پی ٹی آئی فارن فنڈنگ کیس،درخواست گزار کو دھمکیاں ملنے لگیں

لاہور(نیوز ڈیسک) تحریک انصاف کے منحرف رکن اورپی ٹی آئی فارن فنڈنگ کیس کے درخواستگزار اکبر ایس بابر کو کیس کو پیچھے ہٹنے کیلئے دھمکیاں دی جانے لگیں، یہ ساری چیزیں پی ٹی آئی کے مرکزی دفتر سے نکلتی ہیں،میرا مقصد پارٹی کو ادارہ بنانا تھا، لیکن مجھ پر سنگین الزامات عائد کیے گئے۔ انہوں نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ پی ٹی آئی فارن فنڈنگ کیس کے درخواستگزار اکبر ایس بابر نے الیکشن کمیشن میں درخواست دی ہے کہ ان کو کیس واپس لینے کیلئے دھمکی آمیز کالزموصول ہوئی ہیں،اور مجھے ہراساں کیاجارہا ہے۔میں نے جس جماعت کے خلاف کیس کیا ہے وہی لوگ مجھے ہراساں

کررہے ہیں۔اکبرایس بابر نے کہا کہ میں نے تحریک انصاف کے خلاف پارٹی فنڈنگ کیس نومبر 2014ء میں کیا ہے،اس کے اگلے دن ہی مجھ پر بڑے سنگین الزامات لگائے گئے، مجھ پر کیس بنایا گیا۔جبکہ میں تحریک انصاف کا بانی ممبر ہوں، ہماری عمران خان کے ساتھ بڑی قربت تھی۔سیاسی اختلاف اپنی جگہ ہے، میں نے تین سال انتظار کیا اور میرا مقصد یہ تھا کہ پارٹی کو ایک ادارہ بنایا جائے۔انہوں نے کہا کہ مجھے بڑے باوثوق لوگوں سے بھی دھمکی کے پیغامات ملے ہیں، یہ سارے معاملات پی ٹی آئی کے مرکزی دفتر سے نکلتی ہیں۔دوسری جانب وزیراعظم عمران خان نے پارٹی سربراہ کی حیثیت سے پاکستان تحریک انصاف کیخلاف غیرملکی فنڈکیس میں اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ عدالت عظمیٰ میں چیلنج کر دیا ہے۔عمران خان نے بطور چیئرمین پی ٹی آئی اپنی درخواست میں مؤقف اپنایا ہے کہ ہائی کورٹ نے انٹراکورٹ اپیل پر 4 دسمبر کو خلاف قانون آرڈر پاس کیا۔حنیف عباسی بنام عمران خان کیس میں سپریم کورٹ نے قوائد طے کر دیئے تھے۔ قانون کی نظر میں الیکشن کمیشن کوئی کورٹ یا ٹریبونل نہیں۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی کی فارن فنڈنگ سے متلعق کیس انکوئری کمیٹی کے پاس زیر التوا ہے۔ الیکشن کمیشن نے درخواست گزار کو جو احکامات جاری کیے ان کو عدالتوں میں چیلنج کیا گیا۔سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ اکبرایس بابر کو پی ٹی آئی سے نکالاگیا اور شو کاز نوٹس بھی جاری کئے گئے۔ الیکشن کمیشن اور ہائی کورٹ میں اکبر ایس بابر کی درخواستیں بدنیتی پر مبنی ہیں۔