مفرور ایس ایس پی کو گرفتار کرنے کی اطلاعات

کراچی (نیوز ڈیسک) ایس ایس پی مفخر عدیل کی کراچی سے گرفتاری کی اطلاعات ہیں ہیں۔نائنٹی ٹو نیوز کی رپورٹ کے مطابق مفخر عدیل کراچی سے براستہ گوادر ایران جانے کی کوشش میں پکڑا گیا اور اس کی گرفتاری کو خفیہ رکھا جا رہا ہے۔مفخر عدیل کا ایران جانے کے بعد ترکی اور وہاں سے امریکہ جانے کا پلان تھا۔مفخر عدل کے پاسپورٹ پر پانچ سال کا ملٹی پل امریکہ کا ویزہ لگا ہوا ہے۔انسانی سمگلنگ میں ملوث ایجنٹ کی خدمات حاصل کی گئی تھیں۔ذرائع کے مطابق مفخر عدیل نے پہلے کراچی ایئرپورٹ سے دبئی جانے کی دو مرتبہ کوشش کی لیکن سختی ہونے کی وجہ سے واپس چلا گیا تھا اور اس دوران ایف آئی اے

امیگریشن کراچی ایئرپورٹ پر تعینات ایک اہلکار سے ساز باز کی کوشش بھی کی گئی لیکن کسی نے حامی نہ بھری۔جب اس والے سی سی پی اولاہور ذوالفقارحمید بھٹی سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ مفخر عدیل کو کراچی سے گرفتار کرنے کے متعلق علم ہے اور نہ ہی ایسی کوئی اطلاع ملی ہے۔واضح رہے کہ مفخر عدیل پر الزام ہے کہ وہ اپنے دوست شہباز تتلہ سمیت ایک ماڈل کے قتل میں بھی ملوث ہیں۔مفخر عدیل نے تین شادیاں کر رکھی ہیں اور سی سی ایس اکیڈمی کے نام لڑکیوں کو غیر اخلاقی سرگرمیوں کیلئے استعمال کرنے اور منشیات فراہمی کا دھندا کرتے تھے۔ پولیس کا بتانا ہے کہ ایڈووکیٹ شہباز تتلہ رواں ماہ 7 فروری کو اغوا ہوئے جب کہ ان کے دوست ایس ایس پی مفخر عدیل 12 فروری کی شب اچانک پراسرار طور پر لاپتہ ہوگئے تھے۔ایس ایس پی مفخر عدیل اور شہباز تتلہ سکول کے زمانے میں کلاس فیلو تھے جبکہ دونوں کی جائیدادیں اور کاروبار مشترک تھے۔ بعد ازاں پولیس نے دونوں افراد کے مشترکہ دوست اسد بھٹی کو گرفتار کیا جس نے تہلکہ خیز انکشافات کیے۔ اسد بھٹی نے پولیس کو دیے گئے اپنے بیان میں بتایا کہ مفخر عدیل نے مبینہ طور پرشہباز تتلہ کو قتل کردیا ہے۔ اسد بھٹی نے انکشاف کیا ہے کہ مفخر عدیل نے شہباز کو دھوکے سے ایک جگہ بلا کر اسے گلا دبا کر قتل کر دیا۔ بعد مفخر عدیل نے شہباز تتلہ کی لاش تیزاب کے ڈرم میں پھینک دی۔ اس بھٹی کا کہنا ہے کہ قتل کی وجہ مفخر عدیل اور شہباز تتلہ کے درمیان پائی جانے والی کاروباری رقابت تھی۔