ہارون اختر وزیراعظم کے دل کو بھاگئے، لیگی رہنما کیلئے خاص عہدے کا انتخاب کرلیا گیا

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)مسلم لیگ ن کے رہنما ہارون اختر کو وزیراعظم کےخصوصی مشیر برائے ٹیکس لگانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔تفصیلات کے مطابق گذشتہ کچھ دنوں سے خبریں گردش کر رہی تھیں کہ وزیراعظم عمران خان نے ن لیگی رہنماء ہارون اختر کو چیئرمین ایف بی آر کی پیشکش کی ہے۔تاہم ذرائع کا کہنا تھا کہ سینئر ٹیکنوکریٹ اور سیاستدان ہارون اختر نے چیئرمین ایف بی آر کا عہدہ قبول کرنے سے انکارکیا ہے۔انہوں نے کہا کہ معاون خصوصی کے مساوی عہدہ قبول نہیں، ہارون اختر نے وزیر کے مساوی عہدہ مانگ لیا ۔ حکومت کی اقتصادی ٹیم نے ہارون اختر کو وزیرکے مساوی عہدہ دینے کی مخالفت کی تھی۔

کہا گیا کہ ، ایک ہی شعبے کیلئے وزیرکے مساوی دو عہدے نہیں دیے جاسکتے۔حکومتی ٹیم کی مخالفت کے بعد ہارون اختر نے محض معاون خصوصی کا عہدہ قبول کرنے سے انکار کیا تھا،تاہم اب میڈیا رپورٹس میں بتایا جا رہا ہے کہ ہارون اختر کو وزیراعظم کےخصوصی مشیر برائے ٹیکس لگانے کا عندیہ دے دیا گیا ہے۔انہیں آئی ایم ایف کے ٹیکس ریزنگ پروگرام کی تکمیل کا مکمل اختیار بھی دئیے جانے امکان ہے۔،حکومت ہارون اختر کے لیے پیکج پر نظرثانی کے لیے تیار ہے۔قبل ازیں ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ سابق وزیر مملکت ہارون اختر خان کو وزیراعظم کا ریونیومشیر لگائے جانے کا امکان ہے جس کا دو روز میں اعلان کر دیا جائے گا۔چئیرمین ایف بی آر شبر زیدی کے ساتھ آنے والی ٹیم کو فارغ کر دیا جائے گا۔ان کے متبادل کا دو سے تین روز میں فیصلہ متوقع ہے.اسی متلعق سینئر تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ہارون اختر کی وزیراعظم سے ایک نہیں کئی ملاقتیں ہو چکی ہیں۔انہیں کہا گیا ہے کہ وہ چئیرمین ایف بی آر بن جائیں تاہم ان کے آنے کے بعد بھی حفیظ شیخ کو نہیں ہٹایا جائے گا۔تاہم ہارون اختر مکمل اختیارات نہ ملنے کی صورت میں کام نہیں کریں گے۔ وزیراعظم کی موجودہ ٹیم کے بارے میں ہارون اختر کی رائے اچھی نہیں،ابھی تک انہوں نے کوئی فیصلہ نہیں کیا،یہ بھی بتایا گیا کہ عمران خان ہمایوں اختر اور ہارون اختر کو پارٹی میں شامل کرنے کے لیے دو بر ان کے گھر گئے لیکن جہانگیر ترین ہی رکاوٹ بنے۔