سکھر، قرنطینہ سینٹرمیں ڈیوٹی کرنیوالے ڈاکٹر میں کوروناکاشکار ہوگئے

سکھر(نیوز ڈیسک) سکھر میں موجود قرنطینہ سینٹر میں ڈیوٹی دینےوالے ڈاکٹر زین العابدین میں بھی کورونا وائرس کی تصدیق ہو گئی ہے۔ اسی سلسلے میں ویڈیو پیغام جاری کرتےہوئے نوجوان ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ میں ایک سرکاری ڈاکٹر ہوں اور ہم گزشتہ کچھ دنوں سے زائرین کےلئے صبح شام کام کر رہے تھے، اسی دوران مجھ میں کورونا وائرس کی تصدیق ہو گئی ہے جس کے بعد میں نے خود کو آئسولیشن میںمنتقل کر دیا ہے۔بات کرتے ہوئے ان کا مزید کہنا تھا کہ میری عوام سے درخواست ہے کہ وہ اس مشکل وقت میں ہماری حکومت اور ڈاکٹروں کا ساتھ دیں کیونکہ اس وقت ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کی ضرورت ہے،

اس کے علاوہ ہمارے پاس کوئی حل نہیں ہے، اور جتنا ممکن ہو سکے خود کو 14 دنوں کے لئے آئسولیشن میں رکھیں ، کیونکہ یہی واحد حل ہے جس سے ہم اس مرض کو مزید پھیلنے سے روک سکتے ہیں۔لوگوں کو باہر نکلنے سے منع کرنے کے لئے ہی اس وقت ملک کے چاروں صوبوں میں مکمل لاک ڈاؤں کر دیا گیا ہے جس کے بعد فوج تعینات کر دی گئی ہے تا کہ لوگ باہر نکلنے سے اجتناب کریں۔ حکومت کی جانب سے ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے کہ وائرس کو مزید پھیلنے سے روکا جا سکے۔یاد رہے پاکستان میں ابھی تک 972 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہو گئی ہے جس کے بعد اب تک 7 افراد اس کی وجہ سے ہلاک ہو چکے ہیں۔حکومت کی جانب سے کوشش کی جا رہی ہے کہ وائرس کو مزید پھیلنے سے روکاجائے، اس حوالےسے حکو مت کی جانب سے حفاظتی اداروں سے مدد مانگی گئی تھی۔ اس سے علاوہ ڈاکٹروں سے بھی امید کی گئی تھی کہ وہ اس مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیں گے اور انہوں نے دن رات پاکستان کے لئے کام کیا ہے اور اسی میں مصروف ہیں۔ ا س سے پہلے بھی کورونا وائرس کے مریضوں کا علاج کرتے ہوئے گلگت بلتستان سے ڈاکٹر اسامہ جان کی بازی ہا ر گیا تھا۔اب سکھر میں موجود قرنطینہ سینٹر میں ڈیوٹی دینےوالے ڈاکٹر زین العابدین میں بھی کورونا وائرس کی تصدیق ہو گئی ہے۔ اسی سلسلے میں ویڈیو پیغام جاری کرتےہوئے نوجوان ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ میں ایک سرکاری ڈاکٹر ہوں اور ہم گزشتہ کچھ دنوں سے زائرین کےلئے صبح شام کام کر رہے تھے، اسی دوران مجھ میں کورونا وائرس کی تصدیق ہو گئی ہے جس کے بعد میں نے خود کو آئسولیشن میںمنتقل کر دیا ہے۔