مولاناعبدالعزیز کا لال مسجد کا قبضہ چھوڑنے سے صاف انکار

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) لال مسجد پر قبضہ چھڑانے کی کوشش نا کام ، پاکستان علماء کونسل کے چیئرمین حافظ طاہر اشرفی کے مذاکرات بھی کامیاب نہ ہوسکے۔ تفصیلات کے مطابق مولانا عبدالعزیز کا لال مسجد پر قبضہ برقرار ہے۔ پاکستان علماء کونسل کے چیئر مین حافظ طاہر اشرفی نے لال مسجد کا قبضہ چھڑانے کے لئے مولانا عبدالعزیز سے مذاکرات کئے۔مولانا عبدالعزیز نے مطالبہ کے حوالے سے حکومت کے بھیجے گئے قانونی نکات کو مسترد کر دیا ہے۔ ڈان نیوز کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ وفاقی وزیرداخلہ اعجاز شاہ سے ملاقات کے بعد طاہر اشرفی جمعرات کی صبح لال مسجد میں پہنچے اور مولانا عبدالعزیز سے معاملے کو حل

کرانے کے لئے گفتگو کی گئی۔ پاکستان علماء کونسل طاہر اشرفی کا کہنا ہے کہ امید ہے کہ 24 گھنٹوں میں معاملات حل ہو جائیں گے ۔ان کا کہنا ہے کہ یقینی بنایا گیا ہے کہ کوئی گولی نہ چلائی جائے اور محاصرہ ختم کیا جائے تاکہ شہریوں کی مشکلات میں کمی آسکے۔ بعدازاں وفاقی وزیر داخلہ کو ایک رپورٹ ارسال کی گئی جس میں بتایا گیا ہے کہ مولانا عبدالعزیز کے ساتھ 4 گارڈز ہیں جن کے پاس ہتھیار موجود ہیں تاہم تمام ہتھیار قانونی ہیں۔ طاہر اشرفی نے رپورٹ میں انکشاف کیا کہ امن کو کوئی خطرہ نہیں ہے، مسجد پر قابض لوگوں کی تعداد اتنی نہیں ہے کہ اداروں کی رٹ کو چینلج کیا جا سکے۔اس سے قبل بھی مولانا عبدالعزیز کے بھتیجے اور بیٹے عبدالرشید نے مسجد خالی کرنے سے انکار کر دیا تھا ۔حکومت نے مسجد خالی کرنے کے لئے ڈیڈ لائن دے رکھی تھی۔ جبکہ دوسری جانب مولانا عبدالعزیز اور ان کی اہلیہ کیخلاف تھانہ آبپارہ میں مقدمہ درج کر لیا گیا۔ ترجمان شہداء فاونڈیشن حافظ احتشام کی مدعیت میں درج مقدمے میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ جامعہ حفصہ کی پرنسپل ام حسان نے مسجد کے محراب پر کھڑے ہوکرحافظ احتشام ، ضلعی انتظامیہ اور پولیس حکام کے نام لے کر قتل کرنے کی سرعام ہدایات جاری کیں۔واضح رہے مولانا عبدالعزیز نے ایک بار پھر لال مسجد پر قبضہ کرلیا ہے انتظامیہ نے مسجد کا محاصرہ کر لیا۔ یہ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب آئی سی ٹی ( اسلام آباد کیپیٹل ٹیرٹری ) انتظامیہ نے امام مسجد کے عہدے کا نوٹفیکیشن جاری کرنے میں تاخیر کی۔ یہ بات بھی قابل غور رہے کہحکومت جامعہ حفصہ کو 20 کنال اراضی فراہم کرنے پر رضا مندی ظاہر کی تھی ۔