پاکستان کے معروف شاعرواینکرپرسن برین ہمیرج کے باعث خالق حقیقی سے جاملے

لاہور (نیوز ڈیسک) جواں سالہ شاعر و اینکر پرسن علی یاسر انتقال کر گئے۔ علی یاسر کا انتقال برین ہمریج کے باعث ہوا ہے۔شاعر، ادیب، محقق، نقاد، مترجم، ریڈیو ٹی وی رائیٹر اور اینکر پرسن ڈاکٹر علی یاسر کا تعلق اسلام آباد سے تھا اور وہ 13 دسمبر 1976 کو پنجاب کے شہر گوجرانوالہ میں پیدا ہوئے-آپ کے والد کا نام حبیب حیدر ہے- علی یاسر کی عمر کے ابتدائی سولہ سال گوجرانوالہ میں ہی گزرے اور وہ 1994 میں اسلام آباد آ گئے تھے،۔علی یاسر نے پنجاب یونیورسٹی لاہور سے ایم اے اردو کیا اور پھر علامہ اقبال یونیورسٹی اسلام آباد سے اردو میں ایم فِل کرنے کے بعد اسی مضمون

میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی تھی ۔علی یاسر نے 1990 میں شاعری کا آغاز کیا اور ابتدا میں اپنے دادا امیر علی ساتھی سے اصلاح لی- ان کی تعلیمی سرگرمیاں بھی اردو کے حوالوں سے جاری رہیں اور یوں ان کا ادبی ذوق اور مہارت بڑھتی رہی- انہوں نے ادبی حلقوں میں اپنی مضبوط پہچان اور جدا رنگ قائم کیا-علی یاسر نے ادب کی سرپرستی کے لئے قائم حکومتی ادارے اکادمی ادبیات میں ملازمت اختیار کی اور یوں نہ صرف ملک بھر کے ادبی حلقوں سے وابستہ ہو گئے بلکہ شعر و ادب کی خدمت کا بیڑا بھی اٹھایا- وہ اکادمی ادبیات میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر کے عہدے پر مامور تھے۔