ڈاکٹر خیراتی ۔۔۔ تحریر: معین الدین

معمولی شخصیت نہیں، ان کے علم و فضل کا اندازہ ان کے خطبات کو سن کر با آسانی لگایا جا سکتا ہے ۔ جن میں چین ، جاپان،برطانیہ ہو یا جرمنی سے لے کر سکینڈ نیوین ممالک کے علاوہ ان خطوں کی مثالیں جا بجا موجود ہوتی ہیں جن کا ذکر تک شاید آپ نے نہ سنا ہو گا۔بڑے بڑے آئیڈیاز دینے میں بھی انہیں کمال حاصل ہے۔ انہوں نے ہی سب سے پہلے بغیر روپے پیسے کے عوام کو خوشحال بنانے کا منصوبہ دیا۔ جسے سن کر قوم خصوصا نئی نسل نہال اور ان کی گرویدہ ہو گئی۔ یوں تو ڈاکٹر خیراتی خود کو ڈاکٹر مہاتیر کا مقلد بتاتے ہیں لیکن وہ ان کی سائینس پر عمل نہیں کرتے کیونکہ وہ خود نئے سے نئے فارمولے ایجاد کرنے کے ماہر ہیں۔

اور اپنی ٹیکنالوجی کو جدید ترین قرار دیتے ہیں اور اس سب کی بنیاد ہے نو انوسٹمنٹ پالیسی اس لئے نہ تو وہ خود انوسٹ کرنے پر یقین رکھتے ہیں اور نا ہی یہ چاہتے ہیں کہ ملک میں کوئی اور انوسٹمنٹ کر پائے ان کا ایمان ہے کہ کھائے ہوئے کیلے کے چھلکے میں بھی توانائی موجود ہے سنگترے کے پھوک کو بھی دوبارہ نچوڑا جائے تو رس نکل سکتا ہے۔کچھ کچھ شک پڑتا ہے کہ کمائے گی دنیا کھائیں گے ہم بھی ان ہی اقوال زریں ہے ان پالیسیوں پر عملدرآمد کیلئے ان کی کاوشیں کوئی ڈھکی چھپی نہیں۔ اس لئے حکومت ملتے ہی انہوں نے ملک میں تجارت و سرمایہ کاری یا روزگار کی مکمل حوصلہ شکنی کی اور اپنے ویژن کے مطابق نو انوسٹمنٹ پالیسی کے تحت پیسہ اکٹھا کرنے کیلئے دوست ممالک کی راہ لی لیکن اس مشن کا نتجہ کچھ اس قسم کا کہا جا سکتا ہے کہ دوست ممالک یا تو اس عظیم لیڈر کے مشن کو صحیح طور پر سمجھے ہی نہیں یا پھر بلکل ہی سمجھ گئے اور تھوڑا بہت دے دلا کر ان سے جان چھڑانے والے محاورے پر عمل کیا لیکن ڈٓاکٹر خیراتی جن اعلی صفات کے حامل ہیں۔ ان میں مایوسی گناہ ہے اور ہر حال میں ثابت قدم رہنا جیسے محاورے بھی شامل ہیں۔ نہی صفات کے تحت انہوں نے اپنے پس پردہ یعنی مشن بلیک سے یو ٹرن لیتے ہوئے فوری مشن وائٹ شروع کیا اور آٗئی ایم ایف کی چوکھجٹ پر حاضری دے کر سچے دل سے بیعت کر لی۔ راندہ درگاہ مرید سے ناراض مرشد نے کڑی شرائط رکھیں لیکن ڈاکٹر خیراتی جو عہد کے پکے بھی ہیں نے مرید کامل ہونے کا ہر حق ادا کرنے کا مشن سنبھال لیا ہے اب اس سے آ گے جو ہو رہا ہے اس کیلئے ان کی روحانی خوبیوں کا ذکر بھی ضروری ہے تاکہ آپ

کو ان کے اعلی مقام کا صحیح معنوں میں اندازہ ہو سکے ،،اور یہ مقام یقینا صرف اہل یقین ہی کو حاصل ہو سکتا ہے۔ جس کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ کبھی کبھی آپ کو ان کی باتیں غیر منظقی محسوس ہوتی ہوں گی۔جیسا کہ مزید سے مزید ٹیکس اور بڑھتی ہوئی ناقابل واپسی مہنگائی کو خوشحالی کی نوید قرار دینا۔ روزگار کے بند ہوتے دروازوں کو ، تجارتی سرگرمیاں ماند پڑنے کو بہتری کا اشارہ قرار دینا ،،اگر آپ کو یہ باتیں ہضم نہیں ہوتیں تو اس سے صرف دو باتیں ہی ثابت ہوتی ہیں ایک آپ اہل یقیں میں سے نہیں ہیں ،،، اور دوسرا یہ کہ گھور اندھیرے میں مایوسی کے بجائے روشنی صرف پہنچی ہوئی شخصیت ہی دیکھ سکتی ہے

اس لئے ان کی پہلی توجہ عوام کو روحانی طور پر مضبوط بنانا ہےجس کیلئے تزکیہ نفس ضروری ہے۔ اسی لئےانہوں نے عوام کو کم خوراکی کا عادی بنا کر ان کی روحانی سربلندی کے پروگرام کا آغاز کر دیا ہے جس کیلئے وہ پرانے پاپیوں کی جیبوں کو خالی رکھنے اور نوجوان نسل کو شروع ہی سے صبر و قناعت اور توکل کا عادی بنانے کیلئے روزگار سے دور رکھنے کے پروگرام پر زور شور سے عمل کر رہے ہیں اور روحانی آنکھ سے دیکھ لینے کے بعد انہوں نے اپنے پروگرام کے نتجہ کا اعلان بھی پہلے ہی کر دیا ہے۔جس کا لب لباب یہی ہے کہ دنیاوی زندگی پل صراط اور حقیقی سکون صرف قبر میں ہےاور اس عظیم رہنما کے یہی طور و اطوار دیکھتے ہوئے صاف کہا جا سکتا ہے کہ ان کا مزار ضرور بنے گا۔