کورونا سے بچے بھوک سے مر گئے ۔۔۔تحریر: ہمایوں رشید

اسلام آباد کے شہری کرونا جیسی بیماری سے خوفزدہ ہوکر اپنے گھروں میں محصور ہوکر رہ گئے ہیں تو بھوک پیاس نے بھی گھروں میں ڈیرے ڈال لیے ہیں، جہاں بڑے بڑے بزنس مین کاروبار بند ہونے سے انتہائی پریشان ہیں وہیں ایک مزدور، ایک دیہاڑی دار بھی بے حال ہے، کچی آبادیوں میں رہنے والوں پر کیا گزررہی ہوگی کاش حکومت کو اس کا احساس ہوتا، شہری بھوک پیاس سے بلبلا رہے ہیں، نہ یہ حکومت راشن دے رہی ہے اور نہ ہی کوئی مالی امداد کر رہی ہے ، بس شہریوں کو تسلی دے رہی ہے، غریب کے گھر مایوسیوں کے سائے گہرے ہورہے ہیں، غریب سوچ رہے ہیں اگر وہ کرونا جیسی مہلک

وبا سے بچ بھی گئے تو بھوک مار ڈالے گی، عوامی تکلیف سے بے خبر حکمران اپنی سیاسی سرگرمیوں میں مصروف ہیں،اقتدار کی غلام گردشوں میں اقتدار کا نیا کھیل جاری ہے، کورونا جیسا وائرس بھی حکمرانوں کے دل میں خوف نہیں ڈال سکا، وزیراعظم صاحب بھی پیاروں کو وزارتیں دینے میں مصروف ہیں ، بابر اعوان دوبارہ کابینہ کا حصہ بن گئے، وہ ایک وقت میں اسلام آباد سے الیکشن لڑ چکے ہیں، انہیں گلی محلوں تک کا پتہ ہے، دوسری طرف اسد عمر جو کہ وزیر منصوبہ بندی ہیں دوسری بار اسلام آباد سے چیت چکے ہیں لیکن ووٹ لینے کیلئے ووٹر کی پرچی ایک روز قبل ووٹر کے گھر تو پہنچ سکتی ہے لیکن امداد کیلئے حکومت لمبے چوڑے پراسس میں پڑ گئی ہے ، میں نے عوامی مسائل سے آگاہ کرنے کے لیے جب مدینہ کی ریاست کے دعویدار حکومت کے نمائندے اور عوام کے ووٹ سے اسمبلی میں آئے لیڈران علی نواز اعوان معاون خصوصی برائے سی۔ڈی۔اے میاں فرخ حبیب ایم این اے اور ترجمان پنجاب حکومت عثمان سعید بسرا سے بات کرنے کی کوشش کی تو انہوں نے فون اٹھانا ہی گوارا نہیں کیا، کسی نے اگر فون اٹھایا وہ اس بات سے بے خبر تھا کہ حکومتی امداد عوام تک پہنچنے میں کتنا وقت لگے گا، غریب عوام حسرت و یاس کی تصویر بنی یہی سوچ رہی ہے کہ کورونا سے بچ بھی گئے تو کہیں بھوک سے نہ مرجائیں۔