آزاد کشمیر : آن لائن بلنگ ادارہ MTBC کی پالیسیاں آزاد حکومت کیلئے بڑاچیلنج

اسلام آباد (آن لائن)آزاد کشمیر کے آن لائن بلنگ ادارہ MTBC کی پالیسیاں آزاد کشمیر حکومت کے لئے بڑاچیلنج۔ہزاروں افراد کی جانیں داو پر لگا دی گئیں۔ کورونا وائرس خطرے کے پیش نظر آزاد کشمیر حکومت کے اقدامات اور احکامات ماننے کی بجائے ادارہ بدستور کام جاری رکھے ہوئے ہے۔انتظامیہ باغ کی طرف سے کئے گئے انتظامات اور اقدامات کو نظر اندازکرتے ہوئے آن لائن بلنگ کے لئے سینکڑوں نوجوان ایک وقت میں ایک ہی چھت تلے کام کر رہے ہیں۔ کورونا وائرس خطرے کے پیش نظر ادارہ ملازمین کو سوشل میڈیا پر احتیاطی تدابیر کے حوالے سے بیان دینے پر ملازمت سے فارغ کر دیا گیا تفصیلات کے مطابق آزاد

کشمیر کی واحد آن لائن بلنگ کی کمپنی MTBC نے کورونا وائرس کے خطرے کے پیش نظر کئے جانے والے آزاد کشمیر حکومت کے احکامات کو ماننے سے انکار کر دیا ہے جبکہ انتظامیہ کی طرف سے کئے جانے والے اقدامات کو بھی چیلنج کر دیاہے۔ادارہ MTBC میں 1300 سے زائد افراد زیرِ ملازمت ہیں جبکہ ان سینکروں ملازمین سے منسلک سینکروں خاندانوں کی جانیں اس وقت خطرے میں ہیں ملازمین مختلف اوقات میں چوبیس گھنٹے اس ادارے میں کام کر رہے ہیں تو وہیں ایک ایک کمرے میں سو سے زائد ملازمین بیک وقت کام کرتے ہیں –دوسری جانب آزاد کشمیر بھر کے تعلیمی ادارے حکومتی احکامات کے مطابق بند کر دئے گئے جبکہ سرکاری محکموں میں بھی سرگرمیاں محدود کر دی گیئں باغ میں آن لائن بلنگ کے ادارہ MTBC نے آزادکشمیر میں نافذ ہیلتھ ایمرجنسی اور ضلعی انتظامیہ کی طرف سے جاری کردہ احکامات ماننے سے انکارتو کر دیا مگر باغ میں آن لائن بلنگ کے ادارے میں سینکڑوں ملازمین بدستور ادارے کی طرف سے جاری کردہ اوقات کے مطابق 127 سے 130 روپے فی گھنٹہ کے عوض آن لائن بلنگ کر رہے ہیں جس سے کورونا کے خطرے کے پیش نظر انتظامیہ کی طرف سے کئے جانے والے انتظامات اور اقدامات کو نظر انداز کیا جا رہا ہے جبکہ ادارہ ایم ٹی بی سی نے دوسری جانب سینکڑوں ملازمین کا استحصال بھی جاری رکھا ہوا ہے۔ احتیاطی تدابیر کے حوالے سے ادارے کے ملازمین کو سوشل میڈیا پر اپنی رائے دینے پر کو ملازمت سے فارغ کردیاہے۔آزاد کشمیر بھر میں پر ہجوم دفاتر کی سرگرمیاں محدود ہونے کے باوجود ایم ٹی بی سی باغ کوچلائے رکھنے میں انتظامیہ کی ملی بھگت کا انکشاف بھی ہوا ہے -ایم ٹی بی سی حکام نے ضلعی انتظامیہ کے کچھ سرکردہ افسران کے ساتھ معاملات طے کر رکھے ہیں ۔