زمین پر اترے بغیر مسلسل 10 ماہ تک اڑنے والا پرندہ

لندن(نیوز ڈیسک) ماہرین کا ایک عرصے سے خیال تھا کہ بعض پرندے مسلسل کئی ماہ تک فضا میں پرواز کرتے رہتے ہیں اوراس دوران زمین پر نہیں اترتے۔ لیکن اب ثابت ہوگیا ہے کہ ابابیل کی طرح کا ایک پرندہ ، کامنز سوئفٹ (ایپس ایپس) میں یہ صلاحیت پائی جاتی ہے۔کامنز سوئفٹ یورپ اور ایشیا میں پایا جاتا ہے۔ درمیانی جسامت کا یہ پرندہ سال کے بیشتر وقت دورانِ پرواز رہتا ہے، بعض ڈیٹا سے ظاہر ہوا ہے کہ سال میں 10 ماہ تک یہ پرندہ مسلسل اڑتا رہتا ہے۔ یہ پرواز کے دوران ہی ہوا میں اڑنے والے چھوٹے کیڑے مکوڑے کھاتا رہتا ہے۔ اس کے علاوہ نر اور مادہ پرندے پرواز کے دوران ہی ملاپ کرتے ہیں ۔

یہاں تک کہ یہ پرندے فضا کے اندر خاص گوشوں میں پر ہلانے کی بجائے مشقت چھوڑ دیتے ہیں اور ہوا میں گلائیڈ کرتے ہوئے سوجاتے ہیں اور ہوا کے یہ گوشے ’تھرمل‘ کہلاتے ہیں۔1950 کے عشرے میں ہی بعض ماہرِ حیوانات کے ایسے پرندوں کا خیال پیش کیا تھا لیکن 2016 میں تحقیق کے بعد بغیر رکے مسلسل پرواز کرنے والے سوئفٹ کی تفصیلات سامنے آئیں۔ اس سے قبل ہم جان چکے تھے کہ فریگیٹس اور ایلپائن سوئفٹ مسلسل ایک ماہ تک اڑ سکتے ہیں۔اس تحقیق کو سوئزرلینڈ کی لیونڈ یونیورسٹی نے آگے بڑھایا ہے جن میں سوئفٹ کی 19 اقسام کو ٹریک کیا گیا۔ اس میں معلوم ہوا کہ کامنز سوئفٹ ابابیلیں 10 ماہ کی پرواز میں 99 فیصد وقت ہوا میں گزارتی ہیں لیکن ان کا خیال ہے کہ اس دوران وہ نسل خیزی نہیں کرتیں۔تحقیق میں شامل ایک سائنسداں اینڈرز ہینڈنسٹروئم نے کہا ہے کہ پرندہ پرواز کے دوران نیند بھی لیتا ہے لیکن اس کی زیادہ تفصیلات نہیں مل سکی ہیں۔ شاید خیال ہے کہ یہ فریگیٹ اور ایلپائن سوئفٹ کی طرح اڑتے دوران نیند پوری کرتا ہے۔ اس پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔کامن سوئفٹ ابابیل کی جسمانی ساخت کو دیکھیں تو ان کے بازو تنگ اور طویل ہوتے ہیں۔ ان کے پیر مضبوط لیکن چھوٹے اور ہلکے ہوتے ہیں۔ قدرت نے اس پرندے کی ساخت بھی ایئروڈائنامکس اصولوں کے تحت بنائی ہے۔ چھ ماہ تک ان کے پر بہت سستی سے جھڑتے ہیں اس طرح اڑتے دوران پر اور بازو کسی بھی طرح ٹوٹ پھوٹ کے شکار نہیں ہوتے ۔یہ پرندے فضا میں طویل عرصے تک رہتے ہیں اور یوں شکار نہیں بنتے اور خود زمینی بیماریوں سے بھی بچے رہتے ہیں۔ کبھی کبھی بڑے پرندے انہیں اپنا نوالہ بنالیتے ہیں۔کامن سوئفٹ ابابیل کی اوسط عمر 20 برس تک ہوتی ہے اور پوری زندگی یہ 30 لاکھ کلومیٹر کا سفر کرتے ہیں یعنی یہ فاصلہ چاند تک جانے اور واپس آنے کے برابر ہوتا ہے۔