نے خلیل الرحمان کے خواتین سے متعلق متنازعہ بیانات پر تقریب کا انوی ٹیشن واپس لے لیا۔ تفصیل کے مطابق کنیئرڈ کالج کی جانب سے خواتین کے معاشرے میں پھیلتے بُرے تاثر سے متعلق تقریب میں مصنف خلیل الرحمان قمر کو دعوت دی تھی۔ کنیئرڈکالج میں رکھی گئی تقریب میں ہدایت کار آغا جارار کو بھی مدح کیا گیا تھا ۔مصنف ”میرے پاس تم ہو“ خلیل الرحمان قمر کے سوشل میڈیا پر چلنے والے متنازعہ بیانات پر کالج انتظامیہ نے رکھی بحث کو ہی معطل کر دیا۔ یونیورسٹی کی طالبات کا کہنا ہے کہ خواتین کے خلاف نظریے رکھنے والے میرے پاس تم ہو کے مصنف خلیل الرحمان قمر جیسے انسان کو خواتین کی یونیورسٹی میں نہیں بلایا جا سکتا ۔ انہوں نے موقف اختیار کیا کہ خلیل الرحمان قمر نے کھلے عام خواتین کو فطری طور پر بے وفا قرار دیا۔یہ بات بھی قابل غور رہے جہاں خلیل الرحمان کے

ڈرامے میرے پاس تم ہو نے سارے ریکارڈ توڑ دیئے ہیں دوسری جانب خواتین سے متعلق متازعہ بیان پر خلیل الرحمان قمر کو شدید تنقید کا سامنا ہے۔ واضح رہے اس سے قبل بھی ڈرامہ ”میرے پاس تم ہو“ کے مصنف خلیل الرحمان کو متنازعہ بیانات پر شدید تنقیدکا سامنا کر پڑا تھا نجی ٹی وی کے چینل پر گفتگو کرتے سماجی کارکن طاہرہ عبداللہ نے کہا کہ فمینزم کوئی تنظیم نہیں ہے بلکہ ایک سوچ اور نظریہ ہے جو کہ سمجھتا ہے کہ عورت بھی انسان ہے۔فمینزم برابری کے حقوق کی بات کرتی ہے۔ طاہرہ عبداللہ نے کہا کہ کسی عورت کی عزت کے ہاتھ میں نہیں ہے میرے اندر ہیں۔ طاہر عبداللہ نے کہا کہ میں اسی عورت سے پیدا کی جاتی ہو جس سے کسی مرد کو پیدا کیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ عورت جب پیدا ہوتی ہئے تو اپنے حقوق لے کر دنیا میں آتی ہے۔ میرے پیدا ہونے کے بعد میرے حقوق کو تحفظ آئین پاکستان دیتا ہے۔