دبائوکے باوجود ایف اے ٹی ایف میں پاکستان کی بھرپور حمایت کا یقین دلاتے ہیں،ترک صدر

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)ترکی کے صدر رجب طیب ایردوان نے کہا ہے کہ کشمیر ہمارے لیے وہی اہمیت رکھتا ہے جو پاکستان کے لیے رکھتا ہے، ہر حالات میں ہم آپ کے ساتھ کھڑے ہیں،دباؤ کے باوجود ایف اے ٹی ایف کی بھرپورحمایت کا پختہ یقین دلاتے ہیں، پاکستان ترقی اور خوشحالی کے سفر کی طرف رواں دواں ہے اس کے لئے مزید محنت اورمنصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ مسئلہ کشمیرکا حل انصاف اور حقانیت سے ہی ممکن ہے اور یہ تمام فریقین کے مفاد میں ہے، ہم انصاف، امن کے مطابق اس مسئلے کا حل چاہتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ جس طریقے سے پاکستان

میں پرجوش استقبال ہوا اور مہمان نوازی ہوئی اس پر پوری پاکستانی قوم کا شکر گزار ہوں۔رجب طیب اردوان نے کہا کہ یہاں آکر کبھی خود کو اجنبی محسوس نہیں کرتا، پاکستان میرے لیے دوسرے گھر کا درجہ رکھتا ہے، آج دونوں ممالک کے تعلقات قابل رشک ہیں۔انہوں نے کہا کہ مشکل کی ہر گھڑی میں پاکستان کی جانب سے ساتھ دینے پر ان کے شکر گزار ہیں اور ماضی کی طرح مستقبل میں بھی دونوں ممالک کا تعاون اور ساتھ جاری رہے گا۔ان کا کہنا تھا کہ ترکی کی قوم کی طرف سے پارلیمنٹ اور پاکستانی عوام کو سلام پیش کرتا ہوں، دونوں ممالک کے بردارانہ تعلقات شائد ہی دنیا میں کسی قوم میں دیکھنا نصیب ہوں۔طیب اردوان نے کہا کہ ہم پاکستانی عوام کی جانب سے ہمارے لئے ہونے والے اظہار یکجہتی کے مظاہروں کو کبھی فراموش نہیں کرسکتے، چناکلے کے لئے یہاں سے امداد جمع کی گئی، پاکستانی بزرگ افراد نے اپنی جمع پونجی اور خواتین نے اپنا زیور تک ہمارے لئے قربان کردیا۔ترک صدر نے کہا کہ پاکستان کا درد ہمارا درد، اسکی خوشی ہماری خوشی اور اس کی کامیابی ہماری کامیابی ہے،ہم مشکل وقت میں پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے دہشت گرد الفتح کے سکولوں کو ختم کرکے دوستی کا حق ادا کیا ہے، صرف زبانی جمع خرچ کرنے والون کی بجائے پاکستان نے ترکی کا بھرپور ساتھ دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ دباؤ کے باوجود ایف اے ٹی ایف کی بھرپورحمایت کا پختہ یقین دلاتے ہیں، پاکستان ترقی اور خوشحالی کے سفر کی طرف رواں دواں ہے اس کے لئے مزید محنت اورمنصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ترک صدر نے بتایا کہ ایک بڑے کاروباری وفد کے ہمراہ پاکستان آیا ہوں، نماز جمعہ کے بعد اس پر پیش رفت ہوگی، آج کے اقتصادی

فریم کا بنیادی متن سرمایہ کاری سے تجارت اور سٹریٹیجک تعاون کا حامل ہوگا۔ان کا کہنا تھا کہ ظلم پر رضا مندی ظلم کے مترداف ہے، ہم بطور ترکی اس مفاہمت کے ساتھ اقوام کے درمیان تفرقہ بازی کا حل نکالنا چاہتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ہم فلسطین سمیت دیگر مسائل پر اقدام اٹھا رہے ہیں ،شام کے مظلوموں کے حوالے سے 40 بلین ڈالرز خرچ کررہے ہیں جبکہ ہم سے امیر ملکوں نے مظلوموں کو بے یارو مدد گار چھوڑ دیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم نے بیت المقدس کے حوالے سے اور حملوں پر ڈٹ کے مقابلہ کیا ہے، ٹرمپ اور نیتن یاہو نے جو اقدام اٹھائے اور ٹرمپ کی ڈیل آف سنچری امن نہیں قبضے کا منصوبہ ہے۔اس

ضمن میں ان کا مزید کہنا تھاکہ بیت المقدس ہمارا قبلہ اول ہے اس پر کوئی سمجھوتا نہیں کریں گے، ڈیل آف سنچری کے خلاف دو ٹوک اور جرات مندانہ موقف ترکی نے ہی اپنایا ہے۔خیال رہے کہ وزیراعظم عمران خان سمیت وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، اور دیگر وزرا جبکہ حزب اختلاف میں سے چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری، رہنما ن لیگ خواجہ آصف سمیت اراکین کی بڑی تعداد نے مشترکہ اجلاس میں شرکت کی۔پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس کا آغاز دونوں ممالک کے قومی ترانوں اور تلاوت قرآن پاک سے ہوا۔ اس دوران اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے ترک صدر رجب طیب اردوان کو خوش آمدید کہا۔رجب طیب ایردوان اس

سے قبل بحیثیت صدر پاکستانی پارلیمنٹ سے خطاب کرچکے ہیں جب کہ بحیثیت وزیراعظم بھی انہوں نے دو مرتبہ مشترکہ اجلاس سے خطاب کیا ہے۔انہوں نے بطور وزیر اعظم 26 اکتوبر 2009 اور 21 مئی 2012 کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کیا تھا۔بحیثیت صدر انہوں ںے 17 نومبر 2017 کوپہلی مرتبہ خطاب کیا تھا۔ 14 فروری 2020 کو وہ دوسری مرتبہ بحیثیت صدر پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کریں گے۔