اردو، پنجابی، سندھی اور پشتو بولنے والے جاپانی سفیر نے سب کو ورطہ حیرت میں مبتلاکردیا

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) اردو، پنجابی، سندھی اور پشتو بولنے والے جاپانی سفیر نے سب کو حیران کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق ایک نجی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کراچی میں جاپانی سفارتخانے کے ڈپٹی کانسل جنرل عاشیدہ کاشونوری کا کہنا ہے کہ میں نے پہلے ہندی سیکھی تھی، یونیورسٹی میں نے ہندوستان کی تاریخ پڑھی تھی جس میں ہندی کا مضمون لازمی تھا۔اسکے ساتھ ساتھ میں اردو بھی سیکھی۔ اور دفترخارجہ کے امتحان کا کو پاس کرنے کے بعد ہماری حکومت نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ مجھے اردو کی مزید تعلیم سیکھنے کی ضرورت ہے جسکی وجہ سے میں لاہور کی پبنجاب یونیورسٹی اورینٹل کالج میں دو سال کے لیے گیا تھا۔

ڈیڑھ سال تک وہاں میں نے اردو بھی سیکھی۔پنجاب میں زیادہ تر لوگ پنجابی میں بات کرتے ہیں اس لیے اس دوران میں تھوڑی سی پنجابی زبان بھی سیکھ لی تھی۔میں اسلام آباد میں قریباً نو سے دس سال رہا۔ مجھے دیکھ کر لوگ انگریزی زبان میں بات کرتے تھے لیکن جب میں انکا جواب اردو میں دیتا تھا۔ انکا کہنا ہے کہ میں اپنی ڈیوٹی کو انگریزی زبان بول کر ہی پورا کر سکتا ہوں لیکن اردو بول کر لوگوں سے اچھا رابطہ بنا سکتا ہوں۔ جب میں لوگوں کے سوالو کا جواب اردو میں دیتا تھا تو وہ بہت خوش ہوجاتے تھے اور پنجابی نے تو لوگوں پر بہت اچھا اثر ڈالا۔انھوں نے بتایا کہ جاپانی زبان میں ’ک‘ نہیں ہے جسکی وجہ سے ہمیں بولنے میں بہت زیادہ پریشانی ہوتی ہے۔ وہ ایک گلوکار بھی ہیں۔ اس حوالے سے انکا کہنا ہے کہ وہ کسی گانے کو دو سے تین مرتبہ سن لوں تو اسے پیانو پر بجا سکتا ہوں۔ انھوں نے بتایا کہ پہلے انھیں پیانو سے بہت نفرت تھی لیکن انھیں انکی ماں نے اسکی ترویج دی اور وہ سیکھ گئے۔ انھوں نے بتایا کہ سجاد علی انکے پسندیدہ گلوکار ہے۔انکا گانا ’ساحل پے کھڑے ہو‘ انھیں بہت پسند ہے۔ انکا کہنا ہے کہ پاکستان اور جاپان میں ایک بات مشترک یہ ہے کہ دونوں ممالک کے لوگ مہمان نوز ہوتے ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ وہ جب کراچی میں سندھی میں بیان کرتے ہیں تو لوگ بہت زیادہ خوش ہوتے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ انھیں کھانے اور پکانے کا بہت شوق ہے انھیں ’پائے‘ بہت زیادہ پسند ہیں لیکن اسے بنانا بہت بہت مشکل ہوتا ہے۔