ایئربس گرنے سے قبل پائلٹ نے کنٹرول روم سے کیا گفتگو کی، تفصیلات سامنے آگئیں

کراچی (نیوز ڈیسک) آج کراچی میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے جہاں پی آئی اے کا طیارہ حادثے کا شکار ہوگیا ہے۔حادثے میں سو افراد کے جاں بحق ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے تاہم سرکاری ذرائع سے اس کی تصدیق نہیں کی گئی۔اب طیارے کے پائلٹ کی کنٹرول ٹاور سے آخری گفتگو سامنے آئی ہے۔پائلٹ نے بتایا کہ انجن فیل ہوگیا ہے۔فنی خرابی پر کپتان کو گائڈ لائن دینے کے دوران طیارہ ریڈار سے غائب ہوا۔پائلٹ نے تین بار مے ڈے مے ڈے مے ڈے کہا۔پائلٹس مے ڈے کا کوڈ ورڈ ایمرجنسی کی نشاندہی کے لئے استعمال کرتے ہیں۔،کنٹرول ٹاور کے نمائندے نے کپتان کو آگاہی دی کہ رن وے تیار ہے ،

جس پر کپتان نے کہا کہ انجن فیل ہوگیا ہے، بیلی لینڈنگ کراؤں گا۔لینڈنگ سے ایک منٹ قبل طیارے کا کنٹرول ٹاور سے رابطہ منقطع ہوا۔کپتان نے کنٹرول ٹاور کو طیارے کے لینڈنگ گیئر میں خرابی کی اطلاع دی۔طیارے کے پہیے نہیں کھل رہے تھے اس لیے راؤنڈاپ کا کہا گیا۔ چیئرمین پی آئی اے کا کہنا ہے کہ پائلٹ کو بتایا گیا دونوں رن وے کلیئر ہیں لیکن پائلٹ نے فضا میں چکر کاٹنے کا فیصلہ کیا۔ کراچی ایئرپورٹ کے قریب پی آئی اے کی فلائٹ پی کے 8303 گر کر تباہ ہوگئی۔ایئربس 320 میں 107 افراد سوا تھے۔جن میں 99 مسافر اور عملے کے 8 افراد شامل ہیں۔ذرائع نے بتایا کہ طیارے کے کپتان کا نام سجاد گل ہے جب کہ عملے میں عثمان اعظم ، فرید احمد، عبدالقیوم اشرف ، ملک عرفان رفیق، عاصمہ اور مدیحہ ارم شامل ہیں۔ذرائع کے مطابق طیارہ ماڈل کالونی اور ملیر کینٹ کے قریب جناح گارڈن کے پاس آبادی پر گرا اور اس میں گرتے ہی ہولناک آگ لگ گئی، طیارہ گرنے سے علاقے میں کے الیکٹرک کی تاریں اور ٹیلی فون کی تاریں بھی مکمل طور پر تباہ ہوگئیں۔ذرائع نے بتایا کہ طیارہ گرنے سے قبل قریب موجود رہائشی عمارتوں کی چھتوں سے ٹکرایا جس سے کئی گھروں کو بھی نقصان پہنچا ہے اور گھروں کی چھتوں پر بھی آگ لگ گئی جب کہ طیارہ گرنے کے بعد علاقے میں کھڑی گاڑیوں کو آگ لگ گئی۔حادثے کے بعد رینجرز اور پولیس کی بھاری نفری جائے حادثہ پر پہنچ گئی اور علاقے کو گھیرے میں لے لیا جب کہ آگ بجھانے کے لیے فائر بریگیڈ کا عملہ بھی پہنچ چکا ہے اور شہر بھر سے فائر ٹینڈرز طلب کرلیے گئے۔جائے حادثہ پر ریسکیو آپریشن جاری ہے اور جہاز کے ملبے سے ایک 5 سالہ بچے اور ایک شخص کی لاش نکال لی گئی ہے جب کہ رش کے باعث امدادی کارروائیوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