پانی یا زہر؟؟ تحریر: انجینئراصغر حیات

یہ چند ماہ قبل کا واقعہ ہے، سید پور میں واقع میٹرو پولیٹین کے واٹر ٹینک (سینک) میں غریب پٹھان کا بچہ گر کر جاں بحق ہوگیا، بچہ کھیلتے ہوئے ہول سے اس ٹینک میں گرا، کئی گھنٹوں کی تلاش کے بعد بچے کی لاش ٹینک سے برآمد ہوئی، میٹرو پولیٹین شعبہ واٹر سپلائی کے حکام نے محنت کش پٹھان پر دباو ڈالا، غریب کو زبان کھولنے پر سنگین نتائج کی دھمکیاں دی گئیں، چنانچہ بغیر ایف آئی آر درج ہوئے اور پوسٹ مارٹم کے بچے کو دفنا دیا گیا، یہ ہے اس واقعے کا ایک پہلو ۔۔۔ دوسرا پہلو یہ ہے کہ بچے کی موت واٹر ٹینک میں ہوئی، کئی گھنٹوں بعد پانی سے لاش نکالی گئی، اور بغیر صفائی کیے پانی کی سپلائی سیکٹر

ایف سکس اور دیگر سیکٹرز کو جاری رکھی گئی، دم نکلتے وقت انسان کے جسم سے پیشاب اور کئی دیگر مادے نکل جاتے ہیں،لیکن ٹینک کی صفائی تو دور کی بات کسی نے اس طرف دھیان تک نہیں دیا، اسلام آباد کے شہریوں کو کیسا پانی پلایا جارہا ہے اس کا اندازہ اس واقعے سے لگایا جاسکتا ہے، اب اگر سی ڈی اے اور میٹروپولین کا عملہ اتنا ہی بے خبر ہے اور مختلف جہگوں پر لگائے گئے واٹر ٹینکوں کے ہولز اسی طرح کھلے پڑے ہیں تو کوئی بھی پانی میں کچھ بھی ڈال سکتا ہے، خواہ وہ زہر ہی کیوں نہ ہو، پھر جاکر شاید اہل اقتدار جاگیں لیکن تب تک شاید دیر ہوجائے۔مجرمانہ غفلت برتنے میں ہمارے محکمے کسی سے پیچھے نہیں، کسی بھی علاقے کو پانی کی سپلائی سے پہلے کلورین اور ایلم سیلفیٹ کے ذریعے اس کا ٹریٹمنٹ ہوتا ہے، یہ ٹریٹمنٹ پانی میں موجود جراثیم اور چھوٹے نامیاتی اجزا کو ہلاک کرنے اور پانی کو صاف کرنے کیلئے کیا جاتا ہے، اس عمل کو کلورینیشن کہتے ہیں، کلورینیشن کے بغیر پانی کی سپلائی جرم ہے، کرونا وائرس کے بعد دنیا بھر میں پانی صاف کرنے کیلئے کلورین کی مقدار ڈبل کردی گئی، تاکہ پانی سے جنم لینے والی بیماریوں کے امکانات کو کم سے کم کیا جاسکے، اسلام آباد کو کلورین اور ایلم سیلفیٹ کی فراہمی کا میٹرو پولیٹین کارپوریشن کا ٹھیکہ 6 ماہ قبل ختم ہوچکا، گزشتہ چھ ماہ سے ہر ماہ کے اختتام پر یہ مسئلہ سر اٹھاتا ہے، کلورین اور ایلم سیلفیٹ کا سٹاک ختم ہو جاتا ہے، شعبہ واٹر سپلائی کی پانی کی فراہمی بند کرنے کی دھمکی کے بعد ایک آدھ ماہ کے سٹاک کا انتظام کیا جاتا ہے،اگلے ماہ کے آخر میں یہی مسئلہ دوبارہ کھڑا ہوتا ہے، میڈیا پر آنے کے بعد معاملے کا نوٹس لیا جاتا ہے، آگ لگے کنواں کھودنے

کی کوشش کی جاتی ہے، لیکن اس ماہ حد ہی ہوگئی، سٹاک ختم بھی ہوگیا لیکن کسی کے کان پر جوں تک نہ رینگی، چنانچہ اسلام آباد کے باسیوں کو بغیر ٹریٹمنٹ پانی کی سپلائی شروع کردی گئی، عین اس وقت جب کرونا وائرس کے خطرات بڑھتے جارہے ہیں، اسلام آباد کے باسیوں کو گندے پانی کی سپلائی جاری رہی، بغیر ٹریٹمنٹ پانی کی سپلائی جرم ہے، لیکن کیا ہی بات ہو ہمارے ادارے اور حکمران جرم کو جرم سجھیں ،شاید ایک ہفتہ تک اسلام آباد کے شہری بغیر ٹریٹمنٹ کے پانی پیتے رہے، ایسا پانی کہ جہاں پہلے ہی پانی کی پائپ لائنیں بوسیدہ ہو کر گل چکی ہوں، گٹر اور سپلائی کے پانی کی لائنیں مل چکی ہوں، کچھ روز قبل میں جی سیون میں سروے کرنے گیا وہاں ایک اماں جی نے پانی کی طے پر موجود کیڑے دکھائے، میں سر

