مقبوضہ جموں کشمیرکی آزادی کیلئے کشمیریوں کو جذبات کے ساتھ تعلیمی میدان میں بھی کامیابیاں حاصل کرنا ہوں گی:پلندری میں کشمیر سمینار کا اعلامیہ

پلندری(پی کے نیوز)مقبوضہ کشمیر کی عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے انسٹیٹیوٹ آف ڈائیلاگ اینڈ ڈپلومیٹک اسٹیڈیز اورمسٹ یونیورسٹی کے پلندری کیمپس کے زیر اہتمام سمینار کا انعقاد کیا گیا جس میں مقررین نے مطالبہ کیا کہ نوجوان طلبہ و طالبات ٹیکنالوجی سمیت مختلف شعبہ جات میں اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے آپ کو منوائیں تواس کے تحریک آزادی کشمیر میں مثبت اثرات پڑیں گے۔مقررین نے کہا کہ عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں تک بھارتی مظالم اور کشمیریوں کا درد پہنچانے کیلئے سوشل میڈیا استعمال بڑھا نا وقت کی ضرورت ہے۔تقریب سے جسٹس(ر) سپریم کورٹ سردار عبدالحمید خان

،انسٹیٹیوٹ آف ڈائیلاگ اینڈ ڈپلومیٹک اسٹیڈیز کے ڈائریکٹرساوتھ ایشاءڈاکٹر ولید رسول ، سدھن ایجوکیشنل کانفرنس ویمن ونگ کی چیئرپرسن محترمہ خدیجہ زرین،جموں کشمیر ڈیموکریٹک پارٹی کی چیئرپرسن ایڈووکیٹ نبیلہ ارشاد، کوآرڈینیٹر مسٹ پلندری کیمپس ڈاکٹر شفیق الرحمان ، آزادجموں کشمیر الیکٹرانک میڈیا ایسوسی ایشن کےصدر خواجہ کاشف میر، ایڈوکیٹ احسان خان سمیت یونیورسٹی کے طلباء نے خطاب کیا۔جسٹس(ر)سردار عبدالحمید خان نے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پلندری کے مقام پر جہاں 1832 میں سبز علی خان، ملی خان اور انکے ساتھیوں کی زندہ کھالیں کھینچی گئیں وہیں 180 سال قبل اس مقام پر سینکڑوں افراد کی کھوپڑیاں جلائی گئیں جبکہ ان خاندانوں کی خواتین کو یہاں سے جموں مہاجر کردیا گیا۔ اس خطے کے لوگوں نے ڈندوں اور پتھروں کے ساتھ لڑ کر یہ خطہ آزاد کرایا اور مقبوضہ کشمیر کی آزادی کیلئے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد جہاد میں شامل رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی قبضے اور کشمیر کی آزادی کیلئے جہاں سچے جذبے کی ضرورت ہے وہیں علمی اور قانونی میدان میں بھی ہمیں کامیابیاں حاصل کرنا ہوں گی۔ڈاکٹرولید رسول نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کی تقسیم کے بعد اس خطے کے لوگوں کو سردار ابراہیم خان جیسا لیڈر میسر تھا جس نے درست وقت پر درست فیصلہ کیا اور پاکستان کا ساتھ دیتے ہوئے یہ علاقہ آزاد کرایا جبکہ شیخ محمد عبداللہ نے قائد اعظم کی بات نہ مانی اور بھارتی حکمرانوں کی طرف سے دی گئی لالچ میں آگیا ، شیخ عبداللہ کے غلط فیصلے کی وجہ سے مقبوضہ جموں کشمیر بھارتی قبضے میں چلا گیا اور آج سات دھائیاں گزر جانے کے باوجود وہاں کے باسی آزادی کیلئے

قربیاں دیتے اور جدوجہد آزادی میں مصروف ہیں۔ انہوں نے کہا کشمیر کا مسلہ پاکستان ، بھارت یا صرف کشمیریوں کا مسئلہ نہیں ہے کہ اس کا حل آسانی سے ہوگا بلکہ اس مسئلے کے پیچھے امریکہ سمیت دیگر عالمی طاقتوں کے مقاصد بھی ہیں جنہوں نے بھارت کو کھلی چھٹی دے رکھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست پاکستان کا مستحکم ہونا مسئلہ کشمیر کے حل ہونے کیلئے ناگزیر ہے۔افواج پاکستان نے انتہائی کم وسائل کے باوجود آزادکشمیر کے اس خطے کو محفوظ رکھا ہوا ہے ۔ ڈاکٹر ولید رسول نے کہا کہ اب مقبوضہ کشمیر کی آزادی صرف جزباتی تقریریوں ، ترانوں اور نعروں سے نہیں ہو سکتی بلکہ اس کیلئے ہمیں علم اور

