یکم اپریل سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 15روپے فی لیٹر کمی کا مطالبہ

لاہور(نیوز ڈیسک) مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنماء اور سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ حکومت یکم اپریل سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 15روپے فی لیٹر کمی کرے، شرح سود کو 11سے کم کرکے 9 فیصد اور روپے کی قدر کو مستحکم کرنا چاہیے، تاکہ موجودہ بحران میں معیشت کو سنبھالا دیا جاسکے۔ انہوں نے حکومت کو اپنی تجاویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ بحران اور عوامی مشکلات کم کرنے کیلئے وفاقی حکومت کاکورونا ریلیف پیکج ناکافی ہے۔موجودہ حالات میں سمجھتا ہوں کہ حکومت کو شرح سود کو کم کرکے 11سے 9 فیصد کرنا چاہیے۔ دوسرا کام یہ کرنا چاہیے کہ یکم اپریل کو تمام پٹرولیم مصنوعات کی

قیمتوں میں 15 روپے فی لیٹر کمی کریں۔تیسرا یہ ہے کہ روپے کو مستحکم رکھا جائے اسی طرح چوتھے نمبر پر منافع خوری اورذخیرہ اندوزی کی وجہ سے اشیاء کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں۔حکومت کو چاہیے کہ اپنی رٹ استعمال کرے۔اشیاء اور ادویات کی قیمتوں کوکنٹرول کرے۔ حکومت کا فرض ہے کہ وہ ان چیزوں کو یقینی بنائے ۔ واضح رہے وزیر اعظم عمران خان نے کورونا وائرس سے متعلق ریلیف پیکج کی منظوری دے دی ہے۔ امدادی رقم کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کو ریلیف فراہم کرنے کیلئے خرچ ہوگی جبکہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں فی لیٹر 15 روپے کمی کی منظوری بھی دیدی گئی ۔وزارت خزانہ کے اعلامیہ کے مطابق وزیراعظم نے کورونا وائرس سے متعلق ریلیف پیکیج کی منظوری دیدی ہے۔ اعلامیہ میں جاری تفصیلات کے مطابق امدادی پیکیج کا مقصد کوروانا وبا سے متاثرہ افرادکو ریلیف دینا ہے۔ مزدوروں اور یومیہ اجرت پرکام کرنے والوں کیلئے 200 ارب روپے کی منظوری دی گئی ہے۔صنعتوں اور برآمدی شعبے کیلئے 100ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ٹیکس ریفنڈ کیاجرا سمیت قرضوں اور سود کی ادائیگی میں سہولت کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔ زراعت اور ایس ایم ای کیلئے 100 ارب روپے کے ریلیف کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔ شدید متاثرہ خاندانوں کیلئے 144 ارب روپے کے ریلیف کا اعلان ہے۔ ایک کروڑ 20 لاکھ مستحق خاندانوں کو 4 ماہ تک رقم فراہم کی جائے گی۔ یوٹیلیٹی اسٹورز کیلئے 50 ارب، پناہ گاہوں کیلئے 6 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔گندم کی خریداری کیلئے 280 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ پٹرول، ڈیزل، مٹی کاٹیل، لائٹ ڈیزل میں 15 روپے فی لیٹر کمی کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔ عوام سے 2 ہزار روپے تک گیس کے بلز 3 ماہ کی آسان اقساط میں لیے جائیں گے۔انرجی فنڈز کیلئے 100ارب اور این ڈی ایم اے کیلئے 25 ارب روپے کئے گئے ہیں۔