طیارہ گرنے کا المناک سانحہ،عملے سمیت کتنے افراد جان کی بازی ہارگئے، نام سامنے آگئے

کراچی(نیوز ڈیسک)ائیر پورٹ کے قریب لاہور سے آنے والا پی آئی اے کا مسافر طیارہ گرکر تباہ ہوگیا جس کے نتیجے میں تقریباً 100 افراد جاں بحق ہوگئے۔ذرائع کے مطابق لاہور سے کراچی آنے والی قومی ائیرلائن کی پرواز ائیرپورٹ کے قریب آبادی پر گر کر تباہ ہوگئی۔ترجمان پی آئی اے نےنجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ قومی ائیرلائن کی پرواز پی کے 8303 کو لینڈنگ کے وقت حادثہ پیش آیا اور طیارہ 2 بجکر 37 منٹ پر تباہ ہوگیا۔ترجمان نے بتایا کہ طیارہ زیادہ پرانا نہیں تھا اور اس کی عمر تقریباً 10 سے 11 سال تھی اور طیارہ مکمل مینٹین تھا لہٰذا تکنیکی خرابی کے بارے میں کچھ کہنا قبل ازوقت ہوگا۔

ذرائع کا بتانا ہےکہ سول ایوی ایشن نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ پی آئی اے کی پرواز 8303 کا لینڈنگ سے ایک منٹ قبل کا ائیرٹریفک کنٹرول سے رابطہ منقطع ہوگیا تھا۔پائلٹ کے کیپٹن اور ٹریفک کنٹرول ٹاور کے درمیان آخری رابطے کی آڈیو ریکارڈنگ بھی سامنے آئی جس میں طیارے کے پائلٹ نے ایک انجن فیل ہونےکی اطلاع دی اور مے ڈے مے ڈے کی کال دی تھی جس پر پائلٹ کو بتایا گیا کہ طیارے کی لینڈنگ کے لیے دو رن وے دستیاب ہیں جس کے بعد طیارے کا رابطہ منقطع ہوگیا۔ ذرائع سول ایوی ایشن کا کہنا ہےکہ طیارے میں فنی خرابی پیدا ہوئی تھی اور لینڈنگ سے پہلے اس کے پہیے نہیں کھل رہے تھے جس پر پرواز کو راؤنڈ اپ کا کہا گیا لیکن اس دوران جہاز آبادی پر گر گیا۔پی آئی اے نے حادثے کا شکار طیاروں کے مسافروں کی فہرست جاری کردی ہے جس کے مطابق مسافروں میں 51 مرد ،31 خواتین اور 9 بچے شامل ہیں۔طیارے میں سینئر صحافی اور چینل 24 کے پروگرامنگ ڈائریکٹر انصار نقوی بھی سوار تھے جب کہ بینک آف پنجاب کے صدر ظفر مسعودکا نام بھی طیارےکےمسافروں کی فہرست میں شامل ہے۔