ٹیکنالوجی کے میدان میں کامیابیوں کے جھنڈے گاڑنے پڑیں گے۔بیگم خدیجہ زرین خان نے کہا کہ پونچھ کے ہمارے بہادر لوگوں نے سردار ابراہیم خان ، کیپٹن حسین خان کی قیادت میں اپنے زور بازو سے یہ خطہ آزاد کرایا تھا، ہم ان بزرگوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں، خدیجہ زرین خان نے کہا کہ اب سول سوسائیٹی کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور یکجہتی کشمیر کے موقع پر ہم مقبوضہ کشمیر کی ماؤں ، بہنوں اور بیٹیوں کو سلام پیش کرتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان کی حکومت، افواج پاکستان اور پاکستانی عوام کے شکر گزار ہیں جنہوں نے گزشتہ 72 سال سے ہمارا ساتھ ہر موقع پر دیا ہے۔جموں کشمیر ڈیموکریٹک

پارٹی کی چیئرپرسن ایڈووکیٹ نبیلہ ارشاد خان نے کہا کہ بھارت نے کشمیر پر ایک طرف تو غاصبانہ قبضہ جما رکھا ہے اور دوسری طرف کشمیری مسلمانوں کی زندگیاں بد سے بد تر کرنے کے لئے تمام حربے استعمال کر رہا ہے۔ کمقبوضہ کشمیر کی آزادی کیلئے آواز اٹھانا اور کردار ادا کرنا ہر پاکستانی پر فرض ہے کیونکہ کشمیر کی آزادی میں ہی پاکستان کی بقا ہے۔ آج کا دن منانے کا اہم مقصد یہی ہے کہ ہم اپنے کشمیری بھائیوں کو یاد دلائیں کہ ہم ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ہم ان کی آزادی کے لئے سردھڑ کی بازی لگادیں گے۔ بھارت کے ظلم و بربریت کو دنیا بھر کے سامنے لانے کے لئے یہ ثابت کرنا ضروری ہے کہ

ہم ایک ہیں اور کشمیر ہمارا ہے۔ ہمارا صرف ایک ہی نعرہ ہے۔ کشمیر بنے گا پاکستان۔ اور یہ نعرہ دلائل کی بنیاد پر ہے۔ نبیلہ ارشاد ایڈووکیٹ نے کہا کہ غازی ملت سردار ابراہیم خان اور سردار خالد ابراہیم خان کی سیاسی کارکن ہونے پر ہمیں فخر ہے اور ان کے نظریے اور فکر کو لیکر ہم میدان سیاست میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ نبیلہ ارشاد ایڈووکیٹ نے کہا کہ کشمیریوں کی منزل پاکستان ہے ۔مسٹ یونیورسٹی پلندری کیپس کے کو آرڈینیٹر ڈاکٹر شفیق الرحمان نے کہا کہ ہمارے بزرگوں کی عظیم قربیانیوں کے نتیجے میں آج اس خطے کے لوگ آزادی کی سانسیں لے رہے ہیں۔ ڈاکٹر شفیق الرحمان نے کہا کہ بھارتی حکومت نے کشمیریوں کو

طاقت کے زور پر دبانے کی کوششیں کیں جبکہ لاکھوں شہادتوں کے باوجود کشمیریوں نے آزادی کی جدوجہد پر سمجھوتہ نہیں کیا۔ ڈاکٹر شفیق الرحمان نے تقریب کے میزبان کی حیثیت سے تمام مہمان شرکاء کی آمد پر شکریہ بھی ادا کیا۔آزادکشمیر الیکٹرانک میڈیا ایسوسی ایشن کے صدر خواجہ کاشف میر نے کہا کہ کشمیریوں کو ابھی تک آزادی نہیں لیکن ان کی عظیم جدوجہد کی کامیابی ہے کہ کشمیر کے مسلے سے پوری دنیا واقف ہے اور تمام عالمی فورمز اور انسانی حقوق کی تنظیمیں اس پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں ، بیس کیمپ حکومت کی ذمہ داری زیادہ ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر کے لوگوں کیلئے زیادہ کام کریں ۔انہوں نے کہا کہ میدیا کے محاذ پر نوجوان طلبہ و طالبات کو آگے آنا ہو گا اور سوشل میڈیا کے ذریعے مظلوم کشمیریوں کا درد عالمی برادری تک پہنچانے کیلئے کردار ادا کرنا ہو گا۔تقریب سے یونیورسٹی کے طلبہ و طالبات کے علاقہ مقامی سکول کے طلباء نے بھی خطاب کیا جبکہ بچیوں نے ترانے پیش کی۔