مشتاق منہاس نومولود قرار، آزاد کشمیر مسلم لیگ کی اعلیٰ قیادت نے مسترد کردیا

مظفرآباد(پی کے نیوز)وزیر اطلاعات مشتاق منہاس کو آرگنائزنگ کمیٹی کا سربراہ بنانے کے بعد مسلم لیگ ن آزاد کشمیر میں پھوٹ پڑ گئی ، سیکرٹری جنرل شاہ غلام قادر نے مشاق منہاس کے ماتحت کام کرنے سے انکار کرتے ہوے وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر کو اپنے تحفظات سے آگاہ کردیا ہے، ذرائع کے مطابق وزیر اطلاعات مشتاق منہاس نے آرگنائزر بننے کے بعد سپیکر آزاد کشمیر سے ملاقات کی جس میں تعاون کی درخواست کی لیکن سپیکر آزاد کشمیر نے مشتاق منہاس کو آرگنائزنگ کمیٹی کا سربراہ تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے دو ٹوک الفاظ میں جواب دیا کہ مشتاق منہاس سیاست میں انسے بہت جونیئر ہیں اس لیے وہ

انکے ماتحت کام نہیں کر سکتے، جس پر مشتاق منہاس نے سپیکر کو قائل کرنے کے لیے سردار عتیق کے ماتحت کام کرنے کا یاد کراتے ہوے کہا کہ آپ سردار عتیق سے بھی سینیئر تھے انکے ماتحت بھی کام کیا میرے ساتھ بھی تعاون کریں، ذرائع کے مطابق سپیکر نے مشتاق منہاس کے سامنے ریکارڈ کی درستگی کے لیے کہا کہ سردار عتیق مجھ سے سینئر تھے وہ مجھ سے پہلے ممبر اسمبلی بنے، ذرائع کے مطابق انکار کے باوجود شاہ غلام قادر کا نام آرگنائزنگ کمیٹی میں ڈالا گیا جس پر مجبوراً شاہ غلام قادر نے سپیکر شپ اور دیگر مصروفیات کا بہانا بنا کر پارٹی کی اعلیٰ قیادت کو بھی انکار کیا، ذرائع کا کہنا ہے سینیئر وزیر طارق فاروق بھی پارٹی کے اس فیصلے سے سخت نالاں ہیں اور انہوں نے بھی وزیراعظم راجہ فاروق حیدر کے سامنے اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے، تاہم وہ کھل کر اس فیصلے کی مخالفت کرتے یا مصلحت کا شکار ہوں گے اسکا فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے، دوسری جانب ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ وزیراعظم راجہ فاروق حیدر بھی مشتاق منہاس کو اہم عہدہ دینے پر سخت ناراض ہیں اور انہوں نے اپنے اقتدار کو بچانے کے لیے چپ ساد رکھی ہے، ذرائع کے مطابق جب پارٹی رہنماؤں نے تحفظات کا اظہار کرتے ہوے بتایا کہ مشتاق منہاس کو تسلم کر کے آپ اپنے پاؤں پر کلہاڑی مار رہے ہیں، یہ صدارت کا امیدوار ہے آپکو کچھ نہیں ملے گا تو فاروق حیدر خان نے اپنے روایتی انداز میں کہا کیا کروں مرکزی حکومت سے بھی لڑائی کروں اپنی پارٹی سے بھی کیا کیا کروں، ذرائع کا کہنا ہے کہ فاروق حیدر ناراض ضرور ہیں لیکن جب تک صدارت انسے چھینی نہیں جاتی تب تک مصلحت کا شکار ہی رہیں گے،دوسری جانب مشتاق منہاس نے عہدہ ملنے کے بعد پارٹی کے سینئر رہنماوں کی طرف سے انہیں تسلیم نہ کرنے کے فیصلے کے بعد خود ساختہ سوشل میڈیا سیل بنوا کر مبار ک باد ایڈز بنا کر مرکزی قیادت کو بھیجنا شروع کر دیے ان ایڈز سے تاثر وہ یہ دینا چاہتے ہیں کہ ساری ن لیگ کی تنظیم ان کے ساتھ ہے جعلی سوشل میڈیا سلائیڈز کی تیاری وہ خود کروا رہے ہیں۔