ملائیشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد عہدےسے مستعفی

کوالالمپور(نیوز ڈیسک)ملائیشین وزیراعظم مہاتیر محمد نے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق مہاتیر محمد نے ملک میں سیاسی گرما گرمی اور عوامی انصاف پارٹی کے سربراہ سے اختلافات کے بعد عہدے سے استعفیٰ دینے کا اعلان کیا۔رائٹرز کے مطابق مہاتیر محمد نے اپنا استعفیٰ ملائیشیا کے بادشاہ کو جمع کرادیا ہے۔غیر ملکی میڈیا کا کہنا ہےکہ مہاتیر محمد کی جماعت ملک میں نئی حکومت کی تشکیل کی منصوبہ بندی کررہی ہے۔عرب میڈیا کے مطابق 94 سالہ مہاتیر محمد اور 72 سالہ انور ابراہیم کے درمیان اختلافات نے گزشتہ ہفتے شدت اختیار کی جس کے بعد ملائیشین وزیراعظم نے عہدے سے

دستبرداری کا اعلان کیا۔واضح رہے کہ مہاتیر محمد کی جماعت پی پی بی ایم نے 10 مئی 2018 کو انتخابات میں کامیابی حاصل کرکے ملائیشیا میں 60 سال سے برسر اقتدار جماعت کا خاتمہ کیا۔94 سالہ مہاتیر محمد اس وقت دنیا کے معمر ترین وزیراعظم تھے۔ڈاکٹر مہاتیر محمد 10جولائی 1925 کو پید ہوئے۔ اسکول میں داخلے کے وقت ان کی تاریخ پید ائش 20 دسمبر لکھوائی گئی۔مہاتیر محمد کے دادا بھارتی ریاست کیرالہ سے تعلق رکھتے تھے جنہیں British East India Company نے ملائیشیا بھیجا تاکہ وہ وہاں کے باشندوں کو انگلش سکھا سکیں۔دوسری جنگ عظیم کے دوران جب ملایا پر جاپانیوں کا قبضہ ہو گیا تو انگلش میڈیم اسکول بند کروا دیے گئے جس کے باعث مہاتیر محمد کو تعلیم درمیان میں ہی چھوڑنا پڑی اور وہ گھر کو مالی مدد فراہم کرنے کے لیے جوس بیچنے لگے۔مہاتیر محمد نے جنگ عظیم دوئم کے خاتمے کے بعد دوبارہ اپنی تعلیم شروع کی اور سنگاپور کے کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کیا۔1957 میں مہاتیر محمد نے عملی سیاست میں قدم رکھا اور یونائیٹڈ ملایو نیشنل آرگنائزیشن UMNO میں شمولیت اختیار کی۔بابائے ملایشیا تنکو عبدالرحمان سے اختلافات کی وجہ سے مہاتیر محمد کو 1959 میں پارٹی سے نکال دیا گیا۔ملائیشیا کے دوسرے وزیراعظم عبدالرزاق انھیں دوبارہ پارٹی میں لے آئے اور یہیں سے مہاتیر محمد کی سیاسی کامیابیوں کا سفر شروع ہوا۔1964 میں پہلی بار پارلیمنٹ کے رکن منتخب ہوئے، 1974 میں ملایشیا کے وزیر تعلیم مقرر ہوئے، 1976 میں نائب وزیر اعظم، 1978 میں وزیر صنعت و تجارت بنے۔16 جولائی 1981 کو مہاتیر محمد نے ملائیشیا کے چوتھے وزیراعظم کی حیثیت سے حلف اٹھایا۔مہاتیر کی پالیسیوں سے ملایشیا ایک پسماندہ

ملک سے ایشن ٹائیگر بن گیا۔اکتوبر 2003 میں وزارتِ عظمی سے دستبرداری کے بعد مہاتیر محمد نے سیاست سے کنارہ کشی اختیار کر لی تھی۔2016 میں مہاتیر محمد ایک بار سیاست کے میدان میں آئے اور اپنی نئی جماعت PPBM بنائی، دیگر ہم خیال جماعتوں سے انتخابی اتحاد کیا اور اس جماعت کو شکست دی جس میں رہتے ہوئے وہ خود دو دہائیوں تک وزیر اعظم رہے۔