اعلیٰ ججز کی جاسوسی کا معاملہ حکومت کے گلے پڑگیا، وزیراعظم عمران خان سے استعفیٰ مانگ لیا گیا

لاہور(نیوز ڈیسک) پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سپریم کورٹ کے ججز کی جاسوسی پر وزیر اعظم سے استعفیٰ مانگ لیا، حکومت اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کی جاسوسی کرنے کا جواب دے، ایک وزیراعظم کو خط نہ لکھنے پر اگر گھر بھیجا سکتا ہے، تو موجودہ وزیراعظم سے استعفیٰ کیوں نہیں لیا جاسکتا؟ انہوں نے آج لاہور میں رہنماء پی پی بیگم بیلم حسنین کی رہائشگاہ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اٹارنی جنرل کے استعفے کے بعد جو بات سامنے آئی ہے،اس سے پتہ چلتا ہے کہ یہ حکومت عدلیہ کی آزادی پر حملہ کر ہے۔حکومت عوام کو بتائے کیا چیف جسٹس اور سپریم کورٹ کے ججز کی جاسوسی کی جارہی ہے۔

حکومت کو جواب دینا پڑے گا ، یہ آزاد عدلیہ پر سنگین حملہ ہے ،اگر معیشت کو درست کرنا ہے تو پہلے نا اہل ، نالائق اور سلیکٹڈ کو فارغ کرنا پڑے گا پھر ہی معیشت کو سنبھالا جا سکے گا،انشا اللہ آصف علی زرداری جلد صحت ہوں گے اور اپنا کردار بھی ادا کریں گے ،کاش سندھ کے گورنر ہائوس میں بھی کوئی بھینس گھس جائے تو شاید آئی جی سندھ تبدیل ہو جائیں۔انہوں نے کہا کہ آج نوجوان ڈگریاں لے کر پھر رہے ہیں لیکن ان کے پاس روزگار نہیں ہے۔ جو کاروبار کرنا چاہتے انہیں مواقع میسر نہیں ، آج ہماری حکومت کو صرف یہی سوچ ہے کہ آئی ایم ایف کو پیسہ کیسے واپس کرنا ہے ، کیا حکومت یہ کام ہونا چاہیے کہ اپنے ملک اور عوام کے مفاد کے خلاف فیصلے کرے ۔ ہم نے آئی ایم ایف سے مذاکرات کے پہلے دن حکومت کو مشورہ دیا تھاکہ جب آپ مذاکرات کررہے ہوتے ہیں تو اپنے ملک کے مفاد اور عوام کے حقوق کاتحفظ کیا جاتا ہے،حکومت نے آئی ایم ایف سے ڈیل میں عوام کے معاشی حقوق پر سمجھوتہ کیا ہے، پہلے ایک سال ضائع کیا پھر جب آئی ایم ایف کے پاس گئے تو ان کی تمام شرائط مان لیں ،حکومت نے آئی ایم ایف کے غلط ٹیکس اہداف کو تسلیم کیا اور بوجھ عوام پر ڈالا، آج ان سے نظر ثانی اہداف بھی حاصل نہیں ہو رہے ۔آئی ایم ایف کا نمائندہ پاکستان میں آتا ہے اور اسٹیٹ بینک کے گورنر اور مشیر خزانہ سے مذاکرات کرتا ہے ، معاشی فیصلے عوام کو لینے چاہئیں لیکن ایسا تب ہوتا جب ملک پر عوام کے نمائندے حکومت کر رہے ہوتے ہیں۔ ا نہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے انتخابی مہم کے دوران وعدہ کیا کہ ہم پچاس لاکھ گھر دیں گے لیکن آج تجاوزات کے نام پر عوام سے چھت اور کاروبار چھین رہے ہیں ، کروڑوں نوکریاں دینے کا وعدہ کیا گیا لیکن آج روزگار دینے کی بجائے چھین رہے ہیں۔