ہم تین بھائی بھائی:ڈاکٹرز،پولیس،اور میڈیا۔۔۔ تحریر: ہمایوں رشید

جہاں دنیا کے تمام ممالک کورونا سے بری طرح متاثر ہیں وہیں ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل سٹاف دنیا بھر میں اس مہلک مرض کیخلاف برسر پیکار ہے،ایسے حالات میں صرف ڈاکٹرز ہی نہیں قانون نافظ کرنے والے ادارے خاص طور پر پولیس اور صحافی بھی فرنٹ لائنرز کا کردار ادا کررہے ہیں ،ملک عزیز میں بھی ڈاکٹرز پیرا میڈیکل سٹاف اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر اپنی عوام محفوظ رکھنے کیلئے پیش پیش ہیں، کورونا سے چاہے کتنا ہی خطرہ ہو،پولیس اور قانون نافظ کرنے والے ادارے شاہراوں پر ہیں تاکہ شہریوں کو اس مہلک مرض سے محفوظ رکھا جاسکے، میڈیا نمائندگان بھی عوام کو لمہ با لمہ باخبررکھنے کیلئے

فیلڈ میں موجود ہیں، آباد میں دو بڑے سرکاری ہسپتال ہیں جہاں کورونا سے لڑنے کے لیے ہمارے مسیحا ہمہ وقت تیار رہتے ہیں،یہ ان محدود وسائل کے ساتھ بھی سب سے خطرناک سمجھے جانے والے آئیسولیشن وارڈز میں خدمات انجام دے رہے ہیں، ناکافی سہولیات کی وجہ سے کئی ڈاکٹرز بھی اس مہلک مرض کا شکار ہوگئے ہیں لیکن ان کے جذبے کو سرخ سلام ہے، ہمارے فیلڈ کے دوسرے بڑے بھائی قانون نافظ کرنے والے ادارے بالخصوص پولیس اہلکار کمال کے زندہ دل لوگ ہیں، کبھی کبھی حیرت بی ہوتی ہے تو کبھی پریشانی بھی ہوتی ہے ،ہر انسان اپنی آزادی اظہار خیال کا حق رکھتا ہے، ہم اپنے ہی خیالوں میں اپنی دنیا بساتے ہیں ،حیرت اس لیے ہوتی ہے کہ اتنے کم وسائل میں یہ لوگ اتنی بھاگ دوڑ کرتے ہیں، دفع 144 پر عمل درآمد میں انہیں کتنی مشکل پیش آتی ہے، ناکون پر گھنٹوں گھنٹوں کھڑے ہر آنے والے سے باہر نکلنے کی وجہ پوچھتے ہیں، گاڑیوں کے قریب ہوکر انہں لوگوں سے پوچھنا پڑتا ہے، انہیں سادہ ماسک دیے گئے ہیں ، بڑی شخصیات این ۹۵ ماسک پہن کر پھرتی ہیں، لیکن پھر بھی یہ نہیں گھبراتے، ان کے جذبے جوان ہیں، صبح ہو شام ہو یہ علاقے میں گشت کرتے ہیں، جمعہ کے دن مسجدوں کے باہر پہرے دیتے ہین، ہمارا تیسرا بھائی اور ہر آنکھ کا تارا میڈیا۔اس میں کوئی شک کی بات نہیں کہ ہمارے صحافی بھائی اور ویڈیو جرنلسٹ اپنی جان ھتیلی پر رکھ کر پورے ملک میں کوریج کر رہے ہیں اور اپنی عوام کو پل پل با خبر رکھتے ہیں اور اسی تلاش میں سارا دن گزار دیتے ہیں کہ شائد اس قوم کے لیے کرونا سے چھٹکارے کی کوئی خبر مل جائے خاص طور پر اس وقت میڈیا بہت ذمہ دارانہ رپورٹنگ کررہا

ہے، اللہ پاک تمام صحافیوں کو اپنے حفظ و امان میں رکھے، مگر ان سے ایک گزارش بھی ہے یہ دن بھی گزر جائے گے کرونا بھی ہار جائے گا مگر ایسا تو نہیں کہ بعد میں ہماری قوم کے اندر ایک عجیب سا خوف رہ جائے یہ قوم نفسیاتی نا بن جائے کہی ایسا تو نہیں کہ کرونا جاتے جاتے سبھی رشتہ بھی ساتھ لے جائے۔اس لیے گزارش ہے کہ خبر بریک سے پہلے دیکھ لیں، تصدیق کرلیں، سنسنی سے گریز کریں، الفاظ کے چناو میں احتیاط برتیں، اللہ سب کو اپنی حفظ و امان میں رکھے، آمین