بدقسمت طیارے کے کپتان سجاد گل کا 17ہزار گھنٹے سے زائد فلائٹ کا تجربہ تھا

کراچی(نیوز ڈیسک)کراچی میں گر کر تباہ ہونے والے بدقسمت طیارے کا کپتان سجاد گل انتہائی تجربہ کار پائلٹ تھا، سجاد گل کا 17 ہزار گھنٹے سے زائد فلائٹ کا تجربہ تھا، جبکہ اے 320ایئربس چلانے میں ان کا کوئی ثانی پائلٹ نہیں تھا۔ جہاز کے کپتان کا 17 ہزار گھنٹے سے زائد فلائٹ کرنے کا تجربہ ہے، جس میں پی آئی اے کے طیارے ایئربس320 پرتقریباً 7ہزار گھنٹے فلائٹ کی ہے۔گزشتہ 5 سال سے اے 320 ایئربس جہاز ہی اڑا رہے تھے۔ پائلٹ سجاد گل پاکستان انٹرنیشنل لائن کے انتہائی تجربہ کار کپتان مجھے جاتے تھے، اے 320 ایئربس چلانے میں ان کا کوئی ثانی پائلٹ نہیں تھا۔ کہا جا رہا ہے کہ شاید طیارہ

کپتان کے اس وقت کنٹرول میں نہیں رہا، جب ان کے پاس بالکل بچنے کا مارجن ہی نہیں تھا۔کیونکہ طیارہ جس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے اس کو فنی خرابی اور دونوں انجن فیل ہونے کے بعد بھی گلائیڈ کیا جاسکتا، لیکن شاید طیارہ آبادی کے اس قدر اوپر تھا کہ کپتان کو آبادی سے تھوڑا دور لے جانے کا بھی موقع نہیں ملا۔پائلٹ سجاد گل کا تعلق لاہور سے تھا، وہ ڈیفنس زیڈ بلاک کے رہائشی تھے۔ مرحوم کیپٹن نے سوگواران میں بیوی اور 4 بچے چھوڑے ہیں۔ حادثے کی اطلاع ملتے ہی کیپٹن کے عزیز و اقارب اور اہل علاقہ رہائشگاہ غم سے نڈھال ہوگئے۔ ترجمان پی آئی اے عبداللہ نے طیارے سے متعلق بتایا کہ طیارہ زیادہ پرانا نہیں تھا، طیارے کی عمر 10 سے 12 سال تھی۔ دوسری جانب ایوی ایشن حکام کو طیارہ حادثے کی ابتدائی رپورٹ دے دی گئی۔جس سے معلوم ہوا ہے کہ ابتدائی رپورٹ کیمطابق طیارہ لینڈنگ گیئرجام ہونے کے بعد پرندوں سے بھی ٹکرایا۔ رپورٹ کے مطابق لینڈنگ گیئر خراب ہونے پرپائلٹ طیارے کو لینڈنگ کیلئے نیچے لائے۔ ابتدائی رپورٹ کے مطابق اسی دوران طیارے کے دونوں انجن جزوی طور پربند ہوگئے۔ رپورٹ کے مطابق اس دوران بدقسمت طیارے سے ایک سے زیادہ پرندے ٹکرا گئے۔ رپورٹ کے مطابق انجنوں سے کم طاقت ملنے کے سبب جہاز کی بلندی انتہائی کم ہوتی گئی۔ کچھ ہی دیر میں جہاز اپنی بلندی برقرار نہ رکھ سکا۔ اس موقع پرپائلٹ نے مے ڈے مے ڈے کی کال بھی دی تھی۔ لیکن طیارہ رن وے پر پہنچنے سے پہلے ہی آبادی والے علاقے میں مکانات سے ٹکرا گیا۔ جس وقت طیارہ مکانات کی بالائی منزل سے ٹکرایا اس وقت وہ گلائیڈ کر رہا تھا۔