مولاناعبدالعزیزکالال مسجد کا قبضہ چھوڑنے سے انکار

اسلام آباد(نیوز ڈیسک )مولانا عبدالعزیز کا لال مسجد خالی کرنے سے انکار ‘حکومت نے لال مسجد کو چاروں طرف سے سیل کردیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق بتایا گیا کہ مولانا عبدالعزیز کے لال مسجد خالی کرنے سے انکار پر لال مسجد کو سیل کر دیا ہے۔ مولانا عبدالعزیز کے بھتیجے اور بیٹے عبدالرشید نے مسجد خالی کرنے سے انکار کر دیا تھا ۔حکومت نے مسجد خالی کرنے کے لئے گزشتہ روز کی ڈیڈ لائن دے رکھی تھی۔ جبکہ دوسری جانب مولانا عبدالعزیز اور ان کی اہلیہ کیخلاف تھانہ آبپارہ میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ ترجمان شہداء فاونڈیشن حافظ احتشام کی مدعیت میں درج مقدمے میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ جامعہ حفصہ

کی پرنسپل ام حسان نے مسجد کے محراب پر کھڑے ہوکرحافظ احتشام ، ضلعی انتظامیہ اور پولیس حکام کے نام لے کر قتل کرنے کی سرعام ہدایات جاری کیں۔واضح رہے مولانا عبدالعزیز نے ایک بار پھر لال مسجد پر قبضہ کرلیا ہے انتظامیہ نے مسجد کا محاصرہ کر لیا۔ یہ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب آئی سی ٹی ( اسلام آباد کیپیٹل ٹیرٹری ) انتظامیہ نے امام مسجد کے عہدے کا نوٹفیکیشن جاری کرنے میں تاخیر کی۔ جس کے بعد مولانا عبدالعزیز نے موقع دیکھتے ہوئے مسجد پر قبضہ کر لیا، وفاقی حکومت کی انتظامیہ کی جانب سے مسجد کا محاصرہ کر لیا گیا‘ حالات کشیدگی کی جانب بڑھ رہے ہیں۔مولانا عبدالعزیزکا کہنا ہے کہ حکومت ماضی کی غلطیوں کو دہرا رہی ہے ۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کو عزت نہیں دی جاری۔ ملک میں شریعت کے نفاذ سے گریزاں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ آپریشن کرنے کی دھمکیوں کے ساتھ مسجد خالی کرنے کی ہدایت دی گئی تھی، کھانے کی فراہمی بھی روک دی گئی ہے۔ لیکن ہم ڈٹے رہیں گے۔ یہ بات بھی قابل غور رہے کہ مولانا عبدالعزیز اس سے قبل بھی لال مسجد پر قبضہ کر چکے ہیں۔ جنرل پرویز مشرف کے دور حکومت میں بھی قبضہ کے نیتجے میں انتہائی کشیدہ حالات دیکھنے میں آئے تھے۔