پکڑ کر بیٹھ گیا، بدبودار پانی کی شکایت محلے کے محلے کرتے ہیں، ایسے میں اگر کلورینیشن بھی نہ ہو تو سیدھا سیدھا موت کو دعوت دینے والی بات ہے۔گزشتہ دنوں وزیر اعظم کے معاون خصوصی علی نواز اعوان کے ہمراہ خانپور ڈیم جانے کا اتفاق ہوا، خانپور ڈیم نہر کی بھل صفائی ہورہی ہے، محکمہ آبپاشی خیبر پختونخواہ کے مطابق اس نہر کی صفائی کیلئے سالانہ 1 لاکھ 20 ہزار کے لگ بھگ بجٹ جاری ہوتا ہے جو کہ انتہائی کم ہے، علی نواز اعوان کو یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ وہ صبح سویرے نکلے اور جگہ جگہ رک کر پیدل چڑھائی چڑھ کے نہر کی صفائی کا معائنہ کرتے رہے، اس دوران ان کی ٹیم کے آدھے لوگ بھی تھک گئے اور کچھ میڈیا والے بھی لیکن وہ نہیں تھکے، نہر کی صورتحال دیکھ کر لگتا ہے کہ شاید ہی یہاں

ماضی میں ایک روپیہ بھی خرچ کیا گیا ہو، نہر میں منوں مٹی اور گند جمع ہو چکا ہے، وہاں کے مقامی افراد نے بتایا کہ اس نہر کی صفائی چالیس سال سے نہیں ہوئی، علی نواز اعوان کی ٹیم کے ایک ممبر نے محکمہ آبپاشی والوں سے پوچھ لیا کیا یہ پانی وضو کے قابل ہے تو حکام نے نفی میں سر ہلایا، انہوں نے کہا اگر اس سے وضو نہیں ہوسکتا تو خدا کا خوف کرو، آپ یہ پانی ہمیں پینے کیلئے سپلائی کرتے ہو، سنگجانی کے قریب سی ڈی اے کے واٹر ریزروائر کا بھی یہی حال ہے، پانی کا یہ زخیرہ مٹی سے بھر چکا ہے، لیکن سی ڈی اے کو سالوں خیال نہ آیا، کیا پتہ شاید چالیس سال میں کوئی ادھر آیا ہی نہ ہو
فائلوں میں تو اسلام آباد کو 60 ملین گیلن پانی یومیہ فراہم کیا جارہا ہے، لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے،

بارہ کہو سے لیکر بری امام تک ہر طرف چوری کے کنکشن ہیں، سملی ڈیم سے آنے والی مین کنڈیکشن لائن کو توڑ کر چوری کے کنکشن لگائے گئے ہیں، 12 ملین گیلن پانی چوری کے کنکشن کھا جاتے ہیں، 4 سے 6 ملین گیلن پانی لیکیج کی وجہ سے ضائع ہو جاتا ہے، 197 میں سے 140 کے لگ بھگ ٹیوب ویلز خراب پڑے ہیں، بچ بچا کر اسلام آباد کی بیس لاکھ کی آبادی کو 30 سے 35 ملین گیلن پانی فراہم کیا جاتا ہے، جبکہ شہر کی پانی کی ضرورت 210 ملین گیلن ہے، شہر کے 35 میں سے 25 فلٹریشن پلانٹس بھی خراب پڑے ہیں شہری جائیں تو کہاں جائیں، پی سی آر ڈبلیو آر کی رپورٹ کے مطابق پارلیمنٹ ہاوس اور پارلیمنٹ لاجز کو فراہم کیا جانے والا پانی بھی انسانی صحت کیلئے انتہائی خطرناک ہے، اس طرح کی درجنوں رپورٹس آچکی ہیں ، لیکن مجال ہے کہ کسی کے کان پر جوں تک رینگی ہو، ہمارا حکمران طبقہ اور ادارے مکمل طور پر بے حس ہو چکے ہیں، حکمرانوں اور متعلقہ اداروں سے کہنا چاہتا ہوں کچھ ہوش کے ناخن لیں، صورتحال کا نوٹس لیں، ورنہ جس دن عوام نے نوٹس لیا تو آپ کا کیا بنے گا یہ شاید آپ نے سوچا بھی نہ ہو۔