ترک صدر کا دورہ ، عمران خان کے پاس سنہری موقع

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) معروف صحافی ڈاکٹر شاہد مسعود کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف سے پیچھا چھڑانے کے لیے وزیراعظم عمران خان کو ترک صدر طیب اردوان سے سیکھنا پڑے گا۔تفصیلات کے مطابق سینئر تجزیہ نگار ڈاکٹر شاہد مسعود کا کہنا ہے کہ ترکی 1947ء سسے آئی ایم ایف میں پھنسا ہوا تھا،ترکی کے ایک لیڈر عدنان میندورس نے 1954ء میں آئی ایم ایف کے پاس جانے سے انکار کیا تھا،وہ انتخابات جیتے مگر آئی ایم ایف کا ترکی کی سیاست میں اتنا عمل دخل ہو گیا تھا تو اگلے انتخابات میں عدنان میدورس کا الیکشن ہروا دیا گیا،اور اس کے بعد ترکی معاشی طور پر کمزور سے کمزور تر ہو گیا۔انہوں نے کہا اگر آئی

ایم ایف سے جان چھڑائی ہے تو وزیراعظم عمران خان اور پاکستان ترک صدر رجب طیب اردوان سے سیکھنا ہو گا۔2001ء میں جب ترکی میں معاشی بحران آیا تو ترکی نے کام دروس کی خدمات حاصل کیں جو 22 سال عالمی بینک سے منسلک رہے،انہوں نے ترکی کے لیے آئی ایم ایف سے 20 ارب ڈالر کا پیکج لیا،طیب اردوان نے 2008ء میں کہا کہ وہ ترکی کا آئی ایم ایف سے پیچھا چھڑائیں گے اور انہوں نے 2013ء میں آئی ایم ایف کی تیسری قسط ادا کر دی اور ترکی کا آئی ایم ایف سے پیچھا چھڑا دیا۔خیال رہے کہ ترک صدر رجب طیب اردوان آج بروز جمعہ کو مجلس شوریٰ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کریں گے، ان کا پاکستان کی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے مجموعی طورپر یہ چوتھا خطاب ہو گا، ترک صدر کو بطور وزیراعظم دو بارپاکستان کی پارلیمنٹ سے خطاب کرنے کا اعزاز حاصل ہے جبکہ بطورصدر بھی وہ دوسری بار پاکستان کی پارلیمنٹ سے خطاب کریں گے۔قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق رجب طیب اردوان بطور ترک وزیر اعظم 26 اکتوبر 2009 اور 21 مئی 2012 کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کر چکے ہیں۔رجب طیب اردوان نے بطور صدر 17 نومبر 2017 کو پہلی مرتبہ پارلیمنٹ سے خطاب کیا تھا جبکہ وہ بطور صدر آج بمطابق 14 فروری 2020ء پاکستان کی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے دوسرا خطاب کریں گے۔ترک صدر رجب طیب اردوان کا پاکستان کی پارلیمنٹ سے چوتھی بار خطاب کو انتہائی اہمیت کا حامل سمجھا جا رہا ہے۔ ان کا پارلیمنٹ سے خطاب پاکستان کے ساتھ والہانہ محبت اورلازوال دوستی کی غمازی کرتا ہے۔ صدر رجب طیب اردوان کے خطابات سے پہلے ترکی کے صدر کینان ایورن بھی 15نومبر 1985کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرچکے ہیں۔ ترکی اورپاکستان کے ایک دوسرے کے ساتھ تعلقات اسلام، اخوت ، مساوات ، بھائی چارے ، ثقافت اور تاریخ کے لازوال رشتوں پر استوار ہیں۔